ریڈیو پاکستان کے مجبور اور مظلوم پنشنرز کو پنشن کی ادائیگی رفتہ رفتہ خواب بنتی چلی جا رہی ہے ایسے میں میڈیکل، کیموٹیشن اور ہائرنگ کی ادائیگی ملنے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ افسوس اور حیرت کی بات یہ ہے کہ وزارت اطلاعات سمیت سرکاری ادارے اور عدلیہ بے حس ہیں اور کوئی بھی ریڈیو پاکستان اور دیگر متعدد ملکی اداروں کے پنشنرز کے مسلے پر قطعی کوئی توجہ نہیں دے رہے
اس سنگین صورت حال میں ریڈیوپاکستان کے سربراہ تسلسل سے اپنے غیر نشریاتی کاموں میں مشغول ہیں جیسے کرکٹ ٹورنامنٹ وغیرہ۔ ایسے کاموں میں ڈی جی اور انکے حواریوں کا محبوب شعبہ تعمیراتی کام ہیں کہ اس شعبے میں مالی منفعت بہت زیادہ ہے
ملک کا کوئی بھی تفتیشی ادارہ اس ضمن میں اگر تفتیش کرے کا اسے معلوم ہو جائے گا کہ موجودہ ڈی جی منصب سنبھالنے کے بعد اسی فیصد سے زیادہ کام تعمیراتی شعبے میں کیئے ہیں اور ریڈیو کے بنیادی کام نشریات میں دس فیصد کام بھی نہیں اور جو کام ہوا ہے اسے پوڈ کاسٹ کا انقلابی کام کہا جا رہا ہے جو اب جدید دنیا میں برسوں پرانی بات ہو چکی
تعمیراتی شعبے میں دلچسپی کا حامل ڈی جی طاہر حسن کا یہ تازہ ترین حکمنامہ ہے جس پر چار اپریل دوہزار تئیس کی تاریخ درج ہے اور دستخط سربراہ ادارہ کے ہیں

اس حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ زیر دستخطی کو متعدد شکایات ریڈیو کی عمارات کی مخدوش صورت حال کے بارے میں ملی ہیں اس لیئے انہوں نے ادارے کے پانچ ماہرین کا ایک گروپ تشکیل دیا ہے جو مختلف مراکز پر جا کر عمارتوں کا جائزہ لے گا اور بیس اپریل دوہزار تئیس تک تجزیاتی رپورٹ پیش کرے گا۔ ماہرین کے نام اور نشریاتی مراکز کی تفصیل قارئین پڑھ سکتے ہیں
ماہرین کی یہ فہرست ڈی جی کے مشیروں نے تیار کی ہے جنکے سربراہ مجدد نامی انجینئر ہیں
ایسے میں ریڈیو پاکستان کے کچھ افسران نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ موجودہ ڈی جی نے مزید لوٹ مار پورے ملک میں پھیلانے کے لئیے دائرہ کار بڑھا دیا ہے جو وسیع پیمانے پر کھانے کا پروگرام ہے اور اب جس کے بعد تنخواہیں اور پینشن ملنا محال ہوگا
بتایا گیا ہے کہ یہ سب اخراجات ڈی جی ریوینیو بجٹ سے کر رہا ہے اور سیلز کی سالانہ 250 ملین کی آمدن کہاں گئی اسکی کوئی تفتیش کرے کہ یہ بجٹ کا حصہ تھی
ڈی جی سیلز اکاوئنٹ سے ڈائریکٹ پیمنٹس کروا رہا ہے اور اسکی ایک وجہ فنانس ڈائریکٹر کی انتہائی نالائقی اور خاموشی ہے کہ اس نے اپنا اختیارات ڈی جی کو واگزار کر دیئے ہیں اورڈی جی فنانس ڈائریکٹر کے کے بھی اختیارات استعمال کر رہا ہے اوردھڑا دھڑ پیمنٹ کر رہا ہے لیکن شور یہی مچایا جا رہا ہے کہ ریڈیو کے پاس پیسے نہیں۔ ریڈیو کو جیسے کمیشن ایجنٹوں کے حوالے کر دیا گیا ہے
کچھ حلقے مبینہ طور پر کھلے بندوں یہ بھی اظہار کر رہے ہیں کہ طاہر حسن کو نئے قائم مقام سیکرٹری اطلاعات سہیل علی خان کی آشیرباد حاصل ہے
دوسری طرف پنشنرز سوشل میڈیا پر اپنے جزبات کا اظہار اس طرح کر رہے ہیں

اس ملک کے حکمرانوں اور اداروں میں ضمیر نام کی کوئی چیز ھے؟مہینوں سے ریڈیو پاکستان کے پنشنرز وزارت اطلاعات کی نالائقی اور سرد مہری کی وجہ سے پنشن اور 3 سال سے کمیوٹیشن سے محروم
بوڑھے پنشنرز کو فروری سے کوئی پنشن ادا نہیں کی گئی رمضان میں بھی۔ ریڈیو پاکستان کے ڈیصاف کہتے ھیں کہ پنشنرز میری لائبیلیٹی نہیں ھیں۔
کیا انصاف کے لئے عالمی طاقتوں اور اداروں سے رجوع کیا جائے؟
محترم ڈار صاحب ۔اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے آپ بھی مہربانی کریں اور ریڈیوپاکستان کو دوارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ عنایت کریں تاکہ اس کے 300 پنشنروں کی تین سال سے رکی ہوئی کموٹیشن اور 4500 پنشنروں کی دو ماہ سے رکی ہوئی پنشن ادا کی جا سکے
براہ کرم وزارت اطلاعات اور خزانہ کو حکم دیں کہ ریڈیوپاکستان کو دو ارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ مہیا کریں تاکہ تین سال سے رکی ہوئی کموٹیشن اور دو ماہ سے رکی ہوئی پنشن ادا کی جا سکے
وزیراعظم صاحب۔ آج 5 اپریل ہے اور ریڈیوپاکستان کے 4500 ریٹائرڈ ملازمین اپنی دو ماہ کی پنشن سے محروم ہیں صرف بیواوں اور ستر ہزار سے کم والوں کو فروری کی پنشن دی گئی ہے ۔سفید پوشی کا بھرم رکھنا دشوار ہوچکا ہے۔آپ کی توجہ کے منتظر ہیں۔
ریڈیو پاکستان کے پینشنرز کو پینشن سے محروم کر کے اور رمضان کے مقدس مہینے کا تقدس پامال کر کے اور لوگوں کی بد دعائیں لے کر ڈی جی ریڈیو ، سیکریٹری اور محترمہ اورنگزیب صاحبہ اور وہ بیوروکریٹ حضرات جو اس میں ملوث ہیں انہیں کیا ملے گا۔













