ایران پر اسرائیلی حملوں سے عالمی امن کو لاحق خطرات , صفدر ھمدانی

0
771

دنیا آج جس نہج پر کھڑی ہے، وہاں ہر ایک جارحانہ قدم پوری دنیا کو لرزا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، مگر اگر اسرائیل براہ راست ایران پر فوجی حملہ کرتا ہے، تو یہ عمل نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ یہ صرف دو ریاستوں کے درمیان تنازعہ نہیں ہوگا بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔

1.

علاقائی آگ کا پھیلاؤ

ایران مشرق وسطیٰ کا ایک اہم اور اثرورسوخ رکھنے والا ملک ہے۔ اس کے لبنان میں حزب اللہ، عراق میں شیعہ ملیشیاز، یمن میں حوثی باغیوں اور شام میں مختلف گروہوں سے گہرے روابط ہیں۔ اسرائیلی حملے کے ردعمل میں ایران صرف اسرائیل کو جواب نہیں دے گا بلکہ اس کے اتحادی بھی متحرک ہو جائیں گے۔ یوں مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میدان جنگ میں تبدیل ہو سکتے ہیں، اور یہ علاقائی جنگ عالمی طاقتوں کو بھی کھینچ لائے گی۔

2.

توانائی کا بحران

ایران دنیا کے بڑے تیل برآمد کنندگان میں سے ہے اور خلیج فارس میں واقع “آبنائے ہرمز” دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی نقل و حمل کا مرکز ہے۔ اگر ایران پر حملے کے نتیجے میں اس آبنائے کی ناکہ بندی ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی، جس سے پوری دنیا میں مہنگائی اور معاشی بحران جنم لے گا۔ ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ بحران اور بھی تباہ کن ہو سکتا ہے۔

3.

جوہری تصادم کا خطرہ

ایران کا جوہری پروگرام برسوں سے دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ایران اس پروگرام کو تیز تر کر سکتا ہے، یا دنیا کے سامنے اس کے عسکری پہلو کو مزید واضح کر سکتا ہے۔ اس سے خطے میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔ اگر یہ تصادم بڑھتا ہے تو جوہری جنگ کا خطرہ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

4.

عالمی طاقتوں کی صف بندی

ایران اور اسرائیل کے تنازعے میں امریکہ واضح طور پر اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے جبکہ چین اور روس ایران کے قریب تر سمجھے جاتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ تنازع صرف دو ملکوں کے درمیان نہیں رہے گا، بلکہ یہ ایک پراکسی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے جس میں دنیا کی بڑی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں۔ اس سے عالمی نظام میں نیا تناؤ اور سرد جنگ جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

5.

انسانی بحران

کسی بھی جنگ کا سب سے بڑا نقصان عام انسانوں کو ہوتا ہے۔ اگر ایران پر حملہ ہوتا ہے تو لاکھوں شہری بے گھر ہوں گے، پناہ گزینوں کا بحران جنم لے گا، اور انسانی حقوق کی پامالیوں میں اضافہ ہوگا۔ اقوام متحدہ، ریڈ کراس اور دیگر اداروں کے لیے یہ ایک نیا اور پیچیدہ چیلنج بن جائے گا۔

نتیجہ: امن ہی واحد راستہ ہے

دنیا ایک نازک دوراہے پر کھڑی ہے جہاں جنگوں نے پہلے ہی لاکھوں جانیں نگل لی ہیں اور اربوں افراد کو معاشی و معاشرتی نقصان پہنچایا ہے۔ ایران پر اسرائیلی حملہ عالمی امن کے تابوت میں ایک اور کیل ٹھونکنے کے مترادف ہوگا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اقوام متحدہ، او آئی سی، یورپی یونین اور دیگر عالمی ادارے ثالثی کا کردار ادا کریں اور سفارتی حل کی راہ ہموار کریں۔ دنیا کو مزید جنگیں نہیں، امن، ترقی اور استحکام کی ضرورت ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY