وفاقی وزیر خارجہ کو عوامی دفتر رکھنے سے نا اہل قرار دلانے میں کامیابی کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنی توجہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنماء، وزیر ترقی و منصوبہ بندی اور وزیر داخلہ احسن اقبال کی طرف مرکوز کرلی۔

احسن اقبال کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس کے دوران خود لیا۔

پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات فواد چوہدری نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ احسن اقبال نے خود اعتراف کیا ہے کہ ان کے پاس اقامہ ہے جو ان کے مطابق منسوخ کردیا گیا تھا اور انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اقامہ ملازمت کی وجہ سے حاصل نہیں کیا گیا تھا تاہم اقامہ تو صرف ملازمت پر ہی جاری کیے جاتے ہیں اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان کا اقامہ چیلنج کریں گے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ معاملہ صرف اتنا ہے کہ قانون کے مطابق جو بھی انتخابات میں حصہ لے گا اپنے بارے میں تمام حقائق کو سامنے لانا ہوگا تاکہ ووٹر امیدوار کے بارے میں پوری طرح جان سکے تاہم انہوں نے اپنا اقامہ کو چھپایا تھا۔

انہوں نے سوال کیا کہ ایک ملک کا وزیر اقامہ کیسے رکھ سکتا ہے اور اگر ایسا بھارت میں عوام کس طرح رد عمل دے گی اگر انہیں بتایا جائے کہ ان کے وزیروں کے پاس اقامہ ہے جو انہیں سعودی عرب اور عرب امارات میں کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف کے مرکزی قائدین کا اہم اجلاس عمران خان کی زیر صدارت بنی گالہ میں ہوا جس میں ملکی مجموعی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

ترجمان تحریک انصاف فواد چوہدری کے مطابق اجلاس میں وزیر داخلہ احسن اقبال کی نااہلی کیلئے عدالت سے رجوع کرنے کی اصولی منظوری دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور خواجہ آصف کی طرح احسن اقبال کا بھی احتساب لازم ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY