ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں، مراعات میں خاموشی سے اضافہ ہو گیا

0
260

شاہد خاقان حکومت نے جاتے جاتے نہایت خاموشی سے مالی بل 2018-19 کے ذریعے موجودہ اور سابق اراکین پار لیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں بھی اضافہ کر دیا، اس سلسلے میں دستیاب دستاویزات کے مطابق حکومت کے اس اقدام کا فائدہ صرف پارلیمنٹیرینز ہی نہیں بلکہ ان جیون ساتھیوں کو بھی پہنچے گا، اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے فنانس بل کے دو قوانین میں تبدیلی کی گئی ہے۔ جن قوانین میں تبدیلی کی گئی ہے ان میں ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات کے قانون (تنخواہو ں اور الائونسز ایکٹ 1974)اور چیئرمین اور سپیکر کے تنخواہوں، الائونسز اور مراعات کے ایکٹ 1975 شامل ہیں، ان دونوں قوانین کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے الگ الگ منظو ری لی گئی جبکہ یہ قوانین مالی بل کی تعریف پرپورا نہیں اترتے۔

بل کے مطابق حکومت کے اس اقدام سے رخصت ہونے والی اسمبلی کے اراکین اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بھرپور فائدہ اٹھائیں گے اور ان کو ملنے والی مراعات گریڈ 22 کے ریٹائرڈ افسران کے برابر ہوں گی۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے قانون میں تبدیلی کی یہ ترامیم آخری لمحوں میں فنانس بل میں شامل کی گئیں جبکہ یہ تبدیلیاں فنانس بل کا حصہ نہیں تھیں ، مراعات کے ذریعے حکومت کی جانب سے انہیں تمام پاکستانی ایئر لائنوں پر حکومتی خرچے پر فری ہوائی سفر کی سہولت سے دی گئی ہے جبکہ پہلے وہ صرف پی آئی اے پر ہی فری سفر کے مجاز تھے۔

ہر ممبر پارلیمنٹ اندرون ملک تین لاکھ روپے تک کا فری ہوائی سفر کا مجاز ہے جبکہ ایک اور ترمیم کے ذریعے ممبران کو اسمبلی کے اجلاسوں کے دوران بزنس کلاس میں سفر کی تعداد کو 20 سے بڑھا کر 25 کر دیا گیا ہے ، جو وہ ملک کے کسی بھی حصے سے اسلام آباد کے لئے کر سکیں گے ،اس سے خزانے پر فی ممبر تین لاکھ کا مزید بوجھ پڑے گا ، حکومت کی جانب سے اراکین پارلیمنٹ کی میڈیکل کی سہولیات میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے، جو گریڈ 22 کے افسر کی مراعات کے برابر ہوں گی، ان سے ریٹائرڈ ممبران بھی استفادہ حاصل کر سکیں گے یہ سہولت حاضر سروس اور ر یٹائرڈ ارا کین پالیمنٹ کے علاوہ ان کے جیون ساتھیوں کو دی گئی ہے۔

مزید براں حکومت نے ریٹائرڈ پالیمنٹرینز اور ان کے جیوں ساتھیوں کو بلیو پاسپورٹ کے استعمال کی بھی اجازت دے دی جس سے ا نہیں پاکستان بھر میں کہیں بھی وی وی آئی پی شخصیت کی حیثیت حاصل ہو جائے گی یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں کا اعزازیہ بھی 12,700 سے بڑھا کر 25 ہزار ماہانہ کر دیا گیا ہے جو انہیں تنخواہ کے علاوہ ملے گا، اسی طرح سینیٹ کا ممبر چیئرمین قائمہ کمیٹی منتخب ہونے کے بعد 25 ہزار روپے اعزاز یہ کے علاوہ ایک گریڈ 17 کا پرائیویٹ سیکرٹری، گریڈ 15 کا ایک سٹینو گرافر، گریڈ 4 کا ایک ڈرائیور،اور گریڈ ون کا ایک نائب قاصد رکھنے کا مجاز ہو گا ،جبکہ اسے ماہانہ 10 ہزار روپے تک کے ٹیلی فون استعمال کرنے کی سہولت ،فرنیچر سمیت تمام ضروری لوازمات کے ساتھ ایک آفس کے استعمال کی بھی اجازت ہو گی۔ صادق سنجرانی بطور قائم مقام صدر پاکستان ان قوانین کی منظوری دے چکے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY