’عوام کو تخت رائے ونڈ سے آزادی دلائیں گے‘بلاول

0
933

بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی کی ’سلام شہداء‘ ریلی شروع ہوگئی جو کارساز پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوگی جبکہ ریلی کے آغاز پر بلاول چورنگی پر چیئرمین پیپلز پارٹی نے شرکاء سے خطاب بھی کیا۔

ریلی میں بلاول بھٹوزرداری کے ہمراہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف بھی موجود ہیں جبکہ عوام کی بڑی تعداد ریلی میں شریک ہے۔

پیپلز پارٹی کی ریلی بلاول چورنگی سے شروع ہوکر بوٹ بیسن، مائی کولاچی، آئی سی آئی چوک، ککری گراؤنڈ، لی مارکیٹ، نیپئر روڈ، ڈینسو ہال، ایم اے جناح روڈ، نمائش چورنگی اور شاہراہ قائدین سے ہوتی ہوئی کارساز پہنچے گی۔

اپنے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کراچی سندھ کے تاج کا نور اور قائد اعظم کا شہر ہے، ہم آج شہدائے کارسازکوخراج عقید ت پیش کرنےنکلےہیں۔

انہوں نے کہا کہ جہاں ظلم کے خلاف جنگ ہوگی کربلا کا میدان سجے گا، کارساز کے شہداء نے قربانی کی عظیم مثال قائم کی۔

……………………

پیپلزپارٹی کی سلام شہداء ریلی کا بلاول ہاؤس سے آغاز ہوگیا ہے، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ریلی کی قیادت کررہے ہیں، خصوصی ٹرک پر بلاول، سابق وزارائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف سمیت مرکزی رہنما سوار ہیں۔ ریلی کے آغاز پر فریال تالپور نے بلاول بھٹو زرداری کے بازو پر امام ضامن باندھا۔

ریلی شہر کے مختلف علاقوں سے ہوتی ہوئی کارساز پر ختم ہوگی، اس دوران چیئرمین بلاول بھٹو زرداری 4مقامات پر خطاب کریں گے، بھٹو زرداری کا شرکا سے پہلا خطاب بلاول ہاؤس چورنگی پر متوقع ہے۔

بختاور بھٹو اورآصفہ بھٹو سمیت پیپلز پارٹی کی خواتین رہنما فریال تالپور،شیریں رحمان ،شہلا رضا بھی ریلی میں شریک ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ریلی سے جمہوریت کو تقویت ملے گی جبکہ پی پی رہنما آغا سراج درانی کہتے ہیں کہ آج کی ریلی بہت بڑی اور تاریخی ہوگی۔

سانحہ کارساز کی یاد میں سلام شہدا ریلی کے سلسلے میں ڈرگ روڈ سے بلوچ کالونی تک شارع فیصل کےدونوں ٹریک بندکردیے گئے ۔جانثارانِ بینظیر بھٹو کےایک ہزار جیالے سیکورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔

جیالوں کا جوش و جذبہ قابل دید ہے ، جو ڈھول کی تھاپ پر رقص کررہے ہیں، کراچی میں پیپلز پارٹی کی ریلی میں جوشیلے جیالوں نے تو رنگ جمایا ہی ہے، حیدرآباد سمیت سندھ کے مختلف شہروں سے بھی کراچی آنے والے قافلوں میں بھی جوش عروج پر ہے۔

کراچی میں پیپلزپارٹی کے تحت نکالی جانے والی ریلی کے سلسلے میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں

………………………………………..

پیپلز پارٹی آج کراچی میں سیاسی طاقت کا مظاہرہ کررہی ہے۔ سانحہ کارساز کی یاد میں ’سلام شہداء ریلی‘ کے انتظامات مکمل کرلیے گئے، شارع فیصل بند پر غیر معمولی رش ہونے کی وجہ سے متبادل راستوں کے لیے ٹریفک پلان جاری کر دیا گیاہے۔

پیپلز پارٹی کی سلام شہدا ریلی کے لیے شہر کی تمام مرکزی شاہراہوں اور سڑکوں پر پیپلز پارٹی کے استقبالیہ کیمپ لگائے گئے ہیں جن میں پارٹی کے ترانے بجائے جارہے ہیں اور کارکنان رقص کررہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی سلام شہدا ریلی کا آغاز بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں صبح 10بجے بلاول ہاؤس چورنگی سے ہو گا۔ جہاں بلاول بھٹو زرداری شرکاء سے پہلا خطاب کریں گے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین خصوصی طور پر تیار کئے گئے بم پروف ٹرک میں سوار ہو کر ریلی کی قیادت کریں گے۔ ان کی حفاظت “جانثاران بے نظیر بھٹو” کریں گے۔

ریلی بوٹ بیسن سے مولوی تمیز الدین خان اور جناح برج سے ہوتے ہوئے کھارادر جماعت خانہ اور پھر ککری گراؤنڈ اور لی مارکیٹ پہنچے گی۔ جہاں بلاول بھٹو زرداری لیاری کے لوگوں سے خطاب کریں گے جس کے بعد ریلی رنچھوڑ لائن سے ہوتی ہوئی سعید منزل کے قریب ایم اے جناح روڈ پر نکلے گی اور وہاں سے مزار قائد کے سامنے بھی بلاول بھٹو زرداری کا خطاب متوقع ہے۔

مزار قائد سے ریلی خداداد کالونی جائے گی جہاں سے براستہ شاہراہ قائدین اور شاہراہ فیصل سے کارساز پہنچے گی۔ یہاں بلاول بھٹو زرداری جیالوں سے اہم خطاب کریں گے

یہ بلاول بھٹو زرداری کی کراچی میں پہلی بڑی عوامی ریلی ہے۔ بلٹ پروف جلسوں کے بعد بلاول بھٹو عوام کے درمیان ہوں گے۔کراچی کے سیاسی کیمپ سے بلاول پنجاب کے سیاسی محاذ کو للکاریں گے اورشہر قائد کے مسائل پر بھی کھل کر بولیں گے۔
جیالے ریلی کو کامیاب بنانے کے لیے رات بھر تیاریاں کرتے رہے اوردیوانہ وار رقص کرتے رہے۔ ریلی لیاری سے بھی گزرے گی، اسی لیے لیاری میں بھی جشن کا سماں ہے

SHARE

LEAVE A REPLY