پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد میں گزرتے وقت کے ساتھ اضافہ دیکھا گیا ہے اور ججز کی طرف سے انھیں نمٹانے کی بھرپور کوششوں کے باوجود اب بھی 38 ہزار سے زائد مقدمات التوا کا شکار ہیں۔

یہ اعدادوشمار سپریم کورٹ کی طرف سے حال ہی میں جاری کی گئی رپورٹ میں بتائے گئے جس کے مطابق اس وقت عدالت عظمیٰ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 38917 ہے جو گزشتہ ایک دہائی کے دوران سب سے زیادہ تعداد ہے جبکہ اس دوران نمٹائے جانے والے مقدمات کی تعداد میں بھی قابل ذکر اضافہ ہوا۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی طرف سے انتظامیہ اور حکومتی امور پر توجہ دیئے جانے کی وجہ سے حالیہ ہفتوں میں عدلیہ پر سیاسی حلقوں کی طرف سے یہ تنقید دیکھنے میں آئی ہے کہ عدلیہ دوسرے اداروں کی کارکردگی کی بجائے ایسے ہزاروں مقدمات کو نمٹانے پر توجہ دے جو کئی سالوں سے التوا کا شکار چلے آ رہے ہیں۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر یاسین آزاد کہتے ہیں کہ زیرالتوا مقدمات کی بڑھتی ہوئی تعداد عدلیہ پر تنقید کا باعث تو ضرور ہے لیکن اس کے حل کے لیے انتظامیہ کے ساتھ ساتھ چیف جسٹس کو بھی ہنگامی بنیادوں پر مختلف اقدام پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

پیر کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ جس تناسب سے نئے مقدمات عدالتوں میں دائر ہوتے ہیں اس کے مقابلے میں نمٹائے جانے والے مقدمات کی شرح بہت کم ہوتی ہے جس سے زیر التوا مقدمات کا انبار لگنا شروع ہو جاتا ہے۔

“میرا ذاتی موقف یہ ہے کہ وقت کے حساب سے ججز کی تعداد مزید بڑھائی جائے تو بہتر ہے۔ قانون کے اندر تبدیلی کی بھی ضرورت ہے تاکہ پروسیجر کو ذرا کم کیا جائے اور کیس اگر آتا ہے تو اس کو نمٹانے کا طریقہ کار طے کیا جائے اور میں سمجھتا ہوں کہ جب تک ہم ہنگامی طور پر کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے یہ مقدمات دن بدن بڑھیں گے کم نہیں ہوں گے۔”

سپریم کورٹ کی رپورٹ میں بھی یہ کہا گیا کہ عدالت عظمیٰ کو سائلوں کی پریشانیوں، وکلا کے مسائل اور ججز سمیت عدالتی عملے کی موجودہ صورتحال کے باعث سامنے آنے والے دباؤ کا بخوبی اندازہ ہے لیکن وہ اپنا آئینی کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار بھی اپنی کئی ایک حالیہ تقاریر میں یہ کہہ چکے ہیں کہ قانون میں تبدیلی پارلیمان کا کام ہے اور ملک میں رائج پرانے قوانین کو تبدیل کیا جانا چاہیے اور ججز کو چاہیے کہ وہ مقدمات کو نمٹانے پر توجہ دیں تا کہ سائلین کی پریشانیوں کو کم کیا جا سکے۔

SHARE

LEAVE A REPLY