سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے 183 تھری کی تشریح کے متعلق کیس کی سماعت کرنے والے بینچ سے الگ کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے اپنے تحفظات میں کہا کہ آرٹیکل 184 تھری کو پڑھے جانے سے پہلے چیف جسٹس نے مداخلت کی ۔
جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے اپنے تحفظات میں کہا کہ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ بینچ کو دوبارہ تشکیل دے رہے ہیں اور پھر اٹھ گئے جس کے بعد بینچ کو دوبارہ تشکیل دے دیا گیا اور اس حوالے سے مجھے کوئی بھی آرڈر نہیں بھیجا گیا تھا۔
جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ جو دو رکنی بینچ بعد میں بنایا گیا اس میں سے انہیں نکال دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ بینچ کی تشکیل نو بلاجواز ہے اور اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی، ایسا کرکے نظام کی شفافیت کو نقصان پہنچا جس کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا اصل دائرہ کار کے استعمال سےپہلے خود آئین سے مطابقت کو دیکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایسا لکھنے پر مجبور ہیں، ایسا نہ کریں تو وہ اپنے ضمیر پر بوجھ محسوس کریں گے، یہ نوٹ لکھ کر بطور جج اپنی ذمہ داری ادا کررہے ہیں۔












