قلم بھی رو دیا مصطفٰی زیدی مرحوم لکھ کر .آفتاب احمد‎

0
201

فِگار پاؤں مرے، اشک نارسا میرے

کہیں تو مِل مجھے، اے گمشدہ خدا میرے

میں شمع کُشتہ بھی تھا، صبح کی نوید بھی تھا

شکست میں کوئی انداز دیکھتا میرے

مصطفی زیدی بیسویں صدی کی اردو شاعری کے معروف و مقبول شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔اردو ادب کی تاریخ میںبے شمار شعراء ایسے ملتے ہیں جن کی شاعری کے کئی رنگ ہیں۔ ان میں سے ایک نام مصطفیٰ زیدی بھی ہے جنہوں نے اپنی خوبصورت اور مؤثر شاعری سے لاکھوں قارئین کو متاثر کیا اور ان کی زندگی میں ہی ان کے مداحین کا ایک وسیع حلقہ پیدا ہو گیا۔ ان کی شاعری میں لطافت بھی ہے سلاست بھی‘ ندرت خیال بھی‘ رومانیت بھی اور اداسی بھی۔

اُداسی کی جو شکل مصطفی زیدی کے ہاں ہے اس کی مثال کم ملتی ہے۔ البتہ ان کے ہم عصر ناصر کاظمی کے ہاں ہمیں یاسیت اور اداسی کی بڑی واضح مثالیں مل جاتی ہیں کیونکہ ناصر کاظمی کے کئی شعر اداسیت کی چادر میں لپٹے ہوئے تھے اور ان اشعار کی اثر آفرینی اپنی جگہ مسلمہ حقیقت تھی۔ مصطفی زیدی اکتوبر 1930ء کو الہٰ آباد (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی تعلیم بھارت میں مکمل ہوئی جہاں انہوں نے شاعری شروع کر دی تھی۔ان کے والد سید لخت حسین زیدی سی آئی ڈی کے ایک اعلیٰ افسر تھے۔ مصطفیٰ زیدی بے حد ذہین طالب علم تھے۔

الہ آباد یونیو رسٹی سے انہوں نے گریجویشن کیا تھا اور صرف 19 سال کی عمر میں ان کا شعری مجموعہ ”موج مری صدف صدف“ کے عنوان سے شائع ہوا تھا جس کا دیباچہ فراق گورکھپوری نے لکھا تھا اور فراق صاحب نے ان کی شکل میں ایک بڑے شاعر کی پیش گوئی کی تھی۔ کسی حد تک تو یہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی لیکن بے وقت موت نے ان کا شعری سفر اچانک ختم کر دیا۔ چالیس سال کی زندگی میں ان کے چھ مجموعے شائع ہوئے۔ ان کے مرنے کے بعد ان کی کلیات کلیاتِ مصطفی زیدی کے نام سے شائع ہوئی۔

کلام مصطفٰی زید ی

زبانِ غیر سے کیا شرحِ آرزو کرتے

وہ خود اگر کہیں مِلتا تو گفتگو کرتے

وہ زخم جِس کو کِیا نوکِ آفتاب سے چاک

اُسی کو سوزنِ مہتاب سے رفو کرتے

وہ پچاس کی دہائی کے آغاز میں پاکستان آ گئے اور پھر گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادیبات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے اسلامیہ کالج کراچی اور پھر پشاور یونیورسٹی میں لیکچرار کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیئے۔ 1954ء میں انہوں نے سول سروس کا امتحان پاس کیا اور فوراً ہی اس نوکری سے وابستہ ہو گئے۔ وہ پاکستان کے مختلف حصوں میں سرکاری فرائض سرانجام دیتے رہے۔ وہ نوابشاہ‘ ساہیوال‘ جہلم‘ خانیوال اور لاہور کے ڈپٹی کمشنر رہے۔

مصطفی زیدی کی شاعری کو بہرحال ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے جدید طرز احساس کو شعری طرز احساس سے بڑی خوبصورتی سے ملایا اور نئے نئے موضوعات کو اپنی شاعری کا حصہ بنایا۔ اردو ادب کے سکہ بند نقاد بھی مصطفی زیدی کی شعری عظمت کے معترف ہیں۔ انہیں کسی بھی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

کلام مصطفٰی زید ی

خواب میں تجھ سے ملاقات رہا کرتی تھی

خواب شرمندۂ تعبیر ہوا کرتے تھے

تیرے الطاف و عنایت کی نہ تھی حد ورنہ

ہم تو تقصیر ہی تقصیر ہوا کرتے تھے

مصطفےٰ حسنین زیدی نے1942ءسے شعر کہنا شروع کیا۔ اس عہد کی زندہ روایت جوش اور مجاز کی رومانوی باغیانہ خطابتی شاعری کی فضا تھی۔ دوسری طرف جگر مراد آبادی، حفیظ جالندھری اور احسان دانش بھی بہت مقبول ہوئے۔ اختر شیرانی کی نظمیں بھی نوجوان نسل کے لئے بہت دلکش تھیں، لیکن مصطفی زیدی کو باغیانہ خطابت اور رومانوی فضا زیادہ پسند آئی۔ دراصل یہ ایک ایسا عہد تھا، جس میں داخلی و خارجی دونوں اعتبار سے پورا معاشرہ مختلف جبریتوں اور بندھنوں کا شکار تھا۔ ایسے میں بغاوت اور عشق جیسے تخلیقی عوامل سیاسی، معاشرتی اور جذباتی گھٹن کو توڑ کر نئی راہ اختیار کر گئے۔ اسی بغاوت، معاشرتی شعور اور عشق کا نتیجہ تیغ (مصطفی زیدی) کی ابتدائی نظمیں ہیں۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ”زنجیریں“ اس کی مثال ہے۔ زنجیریں سنگم پبلشنگ ہاﺅس الٰہ آباد (بھارت) سے جولائی1947ءمیں شائع ہوا۔اس کا دیباچہ پروفیسر رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری نے تحریر کیا۔

وہ بھی تو سنیں میرے یہ اشعار کسی روز

جو لوگ نئی نسل کو اچھا نہیں کہتے

مصطفی زیدی بنیادی طور پر نظم کے شاعر ہیں، مگر ان کی غزل بھی کم از کم نظر انداز کی جانے والی نہیں ہے، بلکہ غزل میں بھی وہ ایک صاحب طرز شاعر ہیں۔ ان کی غزل کی لذت اور انفرادیت انہیں زندہ رکھنے کے لئے کافی ہے۔

“شہر آزر“ کی غزلوں میں شاعر کا اپنے قلم پر اختیار کا احساس دکھائی دیتا ہے۔ اس مجموعے کا شاعر اپنی چند غزلوں میں بھی اپنی نظموں کی طرح فنی مہارت اور شعور کا مظاہرہ کرتا ہے۔ ان غزلوں میں تفاصیل کی جگہ تفاصیل ہیں اور ایجاز واختصار کے تقاضوں کے مطابق ایجاز و اختصار سے پختہ کاری کا ثبوت دیا گیا ہے۔ ”شہر آزر“ کی غزلوں میں نئے پن کی تلاش نہیں ہے، مگر تازگی کا احساس ہے، اس لئے کہ مصطفی زیدی اپنے حال میں زندہ رہتے ہوئے سچ بولتے ہیں۔ انہوں نے اپنے فن کی بنیاد حقیقت صداقت اور دیانت پر رکھی اور اس کے باوجود فن کے جمالیاتی مطالبات کو نہ صرف پورا کیا، بلکہ انہیں اور نکھارا

کلام مصطفٰی زید ی

زندگی دھوپ کا میدان بنی بیٹھی ہے

اپنا سایہ بھی گریزاں، ترا داماں بھی خفا

رات کا روپ بھی بے زار، چراغاں بھی خفا

صبح حیراں بھی خفا، شام حریفاں بھی خفا

مصطفی زیدی شعرا کے اس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں، جنہوں نے شاعری کو سچ بولنا سکھایا۔ سچ بولنا ہر صورت میں مشکل ہے۔ جب معاشرے کی بنیاد ہی جھوٹ پر ہو۔ سچ بولنا، شیش محل پر پتھر مارنے کے مترادف ہے اور ظاہر ہے کہ ہر معاشرے میں اس کی ایک سزا مقرر ہے، جس شخص کو یہ سزا قبول ہو، وہی سچ بولنے کا حوصلہ کر سکے گا، پھر اپنے بارے میں سچ بولنا تو اس سے بھی زیادہ دشوار مرحلہ ہے، یقینا تہذیب کے بعض مثبت پہلو بھی ہیں، مگر اسی تہذیب نے ہمیں اپنے چہروں اور شخصیتوں پر خول چڑھائے رکھنا بھی سکھایا ہے۔

کلام مصطفٰی زید ی

غمِ دوراں نے بھی سیکھے غمِ جاناں کے چلن

وہی سوچی ہوئی چالیں وہی بے ساختہ پن

وہی اقرار میں انکار کے لاکھوں پہلو

وہی ہونٹوں پہ تبسم وہی ابرو پہ شکن

اس طرح جب ہم اپنے بارے میں سچ بولتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے ہی راز فاش کر رہے ہیں اور ساتھ ہی صدیوں پرانے معاشرتی ضابطوں کو توڑ رہے ہیں اور معاشرتی ضابطوں کی گرفت بہت سخت ہوتی ہے، چنانچہ معاشرے کے حوالے سے اپنے بارے میں سچ بولنا سر کو ہتھیلی پر رکھ لینا ہے۔ اسی لئے جب مَیں یہ کہتا ہوں کہ مصطفی زیدی شاعروں کے اس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں ، جس نے اُردو شاعری کو سچ بولنا سکھایا تو اس سے میرا مطلب یہ ہے، کہ انہوں نے اردو شاعری کو حوصلہ مندی اور جرا¿ت، حقیقت اور صداقت، انصاف اور دیانت کی قدروں سے روشناس کیا“۔

کلام مصطفٰی زید ی

ہمارے واسطے یہ رات بھی مقدر تھی

کہ حرف آئے ستاروں پہ بے چراغی کا

لباس چاک پہ تہمت قبائے زریں کی

دل شکستہ پہ الزام بد دماغی کا

اس حقیقت پسندی اور سچائی کی مثالیں ”شہر آزر“ کی غزلوں میں جا بجا دیکھی جا سکتی ہیں

مصطفی زیدی بنیادی طور پر اردو شاعری کی کلاسیکی روایت سے پیدا ہونے والے شعرا میں سے ہیں۔ اُردو شاعری کی کلاسیکی روایت سے تعلق رکھنے والے شاعر کا خمیر غزل سے اٹھتا ہے۔ چاہے ان کی شاعری میں غزلوں کی تعداد کم ہی کیوں نہ ہو۔ خواہ انہیں غزل کا مشہور اور اہم شاعر مانا جائے یا نہ مانا جائے۔ مصطفی زیدی کا شمار ایسے ہی شاعروں میں ہوتا ہے، لیکن ان کی غزلوں کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ وہ غزل کے ایک اچھے شاعر ہیں۔ چند مثالیں ”شہر آزر“ کے حوالے سے یہ ہیں

کلام مصطفٰی زید ی

یہاں ہم اپنی تمنا کے زخم کیا بیچیں

یہاں تو کوئی ستاروں کا جوہری بھی نہیں

مصطفی زیدی کی غزلوں میں فنی شعور اساتذہ کے عظیم تجربوں کے مطالعے سے آیا ہے۔ وہ ماضی و حال دونوں سے واقف ہیں اور اپنی بھرپور تخلیقی قوت پر فنی تنظیم کی مہر ثبت کرتے ہیں، روانی ان غزلوں میں بھی موجود ہے۔

مصطفیٰ زیدی 1951ء میں کراچی چلے گئے تھے۔ کچھ دن وہ اسلامیہ کالج پشاور میں بطور استاد تعینات رہے۔ وہاں سے نکالے گئے۔ پھر انہوں نے سی ایس پی کا امتحان دیا جس میں کامیابی حاصل کی اور اہم عہدوں پر کام کیا۔ لیکن بار بار کے مارشل آزادیِ فکر کا گلا گھونٹ دیا تھا جس کی باز گشت ان کے اشعار میں سنی جا سکتی ہے۔

