نواز شریف کے بیان پر سیاسی حلقوں کی شدید تنقید

0
55

پاکستان میں سیاسی اور سماجی حلقے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے اس بیان پر تحفظات کے اظہار کے ساتھ ساتھ تنقید کر رہے ہیں جو بظاہر بھارت کے اس موقف کو تقویت دیتا ہے کہ پاکستان نے 2008 ء میں ممبئی شہر میں ہونے والے دہشت گرد حملے میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی ہے۔

پاکستان کے موقر انگریز اخبار ڈان سے ایک انٹرویو میں نواز شریف نے بظاہر بین الاقوامی برادری میں پاکستان کے تنہا ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قربانیاں دینے کے باوجود پاکستان کا بیانیہ قبول نہیں کیا جارہا ہے ان کے بقول ” ہم نے اپنے آپ کو تنہا کر لیا ہے افغانستان کا بیانیہ قبول کیا جارہا ہے ہمارا نہیں ہمیں یہ غور کرنا چاہیے کہ ایسا کیوں ہورہا ہے۔ “

انہوں نے مزید کہا کہ عسکریت پسند تنظیمیں اور غیر ریاستی عناصر سرگرم ہیں “کیا ہم انہیں سرحد پار کر کے ممبئی میں 150 لوگوں کو مارنے کی اجازت دیں۔ ہم اس مقدمہ کو منطقی انجام تک کیوں نہیں پہنچا سکے۔”

نواز شریف نے مزید کہا کہ یہ بات چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمر پوتن بھی کہہ چکے اور وہ اسی کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔

نواز شریف کے بیان کے بعد مقامی ٹی وی چینلز اور سماجی میڈیا پر ان کے بیان کو متنازعہ قرار دیتے ہوئے ایک بحث چھڑ گئی جبکہ حزب مخالف کی دونوں بڑی جماعتوں نے سابق وزیراعظم کے بیان کو ملکی مفاد کے منافی قرار دیتے ہوئے انھیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

بعض مبصرین کے خیال میں نواز شریف کا یہ تازہ بیان ملک کی عدلیہ اور ملک کے مقتدر حلقوں سے متعلق بظاہر ان کے عدم اطمینان کا مظہر ہے۔

سلامتی کے امور کے تجزیہ کار طلعت مسعود نے اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “یہ (نواز شریف) اپنی پوزیشن واضح کرنا چاہتے ہیں اور یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہ بھارت سے تعلقات اچھے رکھنا چاہتے تھے لیکن مشکل یہ تھی کہ فوج کی قیادت اس طریقے سے نہیں چاہتی جس طریقےسے وہ کرنا چاہتے ہیں ۔ اس لیے آج کل ان کا ہدف عدلیہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ فوج بھی ہے۔”

انہون نے مزید کہا کہ “وہ اسی قسم کے بیانات دے رہے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے جب ان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے تو وہ بھی ایسی باتیں کریں تاکہ یہ دونوں ادارے متاثر ہوں۔”

سیاسی امور کے تجریہ کار اور سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے اس بیان کے بظاہر مخاطب بین الاقوامی حلقے ہیں۔

“یقیناً یہ بیان مقتدر حلقوں کے خلاف ہے اور مقتدر حلقے اور ناراض ہو ں گے اور ان (نواز شریف) کے راستے کی رکاوٹیں مزید بڑھیں گی دوسری طرف شاید اس بیان سے ان کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ میں وہ جنگ لڑرہا ہوں جو بین الاقوامی برادری جو چینی صدر یا روسی صدر اور پاکستان کے حامی ہیں یا وہ جو پاکستان کی کردار کی مخالفت کرنے والے ہیں وہ کہتے رہے ہیں اور وہ پہلی بار بین الاقوامی فورم پر اپنی بات لے کر گئے ہیں۔”

ادھر حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے نواز شریف سے یہ بیان واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پاکستان کی ساکھ مجروح ہوئی جب کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے نواز شریف کو بھارتی وزیراعظم نریندر موددی کی زبان بولنے والا قرار دیتے ہوئے ان پر شدید تنقید کی۔

بھارت اورامریکہ کی طرف سے پاکستان کو ممبئی حملہ کیس کی سماعت کو مکمل کرنے کے حوالے سے دباؤ کا سامنا رہا ہے۔ تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ بھارت سے یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ وہ ممبئی حملوں کے ملزموں کے خلاف شواہد فراہم کریں تاکہ ان کے خلاف مقدمے کو موثر انداز میں چلایا جا سکے۔ اسلام آباد کو موقف ہے کہ ملک میں سرگرم شدت پسند تنظیموں کے سرگرمیاں کو روکنے کے لیے حالیہ سالوں میں کئی موثر اقدامات کیے گئے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY