عراقی اور کرد فورسز نے کہا ہے کہ انہوں نے موصل کے مضافات میں درجنوں دیہاتوں کو واپس لے لیا ہے اور وہ عراق کے دوسرے سب سے بڑے شہر کو اسلامک اسٹیٹ کے عسکریت پسندوں سے خالی کرانے کے لیے اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
داعش کے خلاف یہ تازہ فوجی مہم، جس کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا، اور جسے امریکی قیادت کی فورسز کی فضائی مدد حاصل ہے، آج منگل کو دوسرے روز بھی جاری رہی۔ اس لڑائی میں سنی اور شیعہ ملیشیاء گروپ حصہ لے رہے ہیں۔
صدر براک اوباما نے منگل کے روز واشنگٹن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موصل واپس لینے کی جنگ ایک مشکل جنگ ہوگی ، لیکن انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ اسلامک اسٹیٹ کو اس شہر میں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ممکنہ طور پر دس لاکھ لوگ اس شہر میں ابھی تک رہ رہے ہیں ، اس لیے وہاں سے داعش کو نکا ل باہر کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں ان لوگوں کی حفاظت اور انسانی ہمدردی پر اپنی توجہ مرکوز کرنا ہو گی اور یہ چیز ہماری دونوں حکومتوں کی اولین ترجیح ہے۔













