ہم گزشتہ مضمون میں یہاں تک پہونچے تھے کہ یہ مہینہ جتنا حسن وسلوک کا مہینہ ہے کوئی اور مہینہ نہیں ہے۔ اس لیے اس سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہئے۔اب آگے بڑھتے ہیں کہ وہ لوگ بڑے بد قسمت ہیں کہ جنہوں نے اس برکتوں والے مہینے کا ایک عشرہ گزار دیا اوراس سے فائدہ اٹھاکر اللہ سبحانہ تعالیٰ مغفرت نہیں کرالی۔ جبکہ اس کی ایک خوبی یہ ہے کہ نیکیوں کاماحول موجودہوتا۔ دوسرے اللہ تعالیٰ کی مہربانی کہ وہ ہر نیکی کا ثواب کم از کم ستر گنا اور بے حساب بھی دیتا ہے۔ تیسری خوبی اس مہینہ کی یہ ہے کہ امت جو اجتماعیت کھوچکی ہے۔ اخوّت اور مودّت کھوچکی ہے ۔ وہ پھر سے اس طرف مائل ہوجاتی ہے ۔ ورنہ گیارہ مہینے تو صورتِ حال یہ رہتی ہے۔ کہ پورا خاندان کبھی ایک میز پر کھانے اور ناشتے کے لیے جمع نہیں ہوتا؟ لیکن اس مہینہ کی برکت سے لوگ دوبارہ اجتماعیت کی طرف لوٹ آتے ہیں۔مساجد میں ا ور گھروں میں سب افطار کے وقت یک جا دکھائی دیتے ہیں ۔ ہم نے وہ دور بھی دیکھا ہے کہ جدھر بھی نگاہ ڈالتے تھے ۔ ہرطرف لوگوں کے اجتماعات افطار کرتے نظر آتے تھےجو مسجد میں افطار کے نہیں بھی جاتے تھے۔ کیونکہ کسی کو افطاکرانا بہت ہی بڑا ثواب کاکام سمجھا جاتا تھا۔لہذا ہر صاحبِ حیثیت کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ اپنے مردانے حصہ میں افطاری کا اہتمام کرے اور ہرایک کو ثواب سے غرض تھی اپنے یا پرائے کی کوئی تمیز نہیں ہوتی تھی ہرایک فطار میں شامل ہوسکتاتھا۔ اس کو سندھ میں اوطاق اور پنجاب میں بیٹھک سرحد اور بلوچستان میں حجرہ کہاجاتا تھا۔اب وہاں بجائے اس قسم کی رونق کے الو بولتا نظر آتا ہے۔ کیونکہ اب تہذیب اتنی بدل گئی ہے کہ پڑوسی پڑوسی کو نہیں پہچانتا؟ ہر ایک مال کمانے کے چکر میں اتنا پریشان رہتا ہے کہ اسے کسی او رکام کی فرصت نہیں ہوتی؟ جبکہ تعالیٰ نے یہاں اچھےعمل کرکے جنت کمانے کے لیے بھیجا تھا؟ ابھی بھی کہیں کہیں اس کے مظاہرے نظر آتے ہیں مگر کم۔ البتہ ہم نے حرم پاک میں دیکھا لوگ افطار کرارہے ہوتے ہیں ۔ لیکن مدینہ منورہ میں ہم نے جو حالت دیکھی وہ اس سے قطعی مختلف ہے کہ وہاں شیخ افطار کے لیےا پنی صفیں پچھائے ہوئے بیٹھے ہوتے ہیں اور دروازے پر ان کے خدام لوگوں کو ہاتھ پکڑ پکڑ کرلارہے ہوتے ہیں ۔ اس طرح ایک مقابلے جیسی فضا پیداہوجاتی ہے۔ ہم نے اس پر تحقیق نہیں کری لیکن ممکن ہے کہ دروازے سے ہاتھ پکڑ کر لانے والوں میں کچھ رضاکار بھی ہوتے ہوں ۔کیونکہ ا للہ کی راہ خرچ کرنے والوں جتنا ثواب ملتا ہے۔ اسی طرح جو کسی کی ایک دوسرے کے ساتھ نیکی میں معاونت کر یں اور مدد کریں وہ بھی ثواب کے حقدار ہوتے ہیں۔مزید یہ کہ جو نیکی کی ترغیب دلاتے ہیں ان کوبھی اتنا ہی ثواب ملتا ہے۔ جبکہ اس میں خرچ کچھ بھی نہیں ہوتاجو دوسروں کے معاون بنتے ہیں اللہ سبحانہ تعالیٰ اجرانہیں اپنے پاس سے عطا فرماتاہے۔ مگر شرط خلوص ہے۔ کسی غیر کی خوشنود ی نہیں سوائے اللہ سبحانہ تعالیٰ کی خوشنودی کے۔ اس کار خیر کے لیے غریب اور امیر کی بھی قید نہیں ہے۔ جبکہ اپنوں کو افطار کرانے کا ثواب دوگنا ہے ۔ ایک روزہ افطار کرانے کا ثواب ،دوسرا صلہ رحمی کا ثواب؟ اس کے لیے یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ انواع اقسام کےکھانے ہوں۔ جب حضور (ص) سے صحابہ کرام نے پوچھا کہ ہمارے مالدار تو یہ کام آسانی کرسکتے ہیں وہ ہم پر بازی لے جائیں گے۔ مگر ہم سب کے پاس ہر وقت تو اتنا نہیں ہوتا کہ افطار کرائیں ہم کیا کریں؟ حضور (ص)نے فرمایا کہ نصف کھجور ہی سہی اور کچھ بھی نہ ہو تو ایک گلاس پانی سے وہ افطار کرادے۔ اس کو بھی ثواب وہی ملے گا جو اوروں کوملے گا۔ اب سوال یہ کہ ثواب کیاہے۔ ایک حدیث میں تو یہ ہے کہ افطار کرانے والے کی اللہ سبحانہ تعالیٰ مغفرت فرمادیتا ہے۔ مگر اس حدیث کو بعض محدثین ضعیف کہتے ہیں۔ لیکن اس پر سب ہی متفق ہیں کہ اس کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا روزہ رکھنے والے کو ملے گااور وہ مغفرت ہے۔ واللہ عالم













