وہ سب اپنے باس کے رویے سے نالاں ہیں ،روبینہ فیصل

0
58

ای میل تھی کہ ایک دن نوائے وقت میں آپ کے کالم پر اتفاقا نظر پڑی اور ہم نے اسے بہت دلچسپ پایا تب سے ہم نے باقاعدگی سے بدھ والے دن اخبار لینا شروع کر دیا ہے اور اب ہو تا یہ ہے کہ ایک کولیگ باآواز بلند آپ کا کالم پڑھتا ہے اور ہم سب اس کے گرد اکھٹے ہو کر سنتے ہیں۔واپڈا کے کسی ایمپلائی کی اس ای میل میں اور بھی بہت کچھ لکھا تھا مگر قابلِ ذکر یہ ہے کہ وہ سب اپنے باس کے رویے سے نالاں ہیں مگر بول نہیں سکتے لیکن چاہ رہے ہیں کہ ان کی شناخت کو صغیہ راز میں رکھتے ہو ئے ،میں ایسے مینجرز کے رویے پر کچھ لکھوں ۔ میں اب پاکستان اور ایسے آمرانہ مزاج کے افسروں کی پہنچ سے میلوں دور بیٹھی ہوں مگر اس ای میل نے مجھے میرے اپنے بنک کے دنوں کی یاد دلا دی اور اس کو مذیدہوا ایک پرانے بنک کولیگ کی بھیجی ہو ئی ویڈیو نے دی ۔جس میں وہ پین اسطرح پکڑ کر لکھ رہا ہے جیسے میں لکھا کرتی تھی۔ اس سے یادوں کے در مذید کھلے ۔واپڈا والے آفیسر کا باس نہ جانے کیسا ہو گا ، مگر مجھے اپنے اس برانچ میں گذارے گئے وہ دن یاد آگئے جو ایک لیڈی مینجر کے آمرانہ رویے کی وجہ سے اصولا تو ہمیں دن گھٹن اورخوف میں گذارنے چاہیئے تھے ، مگر وہ دن آج ہماری زندگی کے خوبصورت ترین دنوں میں شمار ہو تے ہیں ۔۔اور انہیں یاد کر کے جو مسکراہٹ میرے چہرے پر آج بھی بکھر جاتی ہے ، وہ پڑھنے والوں کو بھی نصیب ہو جائے اور وہ دفتری ماحول کی اکتاہٹ بھول جائیں۔ ۔ اچھے ماحول میں خوش رہنا تو کوئی بات نہیں ، گھٹے ہو ئے اور برے ماحول میں بھی خوش رہ لیا جائے یہ ہو تا ہے اصل کمال ۔یہ یادیں کچھ ایسی ہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
مرد مینجرز کی عجیب و غریب حرکتوں کے آگے جب میں سر نڈر نہیں کر تی تھی تو میری ہر دوسرے دن ٹرانسفر ہو جاتی تھی ، اسی طرح ایک دن میں جی ایم ایڈمن کے سامنے سر جھکائے بیٹھی تھی ، اور وہ بھی اب تنگ آچکے تھے ،” ٹرانسفر تو اب ہو گی ۔۔”
“اچھا تو سر ایسی برانچ میں کر دیں جہاں کوئی خاتون مینجر ہو میں ان کے ساتھ بنا کے رکھ سکتی ” ۔۔ سر کو میری بات سمجھ آئی یا نہیں۔۔ بہرحال مجھے خاتون مینجر والی برانچ میں بھیج دیا گیا ۔
وہاں آئی تو مجھ سے پہلے دو لڑکیاں تھیں ۔ ایک دراز قد کی سادہ سی لڑکی جس نے سر دوپٹے میں لپیٹ رکھا تھا اور مجھے جلد ہی پتہ چلا گیا کہ برانچ کا سارا کام وہی کرتی ہے ۔ اور ایک بالکل متضاد ، یعنی انتہائی چھوٹے قد کی گل گوتھنی سی گوری چٹی ، جس کے ابو کی وفات ہو چکی تھی ، اور اس وجہ سے وہ سب سے زیادہ سمجھدار اور زمانہ شناس اور میڈم کے آگے بالکل جھکی ہو ئی حالت میں ہو تی ۔جلد ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ اس برانچ میں سب ہی جھکی ہو ئی حالت میں ہیں ۔ اس کی وجہ شائد یہ تھی کہ وہ سب بائیس تئیس سال کی عمر میں تھے ، کالجز سے سیدھے نکل کر ، پنجاب بنک کی مقابلے کی امتحان والی سکیم کے بدلے ، ہنسنے کھیلنے کے دنوں میں بنک میں جا پہنچے تھے ، اور سر منڈاتے ہی ان کے سروں پر اولے یعنی میڈم پڑ چکی تھیں ۔ مجھے پہلے دن ہی اندازہ ہو گیا کہ معاملہ ضرورت سے زیادہ گڑبڑ ہے ۔ اور مجھے مرد مینجر حضرات ، جن کی ہر ا اونگی بونگی بات کے جواب میں مصلحت کوبالا ئے طاق رکھ کے ، سیدھی بلٹ مارنے کی عادت تھی یہاں آکر محسوس ہو نے لگا جیسے باقی آفیسرز کی طرح میری بھی سانس سوکھ ہی گئی ہے ۔
میڈم ایک جوان جہان خوبصورت عورت تھیں اور ان سے بھی زیادہ حسین ان کے شوہر ، جن کو وہ برانچ میں ہی ہر وقت آنکھوں کے سامنے بٹھائے رکھتی تھیں ۔ اس لئے ہم سب کی حرکتوں پر میڈم کے ساتھ ساتھ وہ بھی نظر رکھتے تھے ، یعنی ہم چار آنکھوں کی ذد میں رہتے تھے ، اور جتنی دیر تک وہ آنکھیں برانچ میں موجود رہتیں ہم سب اچھے بچوں کی طرح لیجرز پر سر جھکائے منہ سے ایک لفظ نکالے بغیر کام میں مشغول رہتے ۔ خود میڈم مجال ہے ٹکے کا بھی کام کر جائیں ۔ ان کے حصے کے کام بھی وہ سیدھی سادی ماجدہ ( پرائیویسی کی وجہ سے نام تبدیل کر دئے ہیں ) یا نمبر ۲ زاہد کیا کرتا تھا ۔ زاہد بھی ہماری ہی عمر کا ایک لائق فائق مگر حواس باختہ سا لڑکا تھا ، جو میڈم سے تو ڈانٹیں کھاتا ہی تھا ، میڈم کے جانے کے بعد ہم لوگوں سے بھی خوب بے عزتی کروایا کرتا تھا ۔ مگر سوائے عینک کو آگے پیچھے کرنے کے وہ کوئی خاص مزاحمت نہیں کیا کرتا تھا ۔اس پر ہر وقت اتنا ذہنی دباؤ ہو تا کہ چلتے چلتے ایک ٹھوکر ضرور کھاتا تھا ۔ یہ اس کا معمول تھا ۔
لنچ ٹائم میں میڈم اور ان کے شوہر کو پہلے کھانا پیش کیا جاتا ، پھر ٹی بوائز ہمارے کھانے گرم کرنے کی ہمت کرتا ۔ کھانے کے معاملے میں اتنا صبر ، میرے لیئے تو موت سے کم نہیں ہو تا تھا ۔ اور پھر میڈم کا رویہ میرے ساتھ بہت ہی روکھا پھیکا تھا، مجھے لگا یہاں سے بھی جلد ہی ٹرانسفر ہو جائے گی ۔ لیکن میں نے سوچ رکھا تھا ، یہاں جتنا بھی کربلا مچ جائے خود سے ٹرانسفر کا نہیں کہوں گی ورنہ جی ایم کہیں گے کہ اب تو یہ خاتون مینجر تھی ، اب کیا ہو ا ۔ یعنی میری ساری کشتیاں جل چکی تھیں اور عزتِ نفس کے جنازے کو کندھا دیئے بغیر گذارا نہیں تھا ۔ اوپر سے مجھے کیش کاؤنٹر کے پیچھے بٹھا دیاگیا ، پچھلی برانچ کا مینجر جتنا بھی ٹھرکی تھا ، مگر کام وہ مجھے سب گریڈ ۲ کیا گریڈ ۱ آفیسرز والے دیا کرتاتھا ، پرانے سب مینجرز نے میری قابلیت اور کارکردگی کے آگے گھٹنے توٹیک رکھے تھے ، مگر یہاں الٹا ہی حساب تھا ، یہاں مجھے گریڈ ۲ تو دور کی بات گریڈ ۳ والے کام بھی نہیں دیئے جا رہے تھے ، بلکہ کیش آفیسر والی کرسی پر بٹھادیا گیا ۔ ۔ اس تننزلی پر میرے تن بدن میں آگ لگی ہو ئی تھی اور ساتھ بیٹھا کیش آفیسر ،نان سٹاپ خالص زنانہ انداز میں میرے زخموں پر مر چیں چھڑکتا جا رہا تھا ، گو اس کے انداز میں معصومیت تھی اور اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا ، مگر میرا دکھ بھی اسے سمجھ نہیں سکتا تھا۔ ( اسی نے پین پکڑنے کے طریقے والی ویڈیو بھیجی ) ۔ مجھے کہتا پتہ ہے میڈم آپ کو جلدی یہاں سے ٹرانسفر کروا دیں گی ۔(وہ میڈیم کا خاص راز دان بھی تھا )۔ لیکن آپ ہم سب کو بہت اچھی لگی ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ آپ یہاں سے نہ جائیں تو میں آپ کو اس کا طریقہ بتاتا ہوں ۔ میں نے کہا طریقہ بتانے سے پہلے یہ بتاؤ کہ وہ مجھے اتنا نا پسند کیوں کرتی ہیں ۔ کہتا پتہ نہیں آپ کے آنے سے پہلے ہی ہمیں ہدایت تھی کہ اس لڑکی کو کوئی لفٹ نہ کروائے ۔ اور کسی نے اس کے ساتھ دوستی نہیں کرنی اور ہم سب کو میڈم کی بات ماننے کی عادت پڑ ی ہو ئی ہے ۔ اور آپ کے آنے سے پہلے ہم سب نے بھی یہی سوچا تھا کہ میڈم کی بات ماننی ہے مگر آپ کو مل کے سب کا خیال بدل گیا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ آپ ادھر ہی رہیں تو آپ کو ایک ٹپ بتاتا ہوں ، جو سارے ہی استعمال کرتے ہیں کو ئی کم کوئی زیادہ ۔۔ اور وہ یہ ہے کہ جب بھی میڈم کو دیکھنا ہے تو اندھا دھند تعریف کر نی ہے۔ میں نے کہا لیکن وہ تو مجھ سے بات تک نہیں کرتیں ایسے جیسے میں کوئی اچھوت ہو ں ۔۔ ایک اور آفیسر جوکیش آفیسر تھا ، مگر وہ میڈم کا چہیتا ہو نے کی وجہ سے کیش کا کام نہیں کرتا تھا ۔۔ وہ ہمارے پیچھے کھڑا لیجر پر پو سٹنگ کررہا تھا ، چہرے پر کسی ہائی سکول کے بچے والی معصومیت اور آنکھوں میں جوانی کی شرارت لئے بولا ، ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں ۔۔۔ اس لئے میڈم آپ کو یہاں رہنے نہیں دیں گی ۔۔ میں نے کہا پہلے بھی تو دو لڑکیاں ہیں یہاں ۔۔۔ ہیں تو لیکن وہ میڈم کی ٹکر کی نہیں ۔۔ میں نے کہا اچھا مجھے خوشامد کے اور طریقے بتاؤ میں سب کروں گی کیونکہ میرے پاس اب کوئی آپشن نہیں ، یہ میرے تین مہینے کے اندر تیسری ٹرانسفر ہو گی ۔۔ اور خاتون مینجر کا خود کہہ کر آئی ہوں

SHARE

LEAVE A REPLY