الیکشن کمیشن نے سال 2018ء کے عام انتخابات کے لیے مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کو انتخابی نشانات الاٹ کر دیئے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق 77 سیاسی جماعتوں کے انتخابی نشانات کی درخواست پر کسی قسم کا تنازع نہیں ہے،جن جماعتوں کے انتخابی نشان پر تنازع نہیں وہ جماعتیں ان نشانات کی اہل ہیں۔

الیکشن کمیشن نے بتایا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کو تلوار کا انتخابی نشان مل گیا جبکہ پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کا انتخابی نشان تیر برقرار ہے۔

مسلم لیگ ق اپنے انتخابی نشان سے دستبردار ہو گئی اس نے سائیکل کے بجائے ٹریکٹر کا نشان مانگ لیاجو اسے دے دیا گیا ہے۔

پاکستان کسان اتحاد نے بھی ٹریکٹر کا نشان مانگا تھا تاہم اسے ہل کا نشان الاٹ کردیا گیا۔

الیکشن کمیشن نے پتنگ کا نشان متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو الاٹ کر دیا،مسلم لیگ کا انتخابی نشان ن شیر برقرار ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا، جماعت اسلامی کا انتخابی نشان ترازو،عوامی نیشنل پارٹی کا نشان لالٹین اور عوامی مسلم لیگ کا انتخابی نشان قلم دوات برقرار رکھا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق نیشنل پارٹی کو آری کا نشان الاٹ کیا گیا ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی انتخابات تیر کے نشان پر ہی لڑے گی۔ ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ منگل کے روز الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان پیپلزپارٹی کو پرانا نشان تلوار الاٹ کیا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ہیںجبکہ پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری ہیں جس کا انتخابی نشان تیر ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پی پی پی اور پی پی پی پی کا آپس میں باہمی اتحاد ہے جس کی بنیاد پر پاکستان پیپلزپارٹی ، پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے نشان تیر کے نشان پر انتخابات لڑے گی۔

Comments

SHARE

LEAVE A REPLY