الیکشن کے انتظامات کی تفصیلات
26 کروڑ بیلٹ پیپرز
عام انتخابات کیلئے خصوصی سکیورٹی فیچرز کے حامل 26 کروڑ بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق 2018 عام انتخابات کیلئے 22 کروڑ بیلٹ پیپرز چھاپے گئے تھے اور اس پر 800 ٹن اسپیشل سکیورٹی کاغذ استعمال ہوا تھا جبکہ 2024 کے عام انتخابات کیلئے 26 کروڑ بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں جس پر 2170 ٹن کاغذ استعمال ہوا ہے۔
90 ہزار 675 پولنگ اسٹیشنز
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق ملک بھر میں عوام کے ووٹ کا حق استعمال کرنے کیلئے 90 ہزار 675 پولنگ اسٹیشنز اور 2 لاکھ 66 ہزار 398 پولنگ بوتھ قائم کئے گئے ہیں۔
ملک بھر میں عام انتخابات کے دوران جاری پولنگ کیلئے 14 لاکھ 90 ہزار انتخابی عملہ الیکشن کی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے، ہر حلقے کا غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ ریٹرننگ افسران کے دفاتر سے جاری کیا جائے گا۔
12 کروڑ 85 لاکھ 85 ہزار 760 سے زائد ووٹرز
ملک بھر میں آج 12 کروڑ 85 لاکھ 85 ہزار 760 ووٹرز ووٹ کا حق استعمال کرسکیں گے جن میں 6 کروڑ 92 لاکھ 63 ہزار 704 مرد اور 5 کروڑ 93 لاکھ 22 ہزار 56 خواتین ووٹرز ووٹ دینے کی اہل ہیں۔ مجموعی طور پر رجسٹرڈ ووٹرز میں تقریباً 54 فیصد مرد اور 46 فیصد خواتین ووٹرز شامل ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق 25 سال تک کی عمر کے 2 کروڑ 35 لاکھ 18 ہزار 371 نئے ووٹرز رجسٹر ہوئے ہیں، نئے رجسٹرڈ ووٹرز میں خواتین ووٹرز کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے ۔
الیکشن کمیشن کے مطابق پنجاب سے قومی اسمبلی کی 141 اور صوبائی اسمبلی کی 297 نشستوں پر اپنے نمائندوں کے انتخاب کیلئے 7 کروڑ 32 لاکھ 7 ہزار 896 ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔
سندھ سے قومی اسمبلی کی 61 اور صوبائی اسمبلی کی 130 نشستوں پر 2 کروڑ 69 لاکھ 94 ہزار 769 ووٹرز پسندیدہ امیدواروں کا چناؤ کریں گے۔
خیبرپختونخوا سے قومی اسمبلی کی 45 اور صوبائی اسمبلی کی 115 نشستوں پر صوبے کے 2 کروڑ 19 لاکھ 28 ہزار 119 رجسٹرڈ ووٹرز اپنے ووٹ کا حق استعمال کر سکیں گے۔
بلوچستان سے قومی اسمبلی کی 16 اور صوبائی اسمبلی کی 51 نشستوں پر 53 لاکھ 71 ہزار 947 ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق اسلام آباد سے قومی اسمبلی کی 3 نشستوں پر 10 لاکھ 83 ہزار 29 ووٹرز اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔
نتائج کی ترسیل و تدوین کیلئے ای ایم ایس استعمال ہوگا
الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کے نتائج کی ترسیل و تدوین کیلئے الیکشن منیجمنٹ سسٹم (ای ایم ایس) استعمال کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن ٹیکنالوجی خضر عزیز کا کہنا تھا کہ نتائج کی ترسیل کیلئے پرائیویٹ نیٹ ورک استعمال کیا جا رہا ہے، اس مرتبہ آر ٹی ایس استعمال نہیں ہو رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ قوم کو اطمینان دلاتے ہیں کہ الیکشن منیجمنٹ سسٹم ایک اسپیشل سافٹ ویئر ہے، اور یہ سسٹم 859 ریٹرننگ افسران کے دفتر میں دیا ہے، آر او دفتر میں 4 ڈیٹا انٹری آپریٹر، 4 لیپ ٹاپ اور آئی ٹی ایکوئپمنٹ دیے گئے ہیں۔
ڈی جی آئی ٹی نے بتایا کہ پریزائیڈنگ افسران کے موبائل میں بھی ای ایم ایس انسٹال کیا گیا ہے، پریزائیڈنگ افسران اپنے موبائل پر فارم 45 کی تصویر لے کر ریٹرننگ افسر کو بھیجیں گے، اگر سگنل نہیں آ رہے ہوئے تو جب سگنل آئیں گے تو فارم 45 خودبخود آر او کے پاس پہنچ جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ پریزائیڈنگ افسر کو سیکشن 95 کے تحت آر او کے پاس جانا ہے، پریزائیڈنگ افسر اپنے موبائل پر فارم 45 ریٹرننگ افسر کو دکھا سکتا ہے، فارم 45 پریزائیڈنگ افسر کے موبائل میں خود کار طور پر لاک ہوجائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ آر او فارم 47 بناتے وقت تسلی کرلے گا کہ پریزائیڈنگ افسر کے موبائل میں فارم 45 لاک ہے۔













