اسرائیل کے 28 لڑاکا طیاروں نے شام پر حملے میں حصہ لیا ، 70 میزائل داغے: روس

0
150

روس کی وزارت دفاع نے اسرائیل کے شام پر فضائی حملے کی تفصیل جاری کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل کے 28 لڑاکا طیاروں نے شامی علاقوں پر فضائی بمباری میں حصہ لیا ہے اور انھوں نے شامی اہداف پر 70 میزائل داغے ہیں ۔

انٹر فیکس خبررساں ایجنسی کے مطابق روسی وزارت دفاع نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ اسرائیل نے 28 ایف 15 اور ایف 16 لڑاکا طیاروں کو حملے میں استعمال کیا ہے۔انھوں نے فضا سے زمین میں مار کرنے والے 60 میزائل شام کے مختلف علاقوں پر داغے تھے ۔ ان کے علا وہ 10 مزید زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل بھی داغے گئے ہیں۔

روس کا کہنا ہے کہ شام کے فضائی دفاعی نظام نے ان میں سے نصف سے زیادہ میزائلوں کو مار گرایا تھا اور باقی میزائلوں سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔

وزارت دفاع نے مزید بتایا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے دمشق کے نواح میں اور شام کے جنوبی علاقے میں ایران کے مسلح گروپوں کے ٹھکانوں اور شامی فوج کے فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیل کا کہناہے کہ بدھ کی رات اس کے زیر قبضہ گولان کی چوٹیوں پر شام سے قریباً 20 راکٹ فائر کیے گئے تھے اور اس نے ان راکٹوں کے ردعمل میں یہ فضائی حملہ کیا ہے۔اس نے ایران کی القدس فورس پر یہ راکٹ فائر کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے میزائل شکن نظام نے ان میں سے چار کو ناکارہ بنا دیا تھا اور باقی اس کے علاقے میں نہیں گرے ہیں ۔

ادھر اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جوناتھن کونری کس نے کہا ہے کہ ’’روس کو شام میں مختلف اہداف پر حملوں کے بارے میں پیشگی مطلع کردیا گیاتھا‘‘۔تاہم انھوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی ہے۔

دریں اثناء روس کے نائب وزیر دفاع میخائل بوغدانوف نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ ضبط وتحمل کا مظاہرہ کریں۔ان کا کہنا ہے کہ ماسکو کو اس پیش رفت پر تشویش لاحق ہے۔شام پر اس فضائی حملے سے ایک روز قبل ہی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ماسکو میں روسی صدر ولادی میر پوتین سے بات چیت کی تھی۔اس موقع پر روسی صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے سے دستبردار ی کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا جبکہ نیتن یاہو نے اس فیصلے کی بھرپور حمایت کی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ’’ یہ ہر ریاست کا حق اور یقینی طور پر اسرائیل کا بھی حق ہے کہ وہ ( ایرانی) جارحیت سے بچاؤ کے لیے ضروری اقدامات کرے‘‘۔

SHARE

LEAVE A REPLY