گوہر نایاب سید شہوار حیدر کی یاد میں۔ زبیر بشیر

0
176

30 اپریل کادن لاہور کے ادبی اور صحافتی حلقوں میں” یوم شہوار حیدر ” معلوم ہورہا تھا ۔ یہ محض اتفاق تھا یا اللہ رب العزت نے اس دن کا شہوار صاحب کے اجر میں اضافے کے لئے منتخب کرلیا تھا صبح کے وقت ریڈیو پاکستان لاہور کے زیرِ اہتمام ان کی گرانقدر خدمات کے اعتراف میں نورجہاں آڈیٹوریم میں خصوصی تعزیتی ریفرنس ’’بیادِ شہوار حیدر‘‘ منعقد ہوا۔ سہ پہر ان کے اہل خانہ نے شب برات کی مناسبت کے ایصال ثواب کی تقریب کا اہتمام کیا اور شام میں نعت کونسل لاہور کے چیئر مین جناب سرورحسین نقشبندی نے ادبی بیٹھک الحمرا ہال لاہور میں تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کیا۔
ریڈیو پاکستان کے زیرِ اہتمام منعقدہ تعزیتی ریفرنس کی ردواد عالمی اخبار کے قارئین پڑھ چکے ہیں نعت کونسل کے زیرِ اہتمام منعقدہ ریفرنس کی روداد اور تصاویر قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہیں۔
یہ تقریب وطن عزیز کے نامور نوجوان نعت گو شاعر ، نعت خوان ، منفرد انداز رکھنے والے ٹی وی ریڈیو میزبان اور نعت کونسل کے چئیرمین جناب سرور حسین نقشبندی کی کاوشوں سے ادبی بیٹھک الحمرا ہال لاہور میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں میزبانی کے فرائض جناب سرور حسین نقشبندی نے خود سر انجام دئیے۔

shahwar haider1

تقریب میں جناب اختر قریشی، جناب مرغوب احمد ہمدانی اور جناب محبوب احمد ہمدانی، جناب پروفیسر ناصر بشیر، جناب اعجاز فیروز اعجاز، جناب علی اصغر عباس، جناب سید ناظر کاظمی،جناب نجیب احمد ، زبیر بشیر اور جناب مصطفی کمال کے علاوہ نعت کوئی سے منسلک دیگر احباب نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف شاعر پروفیسرناصر بشیر نے سید شہوار حیدر کے ساتھ بیتے پلوں پر روشنی ڈالی اُن کا کہنا تھا کہ شاہ صاحب نے انہیں اپنے بچوں کی طرح پیار دیا وہ ریڈیو آمد پر ہمیشہ ان کا پرتپاک استقبال کرتے تھے۔نا صر بشیر نے مزید کہا کہ شہوار حیدر مشرقی روایات کے حقیقی امین تھے وہ دنیا سے رخصت نہیں ہوئے ایک ادب شناسائی کا ایک عہد رخصت ہو گیا ہے۔

حافظ مرغوب احمد ہمدانی نے کہا کہ آج کے عہد میں شہوار حیدر ریڈیو پاکستان کی روایات کو زندہ رکھے ہوئے تھا۔ میں جب بھی ان سے ملنے گیا وہ نہایت ادب و احترام کے ساتھ مجھ سے ملے۔ انہوں نے کہا وہ گذشتہ پچاس برس سے ریڈیو پاکستان کے ساتھ منسلک ہیں انہوں نے بہت بڑے بڑے لوگوں کے ساتھ کام کیا لیکن شہوار حیدر جیسا بڑا پروفیشنل اور عظیم انسان کوئی اور نہیں تھا۔
جناب محبوب احمد ہمدانی کا کہنا تھا کہ سید شہوار حیدر نے ریڈیو آنے والوں کو جو عزت اور احترام دیا وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ میں مدینہ منورہ میں تھا جب میرے بیٹے نے مجھے فون کر کے اطلاع دی کے شہوار صاحب کے حق میں دعا کریں میں سمجھا وہ بیمار ہیں پھر تھوڑی دیر بعد فون آیا کہ شہوار حیدر صاحب ہم میں نہیں رہے۔ ہمدانی صاحب کہتے ہیں میرے لئے یہ ایک ایسی خبر تھی جس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ میں آج تک یقین نہیں کر پا رہا شہوار حیدر ہم میں نہیں رہے۔

