انسان تمیز نہیں کر پاتا کہ حق کس طرف ہے اور باطل کس طرف

0
1112

ہر زمانے اور اس زمانے میں سب سے بڑی مصیبت یہ رہی ہے کہ انسان تمیز نہیں کر پاتا کہ حق کس طرف ہے اور باطل کس طرف ہے ، اور شک میں مبتلا ہو کر حق و باطل کے درمیان ایسا پھنس جاتا ہے کہ یا تو مکمل باطل کی طرف ہو جاتا ہے ، یا دل سے حق کی طرف نہیں ہو پاتا۔ فرقہ واریت اور مسلسل بھٹکے رہنے کی ایک بڑی اور بنیادی وجہ یہی ہے اور دنیا کے بھی ہر چھوٹے سے بڑے معاملے میں الجھن ، چاہے وہ انسان کے اندر احساسات وجذبات سے متعلق کوئی الجھن ہو ، اس کے تعلقات رشتوں میں کوئی الجھن ہو یا پھر باہر ملکی سیاست اور دنیاوی نظریات سے متعلق کوئی الجھن ہو ، یہی جڑ ہے ۔ ۔ ۔

حق و باطل میں فرق ، تمیز اور شناخت نہ کر سکنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم حق کو معیار بنانے کے بجائے ” شخصیت ” کو معیار قرار دے دیتے ، اور پھر وہ شخصیت جو بھی کرتا ہے اس ہی کو حق تسلیم کرنے لگ جاتے ہیں۔

مثلاََ ایک شخص کے متعلق آپ کا نظریہ یہ ہے کہ وہ بہت نیک اور سچا ہے اور بچپن سے جوانی اور بڑھاپے تک آپ نے اس کی سچائی صداقت پارسائی کے قصے کہانیاں واقعات اور داستانیں سُن پڑھ رکھی ہیں۔ لیکن یہی پارسا اور نیک شخص کہیں یہ کہتا پایا جائے کہ ” خدا ایک نہیں ہے ” یعنی کہ یہ شخص توحید کا انکار کرے ،یہاں آپ حق اور باطل کے بیچ پھنس جاتے ہیں۔
۔

1: آپ کو یہ بھی نہیں معلوم کہ خدا ایک ہے یا نہیں ہے۔

2: آپ کو یہ بھی سمجھ نہیں آرہی کہ یہ شخص سچ کہہ رہا ہے یا جھوٹ کہہ رہا ہے۔

3: آپ کے دل و دماغ اور جذبات و احساسات پر اس شخص کی مکمل زندگی ، عبادتیں ، ریاضتیں ، سچائی ، پارسائی صدقہ خیرات ، عقلمندی اور علم کے قصے کہانیاں اور داستانیں چھائی ہوئی ہیں اور آپ اپنے دل میں یہ سوچنا بھی گناہ سمجھتے ہیں کہ مثلاََ یہ شخص کبھی جھوٹ بھی بول سکتا ہے کبھی دھوکہ اور فریب بھی دے سکتا ہے کبھی باطل پر بھی ہو سکتا ہے کبھی حق کے مخالف اور حق کا دشمن بھی ہو سکتا ہے ، نہیں آپ یہ سب سوچنا تک بہت بڑا گناہ سمجھتے ہیں۔

4: آپ نے بچپن سے یہ بھی سن رکھا ہے کہ خدا ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ یہ بات بھی آپ کے حواس ، دل و دماغ ، احساسات اور جذبات بھی چھائی ہوئی ہے۔

تو آپ فیصلہ نہیں کر پا رہے اور آپ کو سمجھ نہیں آرہی کہ اس معاملے میں حق کہاں ہے اور باطل کہاں ہے ۔ ۔ ۔ آپ سوچتے ہیں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ اتنی بڑی پارسا نیک عظیم عابد زاہد عالم شریف اور بقول ہندیوں کے اللہ والا شخص جھوٹ کہے اور کوئی باطل بات ، کام یا حرکت کرے ، یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ آپ کا دل یہ بھی نہیں مان رہا ، لیکن آپ کا دل خدا کے شریک کو بھی نہیں مان رہا۔

سو اکثریت کے ساتھ معاملہ یہ ہوجاتا ہے کہ وہ شخصیت کو معیار بناتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ یہ اتنی پارسا اور اللہ والا شخص کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا ، میرا دل نہیں مانتا ، یہ نہیں ہو سکتا ، سو یہ جو بھی کہہ رہا ہے سچ ہی کہہ رہا ہے اور جو یہ کر رہا ہے اور جو اس نے کیا ہے یہی حق ہے۔