کلام مصطفٰی زید ی

جس دن سے اپنا طرزِ فقیرانہ چھٹ گیا

شاہی تو مل گئی دلِ شاہانہ چھٹ گیا

نامور شاعر اور سی ایس پی آفیسر مصطفی زیدی 12 اکتوبر 1970 کو کر اچی میں ایک ہوٹل کے کمرے میں مردہ پائے گئے۔ اس وقت ان کی عمر چالیس برس تھی۔ ایک خوبرو عورت شہناز گل کو پو لیس نے حراست میں لے کر شامل تفتیش کیا۔ یہ خاتون وہی شہنا ز تھی جو ان کی چند معروف نظموں کا عنوان ہے۔

وہ جب کراچی میں اسسٹنٹ کمشنر تھے اسی وقت جنرل یحییٰ خاں کے عتاب کے بھی شکار ہوئے اور یحییٰ خاں نے جو 303 افسران کی ہٹ لسٹ تیار کر رکھی تھی اس میں مصطفیٰ زیدی کا نام بھی تھا مگر فوجی آمر کی گولیوں سے قبل وہ کسی بڑی سازش کا شکار ہو گئے اور اس کا سبب بنی ایک خاتون شہناز گل، جس کے باعث مصطفیٰ زیدی کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا۔جس پر بعد میں تحقیقاتی کمیشن بھی بنا تھا اور مقدمہ بھی عدالت میں گیا تھا۔ یہ مقدمہ اخبارات نے اس قدر اچھالا کہ مہینوں تک اس پر دھواں دھار بحثیں ہوتی رہیں۔ عدالت نے طویل رد و کد کے بعد فیصلہ دیا کہ یہ قتل نہیں بلکہ خودکشی تھی اور شہناز گل کو بری کر دیا۔

شہناز گل کے لیے مصطفیٰ زیدی نے کئی غزلیں اور نظمیں کہی تھیں جن میں یہ شعر بہت مشہور ہے

کلام مصطفٰی زید ی

فنکار خود نہ تھی مرے فن کی شریک تھی

وہ روح کے سفر میں بدن کی شریک تھی

لیکن اس پراسرار مو ت کی وجہ آج تک معلوم نہ ہو سکی۔ شہنا ز گل کو رہا کر دیا گیا۔ اس رات کو کیا ہو ا جب یہ نامور شاعر ہوٹل میں ٹھہرا تھا۔ کوئی گواہ یا ایسی شہادت نہ مل سکی جس سے اس راز سے پر دہ اٹھ سکتا۔ اسی کا کہا ہوا شعر اس پر صادق آیا۔

کلام مصطفٰی زید ی

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

مصطفیٰ زیدی کو جس درد و کرب سے گزرنا پڑا اس کی باز گشت ان کی غزلوں کے اشعار میں سنائی دیتی ہے۔ خاص طور پر ان کی مشہور غزل میں تو یہ کرب بار بار اتر آتا ہے

کسی اور غم میں اتنی خلشِ نہاں نہیں ہے

غمِ دل مرے رفیقو غمِ رائیگاں نہیں ہے

کوئی ہم نفس نہیں ہے کوئی ہم زباں نہیں ہے

فقط ایک دل تھا اب تک سو مہرباں نہیں ہے

مری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھو

مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے

کسی آنکھ کو صدا دو کسی زلف کو پکارو

بڑی دھوپ پڑ رہی ہے کوئی سائباں نہیں ہے

انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آسکو تو آؤ

مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

مصطفیٰ زیدی جوش ملیح آبادی سے متاثر تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی شاعری میں جوش جیسی گھن گرج نہیں ہے۔ لیکن زیدی نے بھی کربلا کے استعارے کو بہت خوبصورتی سے استعمال کیا ہے

مصطفٰی زیدی نے شاعری میں اپنا مرشد حضرت جوش ملیح آبادی صاحب کو مانا ہے ۔اکثر وہ یہ بات کہتے تھے کہ میں نے جوش صاحب کے قدموں میں بیٹھ کر سیکھا ہے ۔

کلام مصطفٰی زید ی

ایسی سونی تو کبھی شامِ غریباں بھی نہ تھی

دل بجھے جاتے ہیں اے تیرگیِ صبح وطن

میں اسی کو ہ صفت خون کی ایک بوند ہوں جو

ریگ زارِ نجف و خاکِ خراساں سے ملا

جدید غز ل کی تشکیل میں مصطفیٰ زیدی کا بہت اہم حصہ ہے اور ان کے شعری مجموعے موج مری صدف صدف، شہر آرزو،زنجیریں، کوہ ندا اور قباے سازاردو کے شعری ادب میں اضافہ کی حیثیت رکھتے ہیں

کلام مصطفٰی زید ی

غمِ دوراں نے بھی سیکھے غم جاناں کے چلن

وہی سوچی ہوئی چالیں وہی بے ساختہ پن

وہی اقرار میں انکار کے لاکھوں پہلو

وہی ہونٹوں پہ تبسم وہی ابرو پہ شکن

حدیث ہے کہ بھولا گناہ گار نہ ہو

گناہ گار پہ پتھرسنبھالنے والے

خود اپنی آنکھ کی شہتیر کی خبر رکھیں

ہماری آنکھ سے کانٹے نکالنے والے

مصطفی زیدی ایک ایسے شاعر تھے جس کی تخلیقی صلاحیتوں کو جوش ملیح آبادی اور فراق گورکھپوری جیسے بڑے شاعروں نے سراہا تھا۔ وہ ایک ایسا شاعر تھا جو محبت اور زندگی کے بارے میں خاص نکتہ نظر رکھتا تھا۔ اسے بطور شاعر اپنی اہمیت کا احساس تھا۔ کتا ب ’’ مصطفی زیدی شخصیت اور شاعری ‘‘ کے مصنف ظفراللہ خان نے لکھا ہے کہ ’’مصطفی زید ی محبت کا خوگر تھا اور اوائل شباب میں سات لڑکیو ں سے عشق رچا چکا تھا اور ان میں سے تین کے لیے تو خودکشی کرنے نا کام کوشش بھی کرنے سے گریز نہیں کیا تھا۔ ایک امریکن ٹیچر کے عشق کے چکر میں بھی وہ خودکشی کرنے کی جانب راغب ہوا تھا۔

کلام مصطفٰی زید ی

تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرح

میرا ہر شعر دمکتا ہے نگینے کی طرح

پُھول جاگے ہیں کہیں تیرے بدن کی مانند

اوس مہکی ہے کہیں تیرے پسینے کی طرح

زیدی کی مو ت کے بعد شہناز گل نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’ وہ مجھے شادی کے لیے مجبور کر تا رہا، میں اسے کہتی کہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہے اور دوبچوں کا باپ ہے اس لیے میں اس سے شادی نہیں کر سکتی۔ لیکن وہ باز نہ آیا اور ایک دن اس نے دھمکی دی کہ اگر میں مر گیا تو اس کی ذمہ دار میں ہوں گی۔ ‘‘ اس کے بہی خواہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کے خیالات کو سوسائٹی نے کوئی اہمیت نہ دی اور حرف تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ حکومت نے اسے سروس سے معطل کر دیا، یہ تمام عوامل ایسے تھے جو اس کے اند ر جارحیت پید ا کرتے رہے جس کے نتیجے میں اس نے خودکشی کی تھی۔

تیغ الہ آبادی کے قلمی نام سے شاعری کا آغاز کیا۔ سترہ برس کی عمر میں ان کا پہلا مجموعہ کلام شائع ہو چکا تھا۔ 1952 میں گورنمنٹ کالج لا ہور سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔ اسلامیہ کالج کراچی اور پشاور یونیورسٹی میں پروفیسر رہے۔ سول سروس کا امتحان پاس کرنے کے بعد پیشہ ورانہ امور کی تربیت کے لیے انہیں انگلینڈ بھیجا گیا۔ ڈپٹی کمشنر ہونے کے بعد ڈپٹی سیکرٹری بھی مقرر ہوئے۔ سترہ برس کی عمر میں اس کی شاعری نے سب کو حیران کردیا کہ اس کم عمری میں بھی اس کی شاعری میں پختگی موجزن تھی۔