shahwar haider2

تقریب کے میزبان سرور حسین نقشبندی تقریب کے دوران مسلسل شہوار صاحب کے ساتھ اپنے بیتے ہوئے وقت کو سامعین اور حاضرین کے گوش گذار کرتے رہے۔ انہوں نے کہا شہوار حیدر چھوٹے بڑے سبھی کی یکساں عزت افزائی کرتے تھے ۔ وہ دوسروں کو احترام دینے کا فن جانتے تھے۔ تعریف اور حوصلہ افزائی کرنے میں ہمیشہ فراخ دلی کا مظاہرہ فرماتے تھے۔ میں جب بھی ریڈیو پاکستان آتا ان کی خدمت میں ضرور حاضر ہوتا۔ سرور حسین نقشبندی نے ریڈیو پاکستان لاہور کے مقبول ترین نعتیہ سلسلے “بحضور سرورِ سروراں” کے آغاز اور کامیابی سے جاری رہنے کو شہوار صاحب کی شبانہ روز کاوشوں کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا جس محبت کے ساتھ شہوار بھائی نے یہ سلسلہ شروع کیا اور پھر جاری رکھا انشااللہ یہ ان کی بخشش کا باعث بنے گا۔
معروف شاعر اعجاز فیروز اعجاز نے کہا ان کی شہوار حیدر صاحب سے شناسائی تیس سال سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ اس دوران میں نے انہیں محبت اور احترام کرنے والا پایا۔ انہوں نے میر کئی کلام ریڈیو پاکستان کے لئے ریکارڈ کئے لیکن وہ کبھی بھی معیار پر سمجھوتا نہیں کرتے تھے۔ اعجاز نے مزید کہا کہ شہوار صاحب کے انتقال سے لیکر آج دن تک میں ہروقت انہیں کے خیال میں ہوں۔ کل ان کی خدمات کے اعتراف میں ایک کالم تحریر کیا اور آج مسلسل دوسرے تعزیتی ریفرنس میں ان کے حوالے گفتگو کر رہا ہوں۔
جناب اختر قریشی نے شہوار حیدر صاحب کو اہل بیت سے محبت کرنے والا اور نعت کی خدمت میں مصروف شخص قرار دیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شہوار صاحب ایک اچھے پروفیشنل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بلند پایہ انسان بھی تھے۔
معروف شاعر جناب نجیب احمد نے کہا کہ شہوار کا اور میرا تعلق تین دہائیوں پر محیط ہے میں ان کے کہنے پر ریڈیو پاکستان کے لئے بہت سے گیت لکھے اور شہوار صاحب نے مجھے بہت زیادہ احترام دیا۔ وہ ایک بڑے آدمی تھے اور لوگوں کی قدر کرنا جانتے تھے۔

shahwar haider3
معروف کالم نویس جناب علی اصغر عباس نے شہوار حیدر صاحب کو ایک باکردار صالح اور باعمل شخصیت قرار دیا ان کا کہنا تھا کہ آج کے نفسا نفسی کے اس دور میں وہ دوستوں کا خیال رکھنے اور ان کے دکھ درد میں شریک ہونے والے انسان تھے۔ ان کی موجودگی میں ریڈیو جانے کا دل کرتا تھا ۔ ریڈیو پاکستان نے ساتھ ہم گذشتہ چار دہائیوں سے وابستہ ہیں لیکن جو احترام ہمیں شہوار حیدر صاحب نے دیا اس کا حاطہ الفاظ میں ممکن نہیں۔
ریڈیو پاکستان کےمعروف میزبان اور لکھاری جناب سید ناظر حسین کاظمی نے سید شہوار حیدر کے شخصی اور فنی پہلووں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ شہوار حیدر صاحب جیسے لوگ نایا ب ہوتے ہیں۔ یہ جب تک موجود ہوتے ہیں ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا لیکن ان کے بچھڑتے ہی ایسا لگتا ہے کہ ہم قیمتی اثاثے سے محروم ہوگئے ہیں۔ کاظمی صاحب نے کہا کہ شہوار حیدر صاحب باکمال شخصیت تھے۔ ریڈیو پاکستان نے عملے کا ہر شخص ان کے رخصت ہونے پر اشک بار تھی۔
ایف ایم 101 لاہورریڈیو پاکستان کے انچارج اور سید شہوار حیدر کے درینہ ساتھی مصطفٰی کمال نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہوار صاحب کو تیس سال سے زائد عرصے سے جانتے تھے ۔ انہوں نے شہوار حیدر صاحب کو ہمیشہ محبت ، پیار اور احترام کرنے والا پایا وہ اپنے ساتھ وابستہ لوگوں کو ہمیشہ احترام دیتے اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے شہوار صاحب ہمیشہ اپنی فنی زندگی میں مصروف اور دین سیکھنے کی جستجو میں رہے۔ مصطفی کمال نے اپنی یادیں شئیر کرتے ہوئے مزید بتا یا کہ شہوار صاحب کی زندگی کے آخری دن کے آخری لمحات میرے ساتھ گذرے وہ کبھی شہوار صاحب کو فراموش نہیں کر پائیں گے ۔
ریڈیو پاکستان لاہور کے سینئر پروڈیوسرزبیر بشیر نے کہا کہ میں نے شہوار حیدر صاحب کو ایک بڑے بھائی اور شفیق استاد کی صورت میں پایا۔ میں آج جو کچھ بھی ہوں یہ شہوار صاحب کی راہنمائی کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے مجھے سے ہمیشہ شفقت اور محبت کو سلوک روا رکھا۔ میری دفتر کے بعد بھی ان کے گھر پر نشستیں ہوتی تھیں ۔ انہوں نے مجھے بہت زیادہ پیار اور رہنمائی دی۔ یہ ریڈیو پاکستان میں اپنی کامیابیوں کو ان کی محبت اور شفقت کا نتیجہ سمجھتا ہوں میری دعا ہے کہ اللہ پاک انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے امین۔
تقریب کے اختتام پر شہوار صاحب کے ایصال ثواب کے لئے فا تحہ خوانی کروائی گئی۔

زبیر بشیر

SHARE

LEAVE A REPLY