میں جانتی تھی ۔۔۔۔ موسم بدلتے ہیں تو انسان کہاں سنبھلتے ہیں ۔۔۔ جبھی تو فضاؤں میں بے لوث دعاؤں اور پھولوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی ۔۔ جو ہرطرح سے مجھے سنبھال رہی تھیں اور میں سنبھلتی جا رہی تھی ۔۔ آج تین جون کی صبح ہو چکی تھی ۔۔ آفتاب کے ساتھ ساری رپورٹس لے کر ہم دونوں صبح دس بجے سے پہلے ہی ایکسرے کلینک پر موجود تھے ۔۔ وہاں پر میرے علاوہ کوئی مریض نہیں تھا ۔ مجھے احساس ہوا کہ ایک وقت میں ایک ہی مریض کا ٹیسٹ ممکن تھا جبھی تو کلینک سے بار بار کنفرمیشن کے میسجز آ رہے تھے ۔۔۔ ٹیسٹ میں تقریبا آدھا دن لگ جاتا ہے ۔۔ اور ریڈیولجسٹ کی موجودگی کے بغیر ٹیسٹ ممکن بھی نہیں تھا۔
میرا نام اندر سے کسی نرس نے پکارا ۔۔ اور اس نے آفتاب کوبھی اندر آنے کو کہا ۔۔ ہم دونوں کرسیوں پر بیٹھ گئے ۔
کچھ ہی دیر میں انتہائی پروقار ، دھیمے لہجے کے ریڈیولجسٹ ڈاکٹر انوار ۔۔۔ اپنے کمرے سے باہر نکل کر آئے
ہم دونوں احتراما کھڑے ہوگئے
پلیز ۔۔پلیز ۔۔ بیٹھیئے ۔۔ انہوں نے اپنا تعارف کروایا ۔۔ پھر میرا نام پتہ کنفرم کرنے کے بعد بتایا کہ یہ ٹیسٹ کیسے ہوگا ۔۔ پھر وہی تابکارہ مادے کے انجیکشن کی تفصیل اور آخر میں اجازت نامے پر دستخط ۔۔ میں 25 مئی سے آج تک اپنی موت کے پروانے پر اتنی بار دستخط کر چکی تھی ۔۔ کہ یہ دستخط بہت آسان سا تھا ۔۔ پر یہ امتحان ہر ٹیسٹ سے بڑا تھا ۔۔ مسلہ پھر وہی ہوا دایاں بازو نیلا ہو چکا تھا اور انہیں ورید
(Vein)
نہیں مل رہی تھی ۔۔ بالاآخر یہ مرحلہ بھی طے ہوا ۔۔۔ تابکاری مادہ میرے خون میں شامل ہو چکا تھا۔
اب تین گھنٹے کے وقفے کے بعد باقی ٹیسٹ ہونے تھے ۔۔
میں کل سے آپریشن کے لئے آن لائن فارم بھرنے کی کوشش میں کئی بار ناکام ہو چکی تھی ۔۔ شاید ویسٹ میڈ پرایئویٹ ہوسپٹل کے نیٹ میں کچھ مسلہ تھا۔۔ ریسیپشنسٹ کیرولائن نے مجھے مشورہ دیا کہ بہتر ہے کہ وہیں آکر فارم بھردوں ورنہ آپریشن کینسل بھی ہو سکتاہے ۔۔ ہم دونوں نے فیصلہ کیا کہ کیوں نہ ان تین گھنٹوں میں یہ کام بھی کر لیں ۔۔ پھر باقی کے دو دن بچوں کے ساتھ سکون سے رہیں گے ۔۔ باتیں اور کھانا پینا ہوگا ۔۔ اور کوئی بھاگ دوڑ نہ ہو گی ۔ ہم دونوں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور ویسٹ میڈ پرایئویٹ ہوسپٹل میں سارے فارمز وہیں بھر کر انہیں دے آئے ۔۔ کلینک پر واپس پہنچ کر نوے منٹ کے بقیہ ایکسرے کروائے ۔۔ یوں ہمیں کلینک پر ہی شام کے چار بج گئے ۔۔۔ رپورٹ دو گھنٹوں بعد ایمرجنسی میں ملنی تھی کہ ڈاکٹر انوار جانتے تھے کہ مجھے چھ جون بروز پیر بارہ بجے دوپہر تک ہوسپٹل آپریشن کے لئےجانا ہے ۔
