شہباز شریف سندھ میں قومپرستی کی جھنڈیاں نہیں بیچ سکتے۔ زیب سندھی

0
182

زیب سندھی ایک براڈکاسٹر ہونے کے ساتھ ساتھ استاد، نقاد اور سندھی ادب کا بہت بڑا نام ہیں جنہوں نے معیاری ادب تخلیق کیا ہے۔ عالمی اخبار شکر گزار ہے کہ وہ گاہے بگاہے اس اخبار کے لیئے لکھتے رہتے ہیں

صفدر ھمدانی۔ مدیر اعلیٰ عالمی اخبار

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماضی میں “جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گیا داغ” کے نعرے لگانے والے پنجاب کے موجودہ حکمران شہباز شریف صاحب نے سندھ کے شہر سندھڑی کے قریب جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے، اردو آمیز سندھی میں شیخ ایاز کی شاعری کی ان سطور کو بھی اپنی تقریر میں شامل کرلیا، جن سطور کے لکھنے پر شیخ ایاز کو وقت کے حکمرانوں نے غدار قرار دیا تھا اور انہیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ شیخ ایاز کے وہ اشعار سندھ کے قوم پرست نصف صدی سے اپنے جلسوں اور جلوسوں میں سناتے اور گاتے چلے آئے ہیں۔ شہباز شریف بھی سندھڑی میں جلسہ عام سے خطاب کے لئے کھڑے ہوئے تو ان ہی اشعار کی آمیزش اپنی تقریر میں کر ڈالی، جن کے لکھنے پر شاعر کو غدار قرار دیا گیا تھا۔

شیخ ایاز کی ان سطور کا پورے خیال و احساس کے ساتھ ترجمہ کرنا تو مشکل ہے لیکن آزاد ترجمہ کچھ اس طرح ہے کہ، “کیوں شکوہ برداشت کریں، سندھ پر جان نثار کریں۔۔۔ کب تک رہے گی اک دن ڈھے گی، دھوکے کی دیوار اے یار۔۔۔” یہ سطور شہباز شریف صاحب نے پاکستان کے سابقہ سندھی وزیر اعظم محمد خان جونیجو کے گائوں میں تقریر کرتے ہوئے کہیں۔ ہم سب کو یاد ہے کہ محمد خان جونیجو مرحوم کو شہباز شریف کے بڑے بھائی نواز شریف نے مسلم لیگ کی صدارت سے ہٹانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اور خود پارٹی کے صدر بن بیٹھے تھے اور پھر موقع ملتے ہی وہ وزیر اعظم کی مسند پر بھی جلوہ افروز ہو گئے تھے۔

شہباز شریف نے سندھڑی شہر کے قریب، سندھ پر جان قربان کرنے کے خیال والے اشعار جس جلسہ عام میں سنائے اس جلسے میں سندھ کے کچھ ایسے سابقہ سندھی قوم پرست بھی موجود تھے، جو اب ان کے ساتھی کہلاتے ہیں۔ پنجاب کے حکمران شہباز شریف کو سندھڑی کے جلسے میں شیخ ایاز کی شاعری سنانے کا مشورہ جس کسی نے بھی دیا، کم از کم وہ شہباز شریف کو شیخ ایاز کی شاعری سنانے کی ریہرسل تو کراتے، تاکہ وہ درست سندھی لب و لہجے میں تو سناتے اور شیخ صاحب کی روح کو رنجیدہ تو نہ کرتے۔

یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں کہ شہباز شریف صاحب نے کسی جلسے میں خون کو گرما دینے والی شاعری سنائی ہے۔ پنجاب کے سیاسی جلسوں میں وہ حبیب جالب صاحب کے اشعار ترنم میں سناتے رہے ہیں اور خاص طور پر “ایسے دستور کو، صبح بے نور کو۔۔۔ میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا…” جیسی لائنیں تو وہ جھوم جھوم کر سناتے رہے ہیں۔

لاہور کے جلسوں میں جالب کی شاعری سنانے پر جلسے میں موجود لوگ واہ واہ تو ضرور کرتے ہیں لیکن چونکہ شہباز شریف صاحب خود شاعر نہیں ہیں، اس لئے صرف واہ واہ سے ان کا جی خوش نہیں ہوتا۔ وہ سیاستدان ہیں اس لئے واہ واہ کے ساتھ انہیں ووٹ کی ضرورت بھی ہے اور اسی ضرورت کی وجہ سے ہی شاید انہوں نے سندھڑی میں کسی سابقہ سندھی قوم پرست کے مشورے پر شیخ ایاز کی انقلابی شاعری سنائی!

شہباز شریف کا پلو پکڑ کر اقتدار کا راستہ تلاش کرنے والے سابقہ سندھی قوم پرست شاید یہ بھول گئے ہیں کہ وہ ڈوبتی کشتی پر سوار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ شہباز شریف کے لیڈر بھائی نواز شریف کو عدالت نے تا عمر نااہل قرار دے دیا ہے اور اس کے بعد وہ “خلائی مخلوق” پر الزام تراشی کے بعد، حالیہ بیانات سے اپنے پیروں پر خود کلہاڑی مار چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے معاملات کچھ ایسے ہیں کہ ان کے برادر محترم کے وزیر اعظم بننے کے امکانات معدوم ہوتے نظر آرہے ہیں۔

شہباز شریف نے سندھڑی کے جلسے میں نہ صرف شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کا ادب و احترام سے ذکر کیا بلکہ سندھی قوم پرستوں سے دو قدم آگے بڑھ کر کہا کہ، “اگر سندھ کے عوام کالا باغ ڈیم نہیں چاہتے تو وہ نہیں بنے گا۔ میں سندھ سے محبت کرتا ہوں اور اس محبت کے احترام میں کالا باغ ڈیم ایک دفعہ نہیں سو مرتبہ قربان کریں گے!” اور پھر چار قدم اور آگے بڑھ کر فرمایا کہ، “جس پاکستان کی قرارداد جی ایم سید پیش کی تھی، ہم وہ پاکستان گنوانا نہیں بچانا چاہتے ہیں۔”
سوال یہ ہے کہ کیا شہباز شریف صاحب بشمول کالا باغ ڈیم نہ بنانے والی وہ تمام باتیں پنجاب میں ہونے والے انتخابی جلسوں میں بھی کریں گے یا یہ تمام باتیں صرف سندھ میں ووٹ لینے کے لئے سرمہ پہنانے جیسی ہیں؟ شاید شہباز شریف صاحب کو سندھ میں ان کے سابقہ سندھی قوم پرست ساتھیوں نے یہ بات نہیں بتائی یا ان سابقہ سندھی قوم پرستوں کو خود بھی اندازہ نہیں کہ، سندھ میں قومپرستی کی جھنڈیاں بیچنا آسان نہیں اور وہ بھی شہباز شریف کے لئے، جن کے لئے سندھ کے سابقہ قوم پرست آوازیں لگا رہے ہیں!

زیب سندھی

SHARE

LEAVE A REPLY