نقیب اللہ قتل کیس میں گرفتار سابق ایس ایس پی ملیر رائو انوار کی درخواست ضمانت پر انسداد دہشتگردی عدالت نے سماعت چار جولائی تک ملتوی کر دی۔

نقیب اللہ قتل کیس میں گرفتار سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو دس دیگر ملزمان کے ساتھ انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیا گیا۔ سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کا کہنا تھا کہ پولیس نے ذاتی گروپنگ کی وجہ سے مجھ پر قتل کا مقدمہ درج کیا، میرے خلاف نقیب اللہ قتل کیس میں بھی شواہد موجود نہیں ہیں، پروفیشنل جیلسی کی وجہ سے میرے خلاف کارروائی کرائی گئی، جے آئی ٹی میں میرا فون نمبر بھی غلط ڈالا گیا ہے۔

راو انوار کا مزید کہنا تھا کہ مجھ پر دو خود کش حملے ہو چکے ہیں، میرے گھر کو سب جیل قرار دینا فیور نہیں، ایک شخص نے میرے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کی جسے بعد میں گرفتار کیا گیا، مجھے ہر تنظیم کے دہشتگرد نے دھمکی دی ہے ، مجھے غلط مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے ، نہ میں نے نقیب اللہ کو پکڑوایا، نہ مارا، ریکارڈ موجود ہے۔

اس سے قبل انسداد دہشتگردی عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت پر مقتول کے وکلا حاضر نہیں ہوئے تو ضمانت پر قانون کے مطابق فیصلہ کر دیں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY