ڈاکٹر نگہت نسیم تمہیں‌کینسر ہے ! قسط نمبر 51

0
1860

ناشتہ کمرے میں آچکا تھا ۔۔ ساتھ ہی ایک نرس بھی آگئی ۔۔اس نے مجھے بیٹھنے میں مدد کی ۔۔ ٹیبل میرے سامنے رکھتے ہوئے تقریبا وہی ساری باتیں دوہرائیں جو میں صبح سے سن رہی تھی ۔۔ اس نے مجھے کہا کہ ناشتے کے بعد وہ آئے گی تاکہ نہانے میں میری مدد کر سکے ۔۔
نہیں پلیز میری بیٹی ہی مجھے نہلائے گی ۔۔ وہ شام کوآئے گی تب ۔۔ میں نے اپنی خواہش نرس کے سامنے رکھ دی
آر یو شیور
یس پلیز ۔۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا
تو پھر آپ اسے جلدی بلا سکتی ہیں ۔۔ وزٹنگ کے لئے وقت صبح گیارہ سے بارہ بجے تک کا تھا اور شام کو چھ سے آٹھ بجے تک ۔۔ لیکن آمنہ پہلے آ سکتی تھی تاکہ مجھے نہانے میں مدد کر سکے ۔
بہت بہت شکریہ سسٹر ۔۔ میں نے تشکر سے اسے دیکھا تو وہ ہنس دی

میں کمرے میں اکیلی رہ گئی تھی ۔۔ناشتہ میرے سامنے تھا لیکن دونوں ہاتھوں میں ڈرپس کی وجہ سے کچھ کھانا بہت مشکل ہو رہا تھا اور پھر بھوک بھی نہیں تھی ۔ میری تمام تر توجہ ڈاکٹر برلنگ کی باتوں کی طرف تھی ۔۔ میں سوچ رہی تھی ۔۔
ناشتہ کرنا مجھے سب سے زیادہ پسند تھا ۔۔۔ اب میرے سامنے تھا پر میں کھا نہیں پا رہی تھی
مجھے ڈرایئونگ کرنا بہت محبوب تھا ۔۔ میں کہیں جاؤں یا نہ جاؤں مجھے گاڑی ڈرائیو وے پر کھڑی آزادی کا پروانہ لگتی تھی ۔۔ جو میں اب کچھ عرصے چلانہ پاؤنگی
مجھے اپنی ہوسپٹل ڈیوٹی ۔۔ اپنے شعبے ایڈکشن سے عشق تھا ۔۔ جو میں اب جانے کب جا پاؤں
مجھے صبح پانچ بجے جم جانا بہت پسند تھا جو میں اب شاید کبھی جا ہی نہ پاؤں
اف اتنا کچھ بدل جائے گا ۔۔ کب سوچا تھا میں نے
لیکن یہ تبدیلی مجھے کیا بتانے آئی ہے ۔۔ یہ آزمائیش کیوں میرے مالک ؟

کمرہ نمبر 166 ۔۔ڈاکٹر نگہت نسیم ۔۔آپریشن کے بعد کا پہلا دن ۔۔ فارماسسٹ نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے میرا رسٹ بینڈ چیک کیا
اس نے خون پتلا کرنے والا انجیکشن کلیسین کا پہلا شاٹ میرے دائیں گھٹنے سے تھوڑا اوپر جلد میں لگایا ایسے کہ انجیکشن کی سوئی عمودی رکھی لیکن اس کے باوجود اتنی تکلیف کا میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔ میں کراہ رہی تھی ۔۔۔ اور فارماسسٹ سوری کہہ رہی تھی ۔۔ اس نے بتایا کہ مجھے ہر روز یہ انجیکشن تین ہفتوں کے لئے لگانا ہے لیکن جگہ بدل بدل کر ورنہ گلٹی بن جائے گی ۔۔۔ اگر بن جائے تو آئس پیک رکھ لینا۔
شیور ۔۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور اس کے ساتھ والی نرس نے میری آکسیجن کی نلکی اتاری ، فلیجل

(Flagyl Infusion )

اور اینٹی بائیٹوک کا انجیکشن لگا کر مسکراتے ہوئے چلی گئی ۔

صبح گیارہ بجے منیب ، جیسیکا ، ایمیلیا اور آفتاب نے آنا تھا ۔۔ اور شام کو آمنہ اور نجیب نے آفتاب کے ساتھ آنا تھا ۔۔یہ ترتیب پہلے ہی سے طے تھے ۔ اور بچوں کے آنے میں ابھی دو گھنٹے پڑے تھے ۔ دوا میں ہلکی ہلکی نیند بھی تھی ۔۔ رات بہت بےچین گزری تھی ۔۔اب میں کچھ دیر آنکھیں بند کرنا چاہتی تھی ۔

میں سوچ رہی تھی ۔۔
غم اور خوشی اللہ پاک کی دین ہے ۔ خوشی کو حاصل کرنے کے لیے کسی پر کوئی زور زبردستی نہیں ہے ۔ اگر ہوتی تو کوئی بھی دنیا میں آزردہ اور غم زدہ نہ ملتا۔ مجھے آج پتہ چلا کہ ہماری بے چینی کا سبب بھی یہی ہے کہ اپنی پسند ، خوشیوں اور کامیابیوں پر ہمارا اختیار نہیں رہتا ۔ اسی اختیار کا جانا بے بسی پیدا کرتا ہے اور بے بسی ، مایوسی پھیلا دیتی ہے اور اس مایوسی سے بے یقینی پیدا ہوتی ہے۔
اور بےیقینی ہی وہ کیفیت تھی ۔۔ جس میں سب سے پہلے اللہ پاک پر یقین اٹھتا تھا کہ آخر یہ کیسا سامع ، صاحب بصارت اور دلنواز ہے جو ہمارے باطنی اور ظاہری حال سے واقف ہی نہیں ۔۔ کیوں اتنی مشکل اور تکلیف میں رکھتا ہے ۔

جبھی تو ابا جی رح فرمایا کرتے تھے ۔۔۔ دنیا کی امتحان گاہ کا صرف ایک ہی پرچہ ہے ، جو انسان بھی اسے حل کر لیتا ہے وہ دین و دنیا میں کامیاب ہو جاتا ہے ۔۔ اوراس پرچے کا نام ” یقین ” ہے جو زیادہ تر انسانوں کے پاس نہیں ہے ۔ اگر ہمیں اس بات پر ہی یقین نہیں ہے کہ ہمارے رب نے ہمارے لیئے جو کامیابی یا ناکامی چنی ہے وہ ہمارے حق میں سب سے بہتر تھی .. تو ہم فیل ہیں ۔۔۔ میرا ، آپ کا یعنی ہم سب کا کام صرف اپنے رب سے راضی رہنا ہے ۔۔ اور اس سے اچھے کی امید لگائے رکھنا ہے ۔۔ دعائیں مانگتے رہنا ہے ۔۔ اپنے لئے ، دوسروں کے لیئے بہترین اسباب پیدا کرتے رہنا ہے ۔۔آسانیاں بانٹتے رہنا ہے ۔۔ آگے بڑھنے کی کوششیں جاری رکھتے رہنا ہے ، اور یہ سب اپنے اللہ پاک سے خوش گمانی کے ساتھ کرتے رہنا ہے ۔۔۔۔۔ کیونکہ وہ ہم سب سے ، سب سے زیادہ پیار کرنے والا ہے ۔۔۔ جو حجت کے بغیر کوئی مصبیت نازل نہیں فرماتا ۔ جو تنبیہہ کے بغیر کوئی سزا نہیں دیتا ۔۔۔۔۔۔۔ جو نیکی کو سوچ لینے ہی سے اجر دیتا ہے ۔۔۔۔۔ جو برائی کو جب تک کر نہ لیں حساب نہیں رکھتا ۔۔۔ ایسا جلد راضی ہونے والا رب ہمارا ہے ۔ ۔۔۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ہمیں ہمارے صبر اور ظرف سے زیادہ بھوکا پیاسا رکھ سکتا ہے ۔۔ وہ کیسے بھلا ہماری دعاؤں کو رد کر سکتا ہے ۔۔ وہ بھلا کیسے ہماری کوششوں میں برکت نہیں ڈالے گا ۔۔۔ وہ بھلا کیسے ہمیں دکھ تکلیف میں رکھ سکے گا ۔۔۔ ؟

ابا جی بالکل ٹھیک کہتے تھے ہمارے رب کو ہمارا اس سے مانگنا بہت پسند ہے ۔۔ اس لیئے کبھی کبھی دینے میں دیر کر دیتا ہے پر دیتاضرور ہے ۔۔۔ اور اگر جو مانگا ہوا نہ بھی دے تو اس سے اچھی خوشی ضرور دیتا ہے ۔۔ بس خوش گمانی ، یقین اور بھروسے کے ساتھ مانگنا ضروری تھا … وہ کائینات کا خالق و مالک ہے ۔۔ اس کے اختیار میں زرے سے لے کر عالمین ہیں ۔ وہ قادر ہے کہ “ کن “ کہے اور وہ “ ہو “جائے ۔۔۔۔۔۔ پھر بھلا کیسے ممکن تھا میری صحت ۔۔میری زندگی ۔۔میری پسند ۔۔میری خوشیاں ۔۔میری کامیابیاں اس کے کن سے باہر ہوں ۔

السلام و علیکم ممی ۔۔ منیب کی میٹھی آواز بہت قریب تھی ۔۔ میں نے آنکھیں کھول دیں وہ سامنے ہی کھڑا تھا ۔۔اس نے میرے بیڈ کو رول اپ کیا تاکہ میں آسانی سے بیٹھی سکوں ۔
نیند کیسی آئی ۔۔کچھ کھایا کہ نہیں ۔۔ ڈاکٹر برلنگ آئے تھے۔۔ کیا بتایا ۔۔ آپ کی دوائیاں کونسی ہیں ۔۔ منیب نے آتے ہی کئی سوال کر دیئے ۔

تھوڑی ہی دیر میں جیسیکا ، ایمیلیا کی پرام لئے کمرے میں داخل ہوئی ۔۔آفتاب ان کے پیچھے پیچھے تھے ۔۔ سب میرے ارد گرد بیٹھے تھے ۔۔ میں محبتوں کے حصار میں تھی ۔ ایمیلیا میری گود میں بیٹھی تھی ۔۔ خاموشی مجھ سے ہمکلام تھی ۔ میں اس کے ہر سوال کا جواب اسی کی زبان میں اسے دے رہی تھی ۔۔ پھر وہ میری تسلی پا کر مسکرا دی ۔ وہی تو تھی میری کتابوں ۔۔میرے تخیلات کی جانشین ۔۔۔ یہ میں نہیں میرا دل مجھے بتا رہا تھا۔
ممی یو لک گڈ ۔۔ منیب نے پیار سے کہا
یس بیٹا آئی ایم فائن ۔۔۔ ایسا ہونا ضروری تھا بیٹا
آپ کامطلب ہے کینسر ۔۔ جیسیکا نے حیرت سے مجھے دیکھا
جی بیٹی ۔۔ جب ہم اپنے جسم اور روح کی پکار نہیں سنتے تو اس کا مالک و خالق ہمیں زبردستی ایک کونے میں کھڑا کر دیتا ہے بلکل ایسے ہی جیسے ہوم ورک نہ کرنے پر ہمارے ٹیچر ہمیں کونے میں کھڑا کر دیتے تھے ۔ اپنے جسم کو نظر انداز کرنا ۔۔ اپنی روح کی ضرورت کونہ سمجھنا بھی تو ایسا ہی ہے نہ جیسے اللہ پاک کا دیا ہوا ہوم ورک نہ کرنا ۔۔ کونے میں کھڑا ہونا تو بنتا ہے نہ پھر ۔۔ میں ہنس رہی تھی ۔

دوپہر کا کھانا آچکا تھا ۔۔اور دوپہر کے بارہ بھی بج چکے تھے ۔۔۔ آفتاب نے کھانے کی میز میرے قریب کر دی اور مجھے کھانا کھانے میں مدد کی ۔۔ میرا کھانے سے زیادہ پانی پینے میں دھیان لگا تھا ۔۔ یورین کیتھٹر نکلنے کے بعد سے ابھی تک واش روم نہیں گئی تھی ۔۔ اور مجھے نرس نے سات گھنٹوں کا وقت دیا تھا ، جس میں سے آخری ایک گھنٹہ بچا تھا ۔۔ ورنہ بلیڈر اسکین اور یورین کیتھیٹر ۔۔اف نہیں ۔۔
پلیز پانی میرے قریب رکھ دیجئے ۔۔ اور آمنہ کو لے کر جلدی آ جایئے گا ۔۔ میں نے آفتاب کو جاتے جاتے بھی یاد دہانی کروائی ۔

دوپہر کا ایک بج رہا تھا۔۔

جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY