اکیس کتوبر 1957ء کو استاد مبارک علی خان کراچی میں وفات پاگئے

0
347

وقار زیدی

استاد مبارک علی خان کی وفات

*21 اکتوبر 1957ء کو نامور ماہر موسیقار اور گلوکار استاد مبارک علی خان کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ استاد علی بخش خان کے فرزند اور استاد برکت علی خان اور استاد بڑے غلام علی خان کے چھوٹے بھائی تھے۔
استاد مبارک علی خان 1917ء میں لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ 1938ء میں وہ فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے اور بطور ہیرو اور گلوکار فلم مہارانی اور سوہنی کمہارن میں کام کیا۔ قیام پاکستان کے بعدانہوں نے دو فلموں دو آنسو اور شالیمار کی موسیقی بھی ترتیب دی۔ وہ موسیقی میں اپنے والد استاد علی بخش خان، بڑے بھائی استاد بڑے غلام علی خان اور استاد سردار خان دہلی والے کے شاگرد تھے۔ استاد مبارک علی خان نے سینکڑوں افراد کوموسیقی کی تعلیم سے آراستہ کیا۔ وہ لاہورمیں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں
————————————

جان شیر خان عالمی اسکواش چیمپیئن بنے
*21 اکتوبر 1987ء کو برمنگھم میں پاکستان کے کھلاڑی جان شیر خان نے آسٹریلیا کے کرس ڈٹمار کو شکست دے کر پہلی مرتبہ اسکواش کی عالمی چیمپیئن شپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان سے پہلے پاکستان کے جہانگیر خان یہ اعزاز پانچ مرتبہ جیت چکے تھے۔ جان شیر خان نے اپنی فتوحات کا یہ سلسلہ اس کے بعد بھی جاری رکھا اور اسکواش کی یہ عالمی چیمپیئن شپ آٹھ مرتبہ اور برٹش اوپن اسکواش چیمپیئن شپ چھ مرتبہ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا
————————————

فاروق احمد خان لغاری کی وفات
فاروق احمد خان لغاری 29 / مئی 1940ء کو جنوبی پنجاب کے علاقے چوٹی زیریں کے ایک جاگیردار گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے دادا سردار جمال خان لغاری اور ان کے والد سردار محمد خان لغاری دونوں ہی پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے رہے تھے۔ فاروق احمد خان لغاری نے اوکسفرڈ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور 1964ء میں سول سروس میں شمولیت اختیار کی۔ اپنے والد کے وفات کے بعد انہوں نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور 1973ء میں پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہوکر پاکستان کی پہلی سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے۔ 1977ء میں وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور کچھ عرصہ وفاقی وزیر بھی رہے۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دور میں وہ پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکریٹری جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 1988ء کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی کابینہ میں پانی اور قوت کے وزیر بنائے گئے۔ 1990ء اور 1993ء میں بھی وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، تاہم 1993ء میں پاکستان پیپلزپارٹی نے انہیں صدر مملکت کے عہدے کے لیے نامزد کیا اور یوں وہ اپنے مد مقابل امیدوار وسیم سجاد کو شکست دے کر پاکستان کے نویں صدر منتخب ہوگئے۔ 5 / نومبر 1996ء کو انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو ختم کرکے قومی اسمبلی توڑنے کا اعلان کردیا، اس کے بعد ملک میں ازسر نو انتخابات منعقد ہوئے جس میں میاں محمد نواز شریف بھاری اکثریت سے ملک کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ آئین میں 13 ویں ترمیم کے بل کی منظوری کے بعدمیاں محمد نواز شریف اور صدر فاروق احمد خان لغاری کے درمیان تعلقات کشیدہ تر ہوتے چلے گئے اور 2 / دسمبر 1997ء کو صدر فاروق احمد خان لغاری اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔ 1998ء میں انہوں نے ایک نئی سیاسی جماعت ملت پارٹی قائم کرنے کا اعلان کیا۔ اس پارٹی نے 2002ء کے عام انتخابات میں 13 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، تاہم 2008ء کے عام انتخابات سے قبل ان کی پارٹی پاکستان مسلم لیگ (ق) میں ضم ہوگئی۔
* 20 / اکتوبر 2010ء کو جناب فاروق احمد خان لغاری راولپنڈی میں انتقال کر گئے۔
وہ ڈیرہ غازی خان میں چوٹی زیریں کے مقام پر آسودہ خاک ہیں۔
————————–

SHARE

LEAVE A REPLY