‘انتخابات میں دھاندلی ملک کو تاریکی میں دھکیل دے گی‘

0
1060

مسلم لیگ (ن) کے قائد شہباز شریف نے انتخابات صاف اور شفاف نہ ہونے پر سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘اگر انتخابات صاف اور شفاف نہیں ہوئے تو پاکستان کا مستقبل تاریک ہوگا’۔

لاہور میں حکومت پنجاب کی پانچ سالہ کارکردگی سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شفاف انتخابات کی بدولت تمام ریاستی ادارے مستحکم ہوں گے اور اس طرح پاکستان ترقی اور کامیابی کے اگلے دور میں داخل ہوگا، اگر مسلم لیگ (ن) دوبارہ اقتدار میں آئی تو پارٹی کے خلاف تمام سازشیں دم توڑ جائیں گی’۔

نواز شریف اور مریم نواز کی ریاستی اداروں بشمول عدلیہ اور آرمی پر متنازع بیان سے متعلق سوال پر شہباز شریف نے کہا کہ ‘ملک میں 4 مرتبہ مارشل لا کے باعث ادارے کمزور ہو گئے ہیں، میں اداروں سے محازآرائی کا قائل نہیں، ان کے مابین کوئی جھگڑا نہیں، ہم کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں اگر ریاستی اداروں کے مابین روابط اور اتفاق نہ ہو’۔

انہوں نے وعدہ کیا کہ مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آتے ہی بھاشا ڈیم پر کام شروع کرے گی اور پانی کی قلت اور بجلی کی کمی کو دور کرے گی۔

شہباز شریف نے کہا کہ ‘اس میں کوئی شک نہیں کہ بھاشا ڈیم ملک کی اہم ضرورت ہے لیکن اس ضمن میں قومی اتحاد درکار ہے، اگر ہم حکومت میں آئے تو بھاشا ڈیم پر کام شروع کریں گے اور ایسے جلد از جلد مکمل کریں گے’۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر انتخابات میں ناکامی کا سامنا رہا تو اپوزیشن میں اپنا کردار نبھائیں گے۔

صاف پانی کمپنی کیس میں حمزہ شہباز اور ان کے داماد عمران علی کی قومی احتساب بیورو( نیب) میں عدم پیشی سے متعلق سوال پر مسلم لیگ (ن) کے قائد نے کہا کہ ‘تحقیقات شفاف نہیں ہو رہی’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘وہ اس معاملے پر نیب کے سامنے پیش ہوں گے، ان کی حکومت نے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر 70 ارب روپے بچائیں گے’۔

انہوں نے نیب کی کارکردی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ‘نیب بندوق کی گولی کی طرح کام کررہی ہے اور مخصوص احتسابی عمل کے ذریعے نظام نہیں چلتا ہے، حکام نیب سے خوفزدہ ہیں’۔

شہباز شریف نے کہا کہ ‘4 ہزار سے زائد اہلکاروں اور آرمی افسران نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، حکومت پنجاب نے آرمی کو افغانستان بارڈر پر حفاظتی باڑ کے لیے 1 ارب روپے دیئے’۔

شہباز شریف نے ریحام خان کی کتاب سے متعلق الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ‘ریحام خان سے میری ملاقات پی ٹی آئی کے دھرنے سے پہلے پی ٹی وی کے پروگرام میں ہوئی اور وہ ہی پہلی اور آخری ملاقات تھی’۔

انہوں نے بتایا کہ ‘مسلم لیگ (ن) گزشتہ 5 برس میں 5 ہزارمیگا وٹ سسٹم لائی جبکہ خیبر پختونخوا میں عمران خان کی حکومت 6 میگا وٹ سسٹم میں شامل کر سکی’۔

SHARE

LEAVE A REPLY