وائٹ کالر کرائم میں بالواسطہ طریقوں سے تفتیش ہوسکتی ہے، تفتیشی افسر

0
53

نیب کے تفتیشی افسر عمران ڈوگر نے احتساب عدالت میں کہا ہے کہ وائٹ کالر کرائم میں بالواسطہ طریقوں سے تفتیش کی جاسکتی ہے ، نواز شریف کا لندن فلیٹس سے بالواسطہ تعلق ہی بنتا ہے، نیب نے ایسی دستاویزات حاصل نہیں کیں جن سے نواز شریف کا کوئی براہ راست تعلق ثابت ہو ۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں وکیل صفائی کی جرح کے دوران تفتیشی افسر نے کہا کہ مریم نواز ، حسن نواز اور حسین نواز حدیبیہ پیپر ملز کے ڈائریکٹر اور شیئر ہولڈر تھے ، کوئین بینچ کے فیصلے کے ساتھ منسلک شیڈول میں ایون فیلڈ پراپرٹیز درج ہیں، تفتیشی افسر نے کہا کہ جے آئی ٹی نے جن 13 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے انہیں ایون فیلڈ ریفرنس میں گواہ نہیں بنایا ۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی سماعت کی ۔

نیب کے تفتیشی افسر عمران ڈوگر نے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی جر ح کے دوران کہا مریم نواز ، حسن نواز اور حسین نواز حدیبیہ پیپرز ملز کے ڈائریکٹر اور شیئرز ہولڈر تھے،کوئین بینچ کے فیصلے کے ساتھ منسلک شیڈول میں ایون فیلڈ پراپرٹیز درج ہیں، لندن میں موجودگی کے دوران لارنس ریڈلے سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی، لندن فلیٹس آف شور کمپنیوں کے ذریعے خریدے گئےاور یہ درست ہے کہ ایسی صورت میں لارنس ریڈلے کے خط میں نواز شریف یا مریم نواز کا نام ہونا یا نہ ہونا بے معنی ہوجاتا ہے۔

عمران ڈوگر نے بتایا کہ مریم، حسن اور حسین نواز نے یہ نہیں کہا کہ وہ جرمی فری مین کی سرٹیفائیڈ دستاویزات کو قبول نہیں کرتے، اس لیے جرمی فری مین اور ان کی لاء فرم کو شامل تفتیش نہیں کیا،نیب کے سامنے جرمی فری مین کی سرٹیفائیڈ دستاویزات پر ملزمان نے بھی انحصار نہیں کیا۔

گواہ نے کہا کہ نیلسن نیسکول اور کومبر کی متفرق درخواست میں لگی ٹرسٹ ڈیڈز اور جے آئی ٹی کے والیم 4میں لگی ٹرسٹ ڈیڈز کا متن ایک جیسا ہے۔

وکیل صفائی امجد پرویز نے کہا کہ یہ بات منوانے پر ڈیڑھ گھنٹہ لگ گیا کہ متن ایک جیسا ہے، گواہ عمران ڈوگر نے کہا کہ برٹش ورجن آئی لینڈ کی ایف آئی اے سے ایسی کوئی دستاویز حاصل نہیں کی جس سے نواز شریف بینیفیشل اونر، اصل مالک یا نیلسن اور نیسکول کے ڈائریکٹر یا شیئرز ہولڈر ظاہر ہوں ۔

وکیل صفائی خواجہ حارث نے کہا کیا آپ بتا سکتے ہیں جے آئی ٹی نے دوران تفتیش کتنے گواہوں کے بیانات قلمبند کیے؟ عمران ڈوگر نے کہاریکارڈ دیکھ کر بتا سکتا ہوں، پھر ریکارڈ دیکھ کر بتایا 5 ملزمان سمیت جے آئی ٹی نے 18 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے، 13 گواہوں کو ریفرنس میں گواہ نہیں بنایا۔

گواہ پر جرح کے دوران نیب پراسیکوٹر اور وکیل صفائی خواجہ حارث میں کئی بار تلخ کلامی بھی ہوئی، نیب پراسیکیوٹر نے کہا گواہ کا پورا بیان ریکارڈ پر آنے دیا جائے، آپ کی مرضی کا جواب نہیں آئے گا، خواجہ حارث کوئی تبدیلی نہ کریں، کیس کی مزید سماعت اب جمعہ کو ہو گی ، خواجہ حارث عمران ڈوگر پر جرح جاری رکھیں گے

SHARE

LEAVE A REPLY