ابتدا میں وہ فراق گھوکھپوری سے متاثر تھے اس کے بعد جو ش ملیح آبادی کی انقلابی فکر سے متاثر ہو ئے۔ لیکن رفتہ رفتہ وہ اپنی الگ راہ بنا نے میں کا میا ب ہو ئے۔ ان کے مجموعہ ہا ئے کلام میں ’’روشنی ‘‘۔’’شہر آذر‘‘۔’’مو ج میری صد ف صدف ‘‘۔’’ گریبان‘‘۔’’قبائے ساز‘‘اور ’’ کوہ ندا‘‘ شامل ہیں۔ مصطفی زیدی نے ایک جرمن خاتون ویرا سے شادی کی جن سے ان کے دو بیٹے پیدا ہوئے۔ ان کی موت کے بعد ویرا زیدی اپنے وطن واپس لو ٹ گئیں۔

مصطفیٰ زیدی جب گوجرانوالہ آئے تو یہیں ان کی ملاقات شہناز سے ہوئی شہناز گُل ۔۔۔۔۔ وہ پری وش جو مصطفےٰ زیدی کی زندگی کے آخری ایام میں اس کی تنہائیوں کی رفیق اور زندگی کے آخری پُر اسرار لمحوں کے رازوں کی امین تھی

جرمن بیوی ویرا زیدی اور دونوں بچے جرمنی میں تھے، پاسپورٹ سرکار نے ضبط کر رکھا تھا، ایسے عالم میں ماسٹر ٹائر اینڈ ربر فیکٹری کے مالک فیاض ملک نے آگے بڑھ کر دوستی کا حق ادا کر دیا اور اپنے بنگلے کی انیکسی مصطفی زیدی کو رہائش کے لیے دے دی۔ اسی انیکسی میں ان کی ملاقاتیں ایک عرصے تک تو شہناز گل سے جاری رہیں، لیکن بعد میں یہ سلسلہ بوجوہ آگے نہ بڑھ سکا۔

کلام مصطفٰی زید ی

اسی کے دم سے گھٹاؤں کے سرمئی آنچل

اسی سے ہونٹ بہاراں، اسی سے آنکھ کنول

یہی کلاہ کا ہیرا، یہی کسان کا ہل

یہی ہے صبحِ گلستاں، یہی شبِ مقتل

بغیر اس کے رہِ سروری نہیں ملتی

کسی کو دولتِ پیغمبری نہیں ملتی

ایک دن مصطفی زیدی نے حبیب بینک پلازہ کے سگنل پر رکی ایک کار میں دیکھا کہ ان کی محبوبہ شہناز گل معروف صنعت کار آدم جی پیر بھائی کے ساتھ بیٹھی ہے۔ مصطفی زیدی جیسا حساس اور زود رنج شاعر اس نظارے کو برداشت نہ کر سکا، وہ تو سمجھتا تھا کہ شہناز گل اس کی محبت میں گرفتار ہے، اس کی چاہتوں کی اسیر ہے۔

(کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ زیدی مردہ حالت میں ہوٹل سمار کے ایک کمرے میں پائے گئے تھے جبکہ بعض کا خیال ہے کہ ان کی لاش ان کے دوست کے بنگلے سے ملی تھی۔ اس میں تضاد ہے)

جس پر بعد میں تحقیقاتی کمیشن بھی بنا تھا اور مقدمہ بھی عدالت میں گیا تھا۔ یہ مقدمہ اخبارات نے اس قدر اچھالا کہ مہینوں تک اس پر دھواں دھار بحث ہوتی رہی۔ ان دنوں ہمارے اخبارات اچانک ہی بالغ ہو گئے تھے کیونکہ عدالت میں شہناز گل کے دیئے گئے بیانات نے بہت سے لوگوں کو اپنے گھر آنے والے اخبارات کو روکنا پڑا تھا

اور ہفت روزہ چٹان میں شورش کشمیری نے ایک نظم لکھی۔ شورش کاشمیری منٹو کے تقی کاتب کے والد کی کچھ خصوصیات سے مملو تھے۔ اس ایک شعر سے اس نظم کے موڈ کا اندازہ لگانا مشکل نہ ہو گا۔

بانجھ ہو جائیں زمینیں، بیٹیاں پیدا نہ ہوں

یا خدا شہناز گل سیِ بیٹیاں پیدا نہ ہوں

رضا علی عابدی نے مصطفی زیدی کے ساتھ نیم مردہ حالت میں پائی جانے والی خاتون شہناز کا احوال بھی اپنے دلچسپ انداز میں لکھا ہے۔ واقعہ یوں ہوا کہ پہلے یہ خبر بطور ایک چھوٹی خبر موصول ہوئی کہ ایک سرکاری افسر نے خودکشی کرلی ہے، جب خبر پھیلی کہ متوفی مصطفی زیدی ہیں تو تمام اخبارات اس خبر کی تفصیل کے پیچھے پڑ گئے اور بقول عابدی صاحب ایسی ایسی داستانیں نکال کر لائے کہ مصطفی زیدی اگر اس وقت بچ جاتے تو اب مر جاتے۔

کلام مصطفٰی زید ی

انہی پتھروں پہ چل کر گر آسکو تو آؤ

میرے گھر کے راستے میں کہیں کہکشاں نہیں ہے

عدالت میں حریت کے فوٹو گرافر نے شہناز گل کی ایک قد آدم تصویر کھینچ لی۔ رضا علی عابدی بیان کرتے ہیں کہ اس واقعے کے کافی عرصے کے بعد افتخار عارف نے ایک تقریب میں شہناز گل سے کہا کہ ’ابھی تو آپ پر دس بیس شاعر اور قربان ہو سکتے ہیں۔

عدالت نے طویل ردوکد کے بعد فیصلہ دیا کہ یہ قتل نہیں بلکہ خودکشی تھی اور شہناز گل کو بری کر دیا۔ مصطفی زیدی کی وفات کا دکھ ادبی حلقوں ہی میں نہیں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد میں محسوس کیا گیا۔

کلام مصطفٰی زید ی

آندھی چلی تو نقشِ کفِ پا نہیں ملا

دل جس سے مل گیا تھا دوبارہ نہیں ملا

ہم انجمن میں سب کی طرف دیکھتے رہے

اپنی طرح سے کوئی اکیلا نہیں ملا

جوش ملیح آبادی نے اس سانحے پر کہا \”زیدی کی موت نے مجھ کو ایک ایسے جواں سال اور ذہین رفیق سفر سے محروم کر دیا جو فکر کے بھیانک جنگلوں میں میرے شانے سے شانہ ملا کر چلتا اور مسائل کائنات سلجھانے میں میرا ہاتھ بٹایا کرتا\”

مصطفی زیدی کراچی میں خراسان باغ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں ۔

شہناز گل کے لیے مصطفیٰ زیدی نے کئی غزلیں اور نظمیں کہی تھیں جن میں یہ غزل بہت مشہور ہے

کلام مصطفٰی زید ی

فن کار خود نہ تهی ،مرے فن کی شریک تھی

وه روح كے سفر میں بدن کی شریک تھی

اُترا تھا جس پہ باب حيا كا ورق ورق

بستر كے ایک ایک شکن کی شریک تھی

میں اک اعتبار سے آتش پرست تھا

وه سارے زاویوں سے چمن کی شریک تھی

وه نازشِ ستاره و طَنّازِ ماہتاب

گردش کے وقت میرے گہن کی شریک تھی

وه ہم جليسِ سانحہ زحمتِ نشاط

آسائشِ صلیب و رسن کی شریک تھی

ناقابل بیان اندھیرے کے باوجود

میری دُعائے صبحِ وطن کی شریک تھی

دُنیا میں اک سال کی مدت کا قُرب تھا

دل میں کئی ہزار قرن کی شریک تھی

تحریر آفتاب احمد

SHARE

LEAVE A REPLY