فیس بک کے بانی مارک زکر برگ نے یورپ سے بھی معافی مانگ لی ہے۔

برطانوی ٹی وی کے مطابق مارک زکربرگ نے یورپی پارلیمنٹ کے سیاسی گروپ سے گفتگو میں اعتراف کیا کہ انہوں نے غلطی کی۔

یورپی پارلیمنٹ کے سیاسی گروپ کا اس موقع پر کہنا ہے کہ ہم یہ سمجھ ہی نہیں سکے کہیہ ٹولز غلط مقصد کے لیے بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔

اس سے قبل فیس بک کے سربراہ مارک زکر برگ دو مرتبہ امریکی کانگریس کے سینیٹرز کےسامنے پیش ہوچکے ہیں جہاں انہوں نے سینیٹر ز کے سخت سوالات کے جواب دیئے۔

مارک زکر برگ ایک بیان میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ صا رفین کی ذاتی معلومات کو استعمال کرنے کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے فیس بک کو چند برس درکار ہیں۔

صارفین کے ڈیٹا کے غلط استعمال کے بعد فیس بک کو تنقید اور تحقیقات کا سامنا ہے اور فیس بک کے پانچ کروڑ صارفین کے ڈیٹا کا سیاسی مشاورتی ادارے کی جانب سے غلط استعمال سامنے آنے پر تحقیقات جاری ہیں۔

صارفین کے ڈیٹا کا مبینہ طور پر امریکی صدارتی انتخاب میں استعمال کیا گیا تھا، اس حوالے سے ایک سماجی نیوز سائٹ ووکس سے انٹرویو میں کمپنی کے کاروباری ماڈل کا دفاع کرتے ہوئے زکر برگ کا کہنا تھا کہ فیس بک کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ ایک مثالی سائٹ ہے جو لوگوں کی زندگی کے مثبت پہلوئوں پر فوکس کرتی ہے لہٰذا ہم نے کافی عرصے سے اس کے منفی استعمال کے پہلو پر غور نہیں کیا اور نہ ہی کوئی نئی سرمایہ کاری کی ہے۔

واضح رہے کہ ڈیٹا فرم کیمبرج اینالیٹکا کا صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم سے تعلق رہا ہے اور اس نے پونے 9کروڑ فیس بک یوزرز کی معلومات تک ان کے علم کے بغیر رسائی حاصل کی۔

ڈیٹا اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد سے فیس بک کے اربوں ڈالر ڈوب چکے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY