اکیس جنوری کامریڈ لینن کا یوم وفات ہے،،کامریڈ انور زیب

0
1127

محنت کش طبقے کے عالمی رھنما کامریڈ لینن کی 21جنوری ستانویں برسی ہے، مارکس اور اینگلز کے افکار کو بڑھاوا دینے والا بین الاقوامی روسی پرولتاریہ کا ربنما سویت یونین میں کمیونسٹ پارٹی کا بنیاد گزار، سویت ریاست کا معمار 1870 کو سمبرسک میں پیدا ھوئے، 1887 میں جمنازم سیکنڈری سکول سے فارغ ھوکر کازان یونیورسٹی میں شعبہ قانون لاء فیکلٹی میں داخل ھوئے لیکن وہاں طلبا کی انقلابی تحریک سے وابستگی کی وجہ سے گرفتار ھوگئے، 1891 خارجی طالب علم کی صورت میں اس نے گریجویشن کر لیا، کازان اور سمارا میں لینن نے مارکس ازم کا مطالعہ شروع کیا اور مارکسسٹ بن گیا، انھوں نے سمارا میں مارکسی سٹڈی سرکل کی بنیاد رکھی اور پھر وہ 1893 میں پیٹرس برگ آکر وہاں کی مارکسی پارٹی کے لیڈر بن گئے.

پھر 1894میں انہوں نے اپنا پہلا علمی پراجیکٹ مکمل کیا

“what the friends of the people “

 انکا دوسرا پراجیکٹ اس نام سے تھا
 “Are and how they fight the Social Democrats “
اسمیں لینن نے نیرودنک تھیوری اور اسکے حربوں کی خوب خبر لی، اس نے بتایا کہ روسی محنت کش طبقات ہی جدوجھد کی اصل بنیاد ہیں. 1895 میں سینٹ پیٹرس برگ میں مارکسی گروپ کو منظم کیا یہاں لینن کو گرفتار کیا گیا، اور سائبیریا بھیج دیا گیا. 1900 میں لینن دوبارہ واپس آئے اور روس کے باھر انھوں نے آسکرا کے نام سے ایک جریدہ شائع کرنا شروع کیا یہ پہلا مارکسی نظریاتی روزنامہ تھا جسے کافی مقبولیت ملی، اس روز نامے کی ترویج اور تشھیر کی دو اھم وجوہ تھیں، پہلی وجہ اشتراکی نظریات کی تبلیغ اور دوسری وجہ منافق رجعت پسندوں کی مخالفت ـ
گویا یہ جریدہ غیر انقلابی سماج میں انقلاب کے شعلے بھڑکانے کا پہلا زریعہ ثابت ھوا، اسکے بعد لینن کی قیادت میں دوسری کانگریس 1903 میں منعقد ھوئ اسمیں بالشویک پارٹی کا آغاز ھوا انھوں نے محنت کشوں کے مسائل کو شدید تنقیدی نکتہ نظر سے پیش کیا اور زارسٹ مطلق العنانی کی جگہ سوشلسٹ نظام کو بروئے کار لانے کا پروگرام بنایا، لینن نے مارکسی تخلیقی تعلیمات کو عام کیا اور نئے انداز سے تاریخی عمل کو وضح کرتے ھوئے اسکے عملی راستے متعین کرنے کے ساتھ ہی روسی انقلاب کے قطع نظر بین القوامی سطح پر سوشلسٹ تحریکات کے اثرات کا انکشاف کیا،
لینن نے اپنی معرکتہ الآرا تصنیف”سامراج سرمایہ داری کی آخری منزل “میں سرمایہ دارانہ پیداواری نظام کی انھی بنیادوں کی وضاحت کی جس کا کارل مارکس نے اپنی شھرہ ء آفاق کتاب سرمایہ میں جائزہ لیا ہے. لینن نے وضاحت کی کہ سرمایہ داری دراصل دور ملوکیت کی پیداوار ہے لینن نے کمیونسٹ پارٹی کے فریم ورک کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پرولتاریہ ہی سیاست کی بھاگ دوڑ اپنے ہاتھ میں لینگے، اشتراکی معاشرہ ہی ایک ایسا معاشرہ ہوگا جس میں مطلق العنانیت کا وجود دکھائ نہیں دے گا، یہ لینن ہی تھا جس نے روسی انقلاب کے داخلی اور خارجی مخالفوں کی نہایت تدبر اور تدبیر کے ساتھ بیخ کنی کی اور ایک پرامن سوشلسٹ ریاست کا بنیاد گزار ثابت ہوئے، لینن کا نام مارکس ازم اور مارکس ازم لینن کی عملی شخصیت کے بغیر ادھورا ہے .لینن نے اپنے دور میں تاریخی مادیت جدلیاتی فلسفے کے لیے بہت کام کیا.

لینن نے اپنی کتاب

“Materialism and Empirio- criticism “

میں جدید سائنسی نظریات کا تجزیہ کیا ہےاور جدلیاتی مادیت کی نقطہ نظر سے مارکسی فلسفے کے بنیادی اصولوں بالخصوص نظریہ علم پر سیر حاصل معلومات فراہم کی ہیں. لینن کے مطابق مارکس ازم ھر قسم کے تصوراتی مابعد الطبیعاتی فلسفے کی تردید کرتا ہے، لینن نے اپنی یاداشتوں، فلاسیفکل نوٹ بکس میں جدلیات پر تنقید اور تجزیے کو آگے بڑھایا ہے.
لینن کا تخلیقی مطالعہ خصوصا معاشیات،سیاست،سماجی روحانی ارتقا اور اسکے جدید آدرشوں کے حوالے سے مارکسی نظریہ عمرانیات کے جدید زاویوں کو بروئے کار لانے میں عھد ساز حیثیت رکھتا ہے. لینن کے ہاں طبقات اور طبقاتی جدوجھد کی تحقیق بے حد اھمیت کی حامل ہے جس کا مطالعہ انکی کتاب ریاست اور انقلاب میں کیا جاسکتا ہے، لینن نے مارکس ازم پر جو کام کیا ہے وہ گزشتہ تمام فلسفوں سے زیادہ اھمیت کا حامل ہے، لینن جو خود کو انقلابی جمھوریت پسند کہلواتے تھے آج گلوبل سطح پر جتنی آزادی کی تحریکات امن اور جمھوریت کے میدان میں سرگرم نظر آرہی ہیں وہ مارکس ازم اور لینن ازم کے فروغ کا ہی نتیجہ ہیں. دنیا انکو آج مانے یا نہ مانے لیکن کل ضرور مانے گی.


تحریر کامریڈ انور زیب

SHARE

LEAVE A REPLY