چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے بینکوں سے قرضے معاف کرانے سے متعلق کیس میں 222افراد کو نوٹس جاری کردیے۔
سپریم کورٹ اسلام آباد میں بینکوں سے قرضے معاف کرانے سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی۔
دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ گورنر اسٹیٹ بینک نے کمیشن سمری جمع کرا دی ہے،جس پر جسٹس نے استفسار کیا کہ گورنر اسٹیٹ بینک خود کہاں ہیں؟
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کمیشن نےتمام 222 افراد کے خلاف انکوائری کے لئے سفارش کی ہے جنہوں نے خلاف ضابطہ قرضے معاف کرائے ہیں ، تمام افراد کو نوٹس جاری کیے جائیںکریں گے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ان لوگوں نے 84 ارب کے قرضے معاف کرالیے، کسی کی غیرحاضری قبول نہیں کی جائے گی۔اس موقع پر عدالت کی جانب سے 222 افراد کو 8 جون کے لیے نوٹس جاری کر دیئے گئے۔












