پاکستان تحریک انصاف نے اپنے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کو پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر شوکاز جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ آپ نے مسلسل پارٹی ارکان اسمبلی کے ساتھ نامناسب رویہ، غیرشائستہ زبان استعمال کی۔
شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آپ نے قومی اسمبلی کی کارروائی کے دوران پارلیمانی پارٹی کے فیصلوں کی خلاف ورزی کی اور 23 جون کو اڈیالہ جیل کے باہر پارٹی ارکان پر حملے کی منصوبہ بندی کی۔
شوکاز نوٹس میں رکن اسمبلی کو کہا گیا کہ آپ کے ایک ساتھی نے متعدد اراکینِ اسمبلی پر حملہ کیا، آپ خود بھی اس حملے میں براہِ راست ملوث تھے۔
نوٹس میں کہا گیا کہ آپ کے رویے نے عوامی سطح پر پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے، لہٰذا نوٹس موصول ہونے کے 7 دن کے اندر اپنا تحریری جواب جمع کرائیں
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے تحریک انصاف کے رکن اقبال آفریدی کو پورے بجٹ سیشن کے لیے معطل کردیا۔
اسپیکر نے سارجنٹ ایٹ آرمز کو اقبال آفریدی کو ایوان سے باہر نکالنے کا حکم دیا اور کہا کہ اقبال آفریدی نے ان کے اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا سے بدتمیزی کی، اقبال آفریدی نے پولیس اہلکاروں سے بھی بدتمیزی کی یہ سب ناقابل قبول ہے۔
اس دوران فرح ناز اکبر نے اقبال آفریدی کی رکنیت معطلی کی تحریک پیش کی جسے ایوان نے کثرت رائے سے منظور کرلیا۔
اقبال آفریدی کو پورے بجٹ سیشن کےلیے معطل کردیا گیا اور اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اقبال آفریدی کو کسی قسم کے الاؤنسز نہیں ملیں گے۔













