وزیرِاعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بدعنوانی کی روک تھام اور لوٹی ہوئی دولت کی واپسی بڑے چیلنجز ہیں، منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے ایک مربوط اور موثر نظام نافذ کیا جائے گا۔

وزیرِاعظم عمران خان کے زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس ہوا جس میں انھیں وزارتِ داخلہ اور متعلقہ اداروں کے امور، قانون سازی سے متعلق پالیسی، انسانی سمگلنگ اور انسداد دہشت گردی اقدامات پر سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم نے بریفنگ دی۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ سمندر پار پاکستانی ملک کے لیے سب سے اہم اثاثہ ہیں جو ملک میں پیسہ لانے اور سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کو سازگار اور محفوظ ماحول فراہم کرنا ہےم اوورسیز پاکستانیوں کو ایسا ماحول دیا جائے جہاں ان کی جان و مال کو تحفظ حاصل ہو۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ وائٹ کالر کرائم اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ایف آئی اے اور نیب میں زیادہ تعاون کی ضرورت ہے۔ منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے ایک مربوط اور موثر نظام نافذ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ قومی دولت کی واپسی اور بدعنوانی کی روک تھام بڑے چینلجز ہیں جو حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں، منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے ایک مربوط اور موثر نظام نافذ کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ شہریوں میں احساس تحفظ پیدا کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے، خدمات کی فراہمی کے لیے وزارت داخلہ اور ملحقہ اداروں کو موثر انداز میں کام کرنا چاہیے۔

SHARE

LEAVE A REPLY