پیغام رسانی کی تاریخ میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں۔ ہزاروں برسوں پر محیط اس سفر میں موجودہ صدی کی پہلی دو دہائیاں رفتار، جدت اور اختراع کے حوالے سے زیادہ اہم ثابت ہوئی ہیں۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے “کاپر وائر” کو آپٹک فائبر سے بدلتے ہوئے دیکھا، پھر تھری جی، فور جی اور اب فائیو جی کے کمالات دیکھ رہے ہیں۔ اس ترقیاتی جست نے حقیقی معنوں میں فاصلوں کو سمیٹ دیا ہے۔
فائیو جی ٹیکنالوجی کی آمد نے بہت سے شعبوں میں انقلاب برپا کردیا ہے۔ ماضی کی مواصلاتی ٹیکنالوجی آج کی صنعتی ٹیکنالوجی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ آج انٹرنیٹ آف تھنگز، بگ ڈیٹا اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ جیسی اختراعات تیز رفتار انٹرنیٹ کی مرہون منت ہیں۔ حالیہ برسوں میں چین میں صنعتی انٹرنیٹ نے بھی تیز رفتار ترقی ہے۔ صنعتی انٹرنیٹ کی فعالیت اور قبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بڑے بڑے کاروباری اور صنعتی ادارے اپنے پیداواری ڈھانچے کی تشکیل نو کر رہے ہیں۔چین بھر میں دوہزار چار سو فائیو جی پلس صنعتی انٹرنیٹ منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ یہ منصوبے آنے والے دنوں میں چین کو اعلیٰ معیاری ترقی کے نئے دور میں داخل کریں گے۔
چین کی مواصلاتی شعبے میں تیز رفتار ترقی کی بات کریں تو گزشتہ دس سالوں میں چین کا انفارمیشن اور کمیونیکیشن انڈسٹری کا بنیادی ڈھانچہ پہلے “کاپر وائر” سے آپٹیکل فائبر میں اور پھر 3G سے 5G کمرشل میں تبدیل ہو گیا ہے۔ چین کی جامع صلاحیتوں نے بے مثال کامیابیاں اپنے نام کیں اور دنیا کا سب سے بڑا اور تکنیکی طور پر جدید نیٹ ورک انفراسٹرکچر قائم کیا ۔ کلیدی بنیادی ٹیکنالوجیز میں پیش رفت کو تیز کیا ، اور ٹیکنالوجی کی صنعتی طاقت کو نمایاں طور پر بڑھایا ۔ اختراعی ایپلی کیشنز نے بیک وقت کھپت اور پیداوار کے میدان نئی کامیابیاں رقم کیں اور دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ فعال ڈیجیٹل سروسز مارکیٹ کی تشکیل دی۔ پچھلے دس سالوں میں، چین کی معلوماتی خدمات زیادہ اعلیٰ معیار اور کم لاگت والی ہو گئی ہیں، اور ڈیجیٹل سہولیات نے جامع قبولیت حاصل کی ہے۔ چین نہ صرف نئی کمیونکیشن ٹیکنالوجیز تیار کرنے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے بلکہ ان ٹیکنالوجیز کا سب سے بڑا صارف ملک بھی ہے۔
آج ماضی کے جھروکوں میں دیکھیں تو موجود ترقی طلسماتی دکھائی دیتی ہے۔ گھوڑوں اور کبوتروں کے ذریعے شروع ہونے والا یہ پیغام رسانی کا سفر آج کہیں سے کہیں جا پہنچا ہے۔ شروع شروع میں انسان نے میلوں دور پیغامات اور خط و خطابت پہنچانے کے لیے گھوڑوں کا استعمال کیا۔ پھر تھوڑی جدت آئی تو کبوتر کو پیغامِ رسانی کے لیے استعمال کیا جانے لگا جو میلوں دور پیغامات چند منٹوں میں پہنچانے لگا۔ وقت گزرتا گیا، انسان ترقی کرتا گیا، خط و کتابت اور پیغامات بڑھنے لگے تو حالات کا جائزہ لیتے ہوئے محکمہ ڈاک قائم ہوا جو صدیوں تک خط و کتابت اور پیغامات کو ارسال کرنے کے لیے استعمال ہوتا رہا۔ لوگ اسے خیرو عافیت پوچھنے کے لیے بھی استعمال کرتے رہے اور تحفے تحائف بھیجنے کے لیے بھی۔ پھر وقت نے انگڑائی لی اور ٹیکنالوجی نے ترقی کی تو فیکس کا دور آیا جس نے پیغام رسانی میں اور زیادہ آسانی کر دی۔ ٹیکنالوجی نے یہیں پر ہی دم نہیں لیا بلکہ اور زیادہ ترقی کی تو ای میل کا زمانہ آیا جس کے ذریعے سے پیغامات، آواز، تصاویر اور ویڈیوز دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں صرف چند سیکنڈز میں ہی پہنچنے لگے جو آج تک استعمال کیا جارہا ہے۔ ٹیکنالوجی نے مزید کروٹ لی تو پرنٹ، الیکٹرانک، سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا نے جنم لیا جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور پل بھر کی خبر آنکھ جھپکنے سے پہلے ہی دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں پہنچنے لگی۔ پیغام رسانی میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کا ایک اہم کردار ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کر دوسروں سے خیرو عافیت بھی دریافت کر سکتے ہیں اور دوسروں کو اپنی روز مرہ کی سرگرمیوں سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں۔
سال 2020 میں چین میں فائیو جی نیٹ ورک کی تنصیب اور استعمال میں بے مثال کامیابیاں رقم ہوئیں۔ اب تک چین میں مجموعی طور پر سولہ لاکھ سے زائد فائیو جی بیس اسٹیشن تعمیر ہو چکے ہیں۔ چین میں اس وقت چار سو تیرہ ملین سے زیادہ فائیو جی موبائل فون صارفین موجود ہیں۔ چین میں شہروں سے لے کر دور دراز دیہات تک فائیو جی نیٹ ورک کی کوریج موجود ہے ۔













