پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ نے کہا ہے کہ اس ملک کے قانون پر حیرت ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا کوئی بھی ملزم گرفت میں نہیں آیا، سب اپنے عہدوں پر پروٹوکول کے ساتھ براجمان ہیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری کا سانحہ ماڈل ٹاؤن کو چار سال مکمل ہونے پر کہنا تھا کہ چیف جسٹس صاحب نے 15 دن میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا لیکن عملدرآمد نہ ہو سکا لیکن ہم مایوس نہیں، حصول انصاف کے لئے ہماری جنگ طویل ہے، ہم اسے جاری رکھیں گے اور شہدا کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملزم متاثرہ خاندانوں کو ہراساں کر رہے ہیں، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داروں کو معطل کیا جائے۔ طاہر القادری نے کہا کہ ہم کلثوم نواز کی صحت یابی کیلئے دعاگو ہیں لیکن متاثرین کے انصاف کی بھی بات کرتے ہیں۔

آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ الیکشن 2018ء میں آرٹیکل 62،63 کا کوئی وجود نہیں، ساری سیاسی گندگی جوں کی توں ہے، ہم کبھی بھی اس گندگی کا حصہ تھے اور نہ ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارے سینکڑوں کارکنوں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے، میں نے کسی کو منع نہیں کیا تاہم انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کے حوالے سے ابھی اعلان نہیں کروں گا۔ اس سلسلے میں تنظیمی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے، فیصلے کا اعلان پریس کانفرنس میں کروں گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY