سبیکہ شیخ آہوں اور سسکیوں میں سپرد خاک

0
240

امریکی ریاست ٹیکساس کے سانتافی ہائی اسکول میں فائرنگ سے جاں بحق ہونے والی پاکستانی طالبہ سبیکہ شیخ کا جسد خاکی سسکیوں اور آہوں کے ساتھ شاہ فیصل کالونی میں واقع عظیم پورہ قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔

اس سے قبل ان کی نماز جنازہ یونیورسٹی روڈ پر واقع حکیم سعید گراؤنڈ میں ادا کی گئی۔

سبیکا کو ان کی دادی کے پہلو میں دفن کیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، گورنرسندھ محمد زبیر، جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان، پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی، پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال، ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے سبیکہ کی نماز جنازہ ادا کی۔

نماز جنازہ میں شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی، آنے والوں کو تلاشی کے بعد داخلے کی اجازت دی گئی۔

اس سے قبل سبیکہ کی میت منگل اور بدھ کی درمیانی شب غیرملکی پرواز کے ذریعے کراچی لائی گئی، میت لینے کے لیے لواحقین ایئرپورٹ کارگو کمپلیکس پہنچے، سبیکہ شیخ کی میت والد شیخ عبدالعزیز اور والدہ کے حوالے کی گئی۔ اس موقع پر امریکی قونصل جنرل جون وارنر بھی ایئرپورٹ کارگو کمپلیکس پر موجود تھے۔

اے ایس ایف اہلکاروں کی جانب سے سبیکہ شیخ کی میت کو سلامی دی گئی۔ بعد ازاں میت ایئرپورٹ سے ان کے گھر گلشن اقبال پہنچائی گئی۔ اس موقع پر سبیکہ کے گھر کے باہر عزیز و اقارب اور اہل علاقہ کی بڑی تعداد موجود اور فضا سوگوار تھی۔

میت کو نماز جنازہ کے لیے جس وقت لے جایا جانے لگا اس وقت رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئی، اس موقع پر موجود ہر آنکھ نم تھی۔ اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ٹیلی فون کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل جوزف ووٹل نے آرمی چیف سے سبیکہ شیخ کی موت پر تعزیت کی اور معصوم جان کے ضیاع پر سوگوار خاندان سے افسوس کا اظہار کیا۔

واضح رہے کراچی کی رہائشی 17 سالہ سبیکہ عزیز شیخ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کینیڈی لوگر یوتھ ایکسچینج اینڈ اسٹڈی اسکالر شپ پروگرام کے تحت گزشتہ برس 21 اگست کو 10 ماہ کے لیے امریکا گئی تھیں اور 9 جون کو انہیں وطن واپس آنا تھا۔

18 مئی کو فائرنگ کے نتیجے میں 9 طالب علموں اور ایک استاد سمیت 10 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوگئے تھے۔ فائرنگ کرنے والے 17 سالہ حملہ آور کو گرفتار کرلیا گیا تھا، جو کہ اسی اسکول میں زیر تعلیم تھا۔

سبیکہ شیخ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں، وہ ٹیکساس کے شہر سانتافی کے ایک ہائی اسکول میں زیر تعلیم تھیں۔

امریکا میں سبیکہ کا میزبان خاندان ان کی اچانک موت پر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا، سبیکہ کے بار ے میں بات کرتے ہوئے امریکی خاتون میزبان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں بہتی رہیں، خاندان کے سربراہ نے سبیکہ کو قدرت کا سب سے قیمتی تحفہ قرار دیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY