اکتوبر کے دوشزہ میں آپ کی انتہائی سنگین پریشانی کا ذکر نظر سے گزرا،جس کو پڑھ کے دلی دکھ کے ساتھ صدماتی سی کیفیت رہی کہ زندہ دل اور حساس سی فطرت کی مالک منزہ سہام اس انتہا کی مشکل سے دوچار ہیں اور کبھی ہم پہ ظاہر بھی نہ ہونے دیا….اور بلند ہمتی کا یہ عالم کے دس سال سے یہ اذیت سہہ رہیں….دل رنج سے گزرا کہ کہنے کے الفاظ نہیں ہیں میرے پاس…..
دعا ہے کہ آپ کی یہ مشکل آسان ہو….خود کو کبھی اکیلا نہ سمجیے گا.ہم سب آپ کے ساتھ ہیں…کچھ عملی طو ر پہ آپ کے ساتھ ہوں گے تو کچھ کی دعائیں آپ کے ساتھ ہوں گی….اور ان دعاٶں میں میری دعائيں بھی شامل ہوں گی….
میں حیران ہوں اس شخص پہ جس سے اب منزہ سہام صاحبہ کاکوٸی تعلق بھی نہیں ہے ,وہ شخص اب اتنا تکلیف دہ اور اذیت پسند ہے تو اس وقت اسکی ایذا رسانیوں کاکیا عالم ہوگا جب اس سے تعلق تھا…..شاید کچھ مرد پیداٸشی مردہ ضمیر ہوتے ہیں اور جمیل احمد انہی مردہ ضميروں میں سے ایک ہے….ایک نہتی اورمظلوم عورت کیساتھ ایسے ظالمانہ سلوک پہ اے مرد تیری مردانگی پہ تھو ہے….اور میرے خیال میں یہ انسان کہلانے کے قابل ہی نہیں ھے…اس کو اسکی سنگین ایذا رسانیوں کی ایسی سزا ملنی چاہے کہ عہدے اور طاقت کا گھمنڈ خاک میں مل جائے.
دعاگو
حنابشریٰ













