وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وقت بدل گیا ہے ،آج پاکستان مغرب کا محبوب ملک نہیں رہا ،ہماری ضرورت امن و استحکام ہے معاشی ترقی ہمیں درکار ہے،وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق فیصلہ کیا ہے جب باہر جاؤں گا فائیو اسٹار ہوٹلز میں نہیں ٹہرؤں گا۔
دفتر خارجہ میں طویل پریس کانفرنس کے دوران شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فرسٹ کلاس میں سفر نہیں کروں گا ،کوشش ہوگی کہ پاکستانی سفارت خانوں کو ہی ترجیح دوں،اب سے کوئی وزیر یا سیکریٹری وزیراعظم کی اجازت کے بغیر بیرون ملک سفر نہیں کرپائے گا،7سال بعد دفتر خارجہ آیا ہوں،دنیا بدل چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفترخارجہ کے نقطہ نظر سے وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا ،دنیا آج پھر ملٹی پولر ہوتی چلی جارہی ہے ،ہر فورم پر موثر اور ٹھوس انداز سے پاکستان کی ترجمانی کریںگے، ہمارا رویہ معذرت خواہانہ نہ تھا ، نہ ہے ، نہ ہوگا ۔
شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ پاک امریکا تعلقات کی اہمیت سے کوئی غافل نہیں،اس میں اتار چڑھائو رہا ہے،امریکا سے تعلقات کو پہلے کی سطح پر واپس لانے کےلئے افغانستان اور وہاں پر ان کی ضرورت کو سمجھنا ہوگا،اس طرح واشنگٹن سے تعلقات کو وسعت دی جاسکے گی ۔ افغانستان کا امن واستحکام ہمارے امن و استحکام کے لیے ضروری ہے ،5ستمبر کو امریکی وزیر خارجہ کی اسلام آباد آمد متوقع ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ٹیلی فون کال پر جو موقف جاری کیا ہے وہ حقیقت کے برعکس ہے،پاکستان میں کام کرنے والے دہشت گردوں کا تذکرہ حقیقت کے برعکس ہے ، میں یہ بات بہت اعتماد سے کہہ رہا ہوں،جو گفتگو ہوئی بہت اچھی ہوئی ، انہوں نے وزیراعظم کو مبارکباد دی۔امریکی وزیر خارجہ نے خواہش کا اظہار کیا کہ نئی حکومت کے ساتھ تعمیری تعلق چاہتےہیں۔
ان کا کہناتھاکہ پاک چین دوستی مثالی تھی ،ہے اور رہے گی۔چینی وزیر خارجہ 8ستمبر کو پاکستان آرہے ہیں۔دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ نے بھی پاکستان آنے کی خواہش ظاہر کی ہے انہیں بھی خوش آمدید کہتا ہوں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاک بھارت تعلقات کی کیفیت کسی سے پوشیدہ نہیں ،دونوں ممالک کے مذاکرات میں تعطل تھااور اب تک برقرار ہے۔پاکستان کا رویہ مثبت ہے لیکن تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی ، ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ بات کو آگے کیسے بڑھنا ہے،مجھے سشما سوراج کا مبارک باد کا خط ملا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پیچیدہ مسائل سے کتراتے نہیں بات کرتے ہیں،میں آسمان سے تارے توڑ کر لانےکی بات نہیں کرتا لیکن گفتگو تو ہو ، کلبھوشن کے معاملے پر میں نے یہ کہاتھاکہ اپنا موقف ٹھوس طریقے سے پیش کریں گے ،یہ نہیں کہا تھاکہ کیس جیتیں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے یورپی یونین میں جی ایس پی پلس کا درجہ حاصل کیا لیکن ہم اس کا فائدہ نہ اٹھاسکے ۔
شاہ محمود قریشی کا کہناتھاکہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا معاملہ سامنے ہے ، پاکستان گرے لسٹ میں ہے ،ہم سے توقع کی جارہی ہے کہ ہم پروگریس کریں ، نگراں وزیر خزانہ نے اس پر کام کیا ہے ، ان سے آگاہی حاصل کروں گا،ہرگز نہيں چاہیں گے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلاجائے ۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ بیرون ملک 9.2 ملین پاکستانی موجود ہیں ، واضح پیغام ہے کہ نئی حکومت خارجہ پالیسی کو سنجیدگی سے لے گی ۔