ہم گھر پہنچے تو تھوڑی دیر ہی میں آًمنہ اپنی بلیوں لیو اور کلیو کے ساتھ گھر پہنچ گئی ۔۔ جب سے مجھے کینسر تشخیص ہوا تھا یہ میری بچوں سے آمنے سامنے پہلی ملاقات تھی ۔ آمنہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ میرے گلے لگ گئی ۔۔۔ میری ممو ۔۔ میری ممو جان ۔۔۔ کیسی ہیں ۔۔ میں آگئی ہوں اب سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔ میں ہنس پڑی ۔۔ یہ وہی جملہ تھا جو میں اسے کہا کرتی تھی جب اسے کوئی مشکل ہوتی ۔۔ دیکھنا میں آگئی ہوں اب سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔ بیٹی کب ماں ہو جاتی ہے اسی وقت احساس ہوا تھا ۔۔ میری آنکھوں میں پیار کی نمی اتر آئی ۔
اچھا پہلے اپنے بچے دیکھو ۔۔ انہیں کھنا پانی دو ۔۔ لٹر باکس کمرے کے اندر رکھو ۔۔
اور پانی کے لئے تمہارے پاپا کل ہی بلیوں کا فاؤنٹین لے آئے تھے ۔۔وہ بھی کمرے میں ہی رکھ لو ۔۔ میری ہدایات کو کسی کروٹ چین نہیں تھا ۔
امی ۔۔ امی ۔۔ امی ۔۔ آپ آرام سے یہاں بیٹھیں بلکہ لیٹ جایئے ۔۔ آمنہ نے لیونگ روم کے آرام دہ صوفے پر کشن رکھے اور مجھے الیکٹرک بلینکٹ سے ڈھانپ کر اوپر گرے کمبل ڈال دیا ۔۔ میں حیران رہ گئی آمنہ کوکیسے پتہ چلا کہ میں سردی سے اندر ہی اندر کانپ رہی تھی ۔۔ لیکن سجھ نہیں آرہی تھی کہ میں کیوں کانپ رہی ہوں ۔۔۔بھوک تھی ۔۔ کہ سردی ۔۔ کہ آمنہ کو دیکھ کر جذباتی ہو رہی تھی ۔۔ یا پھر سب کچھ تھوڑا تھوڑا سا ہو رہا تھا۔

تھوڑی دیر ہی میں آًمنہ اپنی بلیوں لیو اور کلیو کے ساتھ گھر پہنچ گئی
لیو ، کلیو ، بگینی ، بینو اور آرنلڈ سب ایک دوسرے سے مل کر جتنے حیران تھے اتنے ہی پریشان کہ یہ کون ہیں اور یہاں کیوں ہیں ۔۔ آمنہ ان سب کا آپس میں تعارف کروا رہی تھی ۔۔ سب شام کے کھانے پر جمع تھے ۔۔۔ کھانا کھا کر بینو اور آرنلڈ اپنے اپنے گھر چلے گے ۔۔ گھر کے کیٹ فلیپ بند ہو چکے تھے ۔ بگینی کو لیو اور کلیو بہت اچھے لگے تھے ۔۔اسی لئے اس نے اپنے گھر کو بانٹنے میں کوئی مزاحمت نہیں کی ۔۔ہاں آمنہ کی برگر بلیوں کو ہمارا دیسی سا گھر پسند کرنے میں دشواری ہو رہی تھی ۔۔ آمنہ انہیں بار بار کہتی نانا نانی کے گھر میں ہو۔۔ خوب مزے کرو ۔۔ اور ہم دونوں لیو اور کلیو کی پریشانی پر محفوظ ہو رہے تھے کہ انہیں چہرے تو سارے اپنے لگ رہے تھے لیکن جگہ اپنی نہیں تھی ۔
آمنہ ان دونوں کو میری بیماری کا بتا رہی تھی اور وہ دونوں بہت دھیان سے اسے سن رہے تھے ۔۔ تھوڑی دیر بعد لیو میرے پاس ایسے آکر بیٹھ گیا جیسے اسے بہت دکھ ہوا ہو ۔۔ اس نے اپنا سر میرے ہاتھ پر رکھ رکھدیا ۔۔ ایسی تسلی بھلا کس کے نصیب میں تھی ۔۔ لمس کی اپنی زبان ہوتی ہے ۔۔ لیو کی دلداری میں بڑی انسیت تھی ۔۔۔ جیسے کہہ رہا ہو اچھاہوا جو وہ آ گیا ۔۔۔ ہم دیر تک ہم زبان رہے ۔۔خاموشی میں پیار کے جلترنگ بج رہے تھے اور لیو میرے پاس ہی بیٹھا رہا ۔۔ آمنہ خوش ہو رہی تھی کہ شکر ہے ایک تو سیٹل ہو گیا ۔ ہاں کلیو کو میل جول میں کچھ وقت لگتا تھا سو وہ آمنہ کے کمرے سے باہر نہ نکلی تھی ۔
