خطبہ امام زین العابدین کاچھٹا حصہ
جب طویل مسافت کے بعد اسیران کربلا شام پہنچے تو انہیں دربار یزید میں پیش کیا گیا ۔ امام سید الساجدین زین العابدین نے یزید ملعون کے دربار میں اہل شام اور درباریوں سے خطاب کیا۔ اسی خطبہ کے آغاز میں اللہ سبحانہ تعالی کی تعریف کی پھر نسبت رسول پاک کی فضیلیت بیان فرمائی ۔۔۔۔۔۔ پھر انہوں نے اپنا تعارف بیان کیا ۔۔۔یزید نے خطبہ سجاد کو روکنے اور لوگوں کی توجہ بانٹنے کے لئے بے وقت ازان کا حکم دے دیا تھا ۔ امام سجاد ع نے اذان کا جواب دیا ساتھ ساتھ دیا ۔
امام زین العابدین علیہ السلام نے دیکھا ان کے جواب پر لوگ زار و قطار رو رہے ہیں ۔ امام علیہ السلام نے انہیں خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے پھر کھڑے ہوگئے ۔ حمد خدا بجالائے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعریف بیان کی اور اپنے خطبے کو جاری رکھا ۔۔۔
یکایک چاروں طرف سے صدائیں بلند ہونے لگیں لوگ ایک دوسرے سے کہنے لگے ” تباہ و برباد ہو گئے ہم لوگ ”
پھر امام سجاد ع نے فرمایا :
” خدا رحمت نازل کرے
اس پر جو میری نصیحت کو قبول کرے
اس پر جو خدا و رسول (ص) ۔۔ خاندان پیغمبر(ص) کا پاس و لحاظ رکھے
خدا رحمت فرماتا ہے
ان پر جو در حقیقت رسول خدا کا پاس رکھے
کیونکہ ۔۔ رسول خدا(ص) کی سیرت ہی بہترین سیرت ہے “
دربار میں جمع لوگوں نے جواب دیا :
” اے فرزند رسول خدا!
ہم سب آپ کی باتیں سنیں گے
ہم سب اس پر عمل کریں گے
ہم سب وعدہ کرتے ہیں
آپ کا ساتھ چھوڑ کر دوسروں سے وابسطہ نہ ہوں گے
اے فرزند رسول خدا!
حکم دیجئے ہم تیار ہیں
جو آپ سے جنگ کرے گا ہم اس سے جنگ کریں گے
جو آپ سے صلح کرے گا ہم اس سے صلح کریں گے
ہم یزید بن معاویہ کو گرفتار کریں گے
ہم آپ پر اور اپنے لوگوں پر ستم کرنے والوں سے بیزار ہیں “
امام سجاد علیہ السلام ان کی نفاق آمیز باتیں سن کر غضبناک ہوگئے اور فرمایا :
” ہرگزنہیں !
ہر گز بھی نہیں
اے دھوکہ باز اور مکار لوگو!
تم کبھی اپنی مراد تک نا پہنچو گے
ہمارے ساتھ بھی وہی کرنا چاہتے ہو
جو ۔۔۔تم نے
ہم سے پہلے ہمارے آباء و اجداد کے ساتھ کیا ہے
راہ وار اونٹوں کی قسم !
ابھی ہمارے زخم بھرے نہیں ہیں
ہماری تم لوگوں سے صرف اتنی گزارش ہے
نا ہمارا ساتھ دو ۔۔۔نا ہمارے دشمن کا ساتھ دو “
امام سجاد علیہ السلام اس کے بعد خاموش ہو گئے اور خطبہ اختتام کو پہنچا ۔۔۔
( جاری ہے )
ڈاکٹر نگہت نسیم
(مضمون کی تیاری کے لئے نیٹ کے مضامین اور نہج البلاغہ سے مدد لی گئی
خصوصاً بیانِ خطبہ از ناسخ التواریخ ج ۲ صفحہ 167 ، طبع جدید زندگی حضرت سید الشہداء)