یوں آپ مان لیتے ہیں کہ ہاں ، خدا ایک نہیں ہے۔

اور اس سے بھی بڑی مصیبت یہ ہوتی ہے کہ آپ کو اس کی خبر تک نہیں ہو پاتی کہ وہ شخص تو تھا ہی باطل پر ، آپ نے اس شخصیت کو حق کا معیار بنا کر خود بھی حق سے منہ موڑ لیا ہے اور اب حق کے مخالف گروہ میں کھڑے ہیں۔ بلکہ آپ خود کو حق پر سمجھتے ہوئے اپنے اس ” خدا ایک نہیں ہے ” والے نظریے کی بھرپور جذبے بلکہ جان کو فدا کرنے کی حد تک دفاع کرتے رہتے ہیں۔

یہاں غلطی آپ سے یہی ہوئی کہ آپ نے شخصیت کو حق کا معیار سمجھ لیا اور یہ مان لیا کہ یہ شخصیت جو کچھ کرتی ہے ٹھیک ہی کرتی یہ غلط نہیں کر سکتی۔ گویا شخصیت پرستی کا شکار ہو گئے اور باطل کے گڑھے میں جا گرے ۔

جبکہ عدل اور حق پرستی یہ ہے کہ : ۔ ۔ ۔

1: سب سے پہلے تو آپ حق کو پہچانیں ، حق کی شناخت حاصل کر لیں ، حق معلوم کریں۔ اس معاملے میں حق کی شناخت توحید کی شناخت ہے ، یعنی آپ کو اس معاملے میں مکمل غیر جانبداری سے تحقیق کر کے حق بات تک پہنچنا تھا اور حق بات یہ تھی کہ ” اللہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے “۔ لیکن اس بات تک جذباتی ، وراثتی اور آبائی عقائد و نظریات کی بنیاد پر نہیں ، بلکہ عقلی و فطری محکم دلائل کی بنیاد پر پہنچنا ہے۔ یعنی آپ اگر اللہ کو ایک مانتے ہیں اور اس کے کسی شریک کا انکار کرتے ہیں تو اس کیلئے آپ کے پاس کوئی محکم ٹھوس دلیل موجود ہونی چاہیے ( یہاں آپ نے حق کی شناخت کر لی کہ ” اللہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے ” )۔

2: اب حق کا یہ جو پیمانہ آپ نے غیر جانبدرانہ اور آزاد تحقیق سے محکم اور ٹھوس دلائل کی راہوں سے حاصل کیا ہے۔ اس پیمانے پر اس شخصیت کو پرکھیں ، کہ وہ کہاں کھڑا ہے۔ کیا وہ اس پیمانے پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔ ( یعنی کہ کیا اس کا نظریہ یہ ہے کہ ” اللہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ” ) اگر ہاں اس شخصیت کا نظریہ یہی ہے تو خوب وہ حق پر ہے ، اگر اس کے سوا کوئی دوسرا نظریہ ہے ، تو وہ شخصیت صریحََ باطل پر ہے۔ اور اس میں کسی شک و شبہے کی ضرورت نہیں ہے۔
۔
خلاصہ یہ ہے کہ آپ نے پہلے حق کی شناخت کرنی ہے اور اس کی بنیاد پر شخصیت کو پرکھنا ہے ، چاہے وہ شخصیت جتنی بھی بڑی کیوں نہ ہو۔
حق و باطل کو شخصیت کے پیمانے پر نہیں پرکھا جا سکتا ، یہ خلافِ عقل ہے ، یعنی کہ پہلے تو تم کسی شخصیت کو حق کا معیار قرار دو کہ یہ جو بھی کہتا کرتا ہے ، حق ہی ہے۔ اور حق کو اس شخصیت کے پیمانے پر پرکھنے لگو ، یعنی کہ یہ شخصیت ” اللہ کو ایک نہیں مانتا ” سو معاذ اللہ ، خدا ایک نہیں ہو سکتا۔

بلکہ عقل کی تو یہ ہے کہ تم پہلے حق اور باطل کو پہچان لو ، اس کے بعد شخصیات کو اس پر پرکھو ، یعنی پہلے یہ پہچان لو کہ ” اللہ ایک ہے ” یہ حق کا معیار ہے۔ اب ہر شخصیت چاہے جتنی بھی بڑی قد و قامت کی ہو ، کو دیکھو اگر اس حق کے معیار پر پورا اترتے ہیں تو خوب یہ حق پر ہیں نہیں تو یہ شخصیت اپنی تمام تر ریاضتوں سمیت باطل پر ہیں۔

کوئی شخص حق و باطل کی شناخت کا معیار نہیں ہے ، بلکہ حق و باطل کسی شخص کی پہچان کرواتے ہیں کہ یہ حق پر ہے یا باطل پر ، چاہے وہ دنیاوی معاملہ ہو یا دین کا کوئی معاملہ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــ

جسٹن سنو

SHARE

LEAVE A REPLY