سب کام نمٹا کر آمنہ بھی میرے ساتھ ہی آکربیٹھ گئی ۔۔ اس نے جو کہنا تھا وہ مجھے پتہ تھا اور جو مجھے اسے بتانا تھا شاید اسے ابھی پتہ نہ تھا ۔۔۔ اور میں اسے ابھی کچھ کہنا بھی نہیں چاہتی تھی ۔ آفتاب بون اسکین کا رزلٹ لینے کلینگ گئے ہو ئے تھے ۔۔ ہم دونوں کبھی کھانے کی بات کرتے کہ کیا کھایا جائے ۔۔۔ ساتھ ساتھ بلیوں کو سدھرنے کی وارننگ بھی دیتے جاتے ۔۔ اور کبھی اس بات پر خوش ہوتے کہ عید کے بعد کل پھر ہم سب ایک ساتھ ویک اینڈ گزاریں گے ۔۔
امی بس آپ نے کوئی کام نہیں کرنا ۔۔ نجیب بھی بولے تو تب بھی نہیں
ارے کیوں بھئی ۔۔ میرا بیٹا کچھ کہے تو پورا نہ کروں کیا
تو میں کون ہوں ۔۔ ؟
آمنہ کمر پر ہاتھ رکھ کر کھڑی ہو گئی اور مجھ سے پوچھنے لگی ۔۔ میں کھلکھلا کر ہنس پڑی ۔۔ یہ ہماری پرانی نوک جھونک تھی ۔۔ منیب اور آمنہ کے خیال میں نجیب میرا لاڈلا ہے اور میں اس کی کوئی بات رد نہیں کرتی ۔۔۔۔۔۔۔ اور نجیب اس کا خوب خوب فائدہ اٹھاتا ہے ۔۔۔ یہ سچ بھی تھا مجھے نجیب سے کچھ الگ سا پیار تھا ۔۔۔ مجھے نجیب کا پریکٹیکل ہونا بہت اچھا لگتا تھا ۔۔ وہ پیار میں بھی پریکٹیکل رہتا تھا ۔۔ وہ بیک وقت بہت جذباتی اور پیار کرنے والا تھا لیکن اس کے پیار سے کسی کو کبھی تکلیف نہیں ہوسکتی تھی ۔۔ اتنی آرام دہ محبت جو بیک وقت نایاب بھی تھی اور خواب جیسی بھی تھی ۔
بتائیں ناں پھر میں کون ہوں ؟
تم میری جان جگر ۔۔ میرا ٹکڑا ۔۔ بالکل میرے جیسی میری بیٹی ۔۔ میری شہزادی ہو
میری ممو جان ۔۔۔۔۔۔۔ آمنہ نے اپنا سر میرے کندھے پر رکھ دیا اور میں نے اسے اپنے بازؤں میں سمیٹ لیا
آفتاب بون اسکین کی رپورٹ لے آئے تھے ۔۔۔۔۔ میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا
مجھے تو ٹھیک ہی لگ رہی ہے ۔۔۔
ہیں ۔۔۔ تو آپ نے پڑھ لی پاپا ۔۔آمنہ نے حیرت سے آفتاب کو دیکھا ۔۔ ان کی مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ اللہ پاک نے خیر کی خبر دی تھی ۔
رپورٹ میں سب کچھ نارمل آیاتھا۔۔ کینسر ہڈیوں تک نہیں پہنچ پایا تھا اور نہ ہی کوئی اور بیماری نظر آئی تھی ۔۔۔الحمدوللہ ۔۔ میری آنکھیں بھر آئیں ۔
اف محبت کی طرح سچ کے بھی کئی پہلو تھے ۔۔ کئی مرحلے تھے ۔۔ کتنے گزر گئے تھے اور کتنے ہی باقی تھے ۔۔۔ پر اس وقت زندگی پوری آپ و تاب سے مجھ پر طاری تھی ۔۔ ہر طرف نور بارش کی طرح ہم پر برس رہا تھا ۔۔
جان عزیز
میں
ایک شعلہ تاباں ہوں
ایک چراغ سے
چراغ بنی ہوں
میرا احساس
میرا ادراک
میری شعلہ نوائی
میری تقدیس
میری تکمیل
ایک الوہی
لمس کا کرشمہ ہے
کیا
تمہیں نہیں لگتا
ہم دونوں
آبشار کے نزدیک کھڑے ہیں
اور
بارش میں بھیگ رہے ہیں !
( ڈاکٹر نگہت نسیم )
جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم














آج کی رپورٹ پڑھی تو دل کو ایک گونہ اطمنان ہوا۔ پیاری بہادر بیٹی نگہت نسیم سلامت رہیں صحت ایمان کے ساتھ آمین
ڈھیروں دعائیں اور پیار