لوگ مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ یہ کیا ہوا عمران خان کے ساتھ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہی کچھ جو ابتک پاکستان کے کسی بھی مقبول حکمراں ساتھ ہوتا آیا ہے؟ کہ پہلے تو اللہ سبحانہ تعالیٰ اور عوام کے ساتھ وعدے کرکے آتے ہیں، پھر وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھنے کے بعد ان کے عمل میں ٹال مٹول شروع ہوجاتی ہے عمر خان کے لیئے بھی چار سال بہت کافی تھےوجہ وہی تھی جو مذموم خصلت ابتک چلی آرہی ہے؟ شاید ہی کوئی بچا ہو جو اس کرسی پر بیٹھنے کے بد بدلا نہ ہو؟ جب کوئی آتا ہے اس پر ہر بیٹھنے والا وعدہ خلافی کو دہراتا ہے جو اللہ سے وعدے کرکے آیا تھااور اپنے دل میں ان سے مکر جانے کا ارادہ یا کوشش کرتا ہے جوکہ اللہ سے کہاں چھپا رہ سکتا ہے؟ اللہ سبحان تعالیٰ کویہ بات سخت ناپسند ہے سورہ الصف کیآیت نمبر ایک اور دو دیکھ جائیے جس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ “ اے ایمان والوں ایسی بات منہ سے نکالتے کیوں ہو جو کہ کرتے نہیں ہو اللہ کو یہ بات سخت ناپسند ہے“ بس پھر تو ایک کن کی دیر ہوتی ہے اور اس کی انتظامیہ حرکت میں آجاتی ہے۔ لیکن جانے والوں کا حشر دیکھنے کے باوجود آنے والا اس انجام سے عبرت نہیں پکڑتا ؟ بات یہاں شروع ہوتی ہے کہ حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی(رح) قائد اعظم کے پاس ان کی بمبئی کی رہا ئشگاہ پر پہنچے اور فرمایا ً آپ نے اخباروں میں دیکھا ہوگا کہ کانگریس نے ایک دستور ساز کمیٹی کا اعلان کردیا ہے، ہم بھی کیوں نہ ایسی ہی کمیٹی تشکیل دیدیں تاکہ جب تک وہ دستورتیار کرلے؟ اور بغیر دستور کے جو حالت قوموں کی ہم نے ہوتے دیکھی ہے اس سے ہمیں دوچار نہ ہونا پڑے؟ قائد اعظم نے بہت تحمل سے سنا اور جواب دیا کہ مولانا ان کے پاس تو کوئی دستور ہوتا نہیں ہے ہمارے پاس تو دستور موجود ہے جوکہ قرآن ہے؟ مولانا خاموش ہوگئے اس لئے کہ یہ سب جانتے تھے سابق انڈیا کے مسلمانوں کا متفق فیصلہ تھا کہ ہم کو اگر اللہ سبحانہ کوئی چھوٹا سا بھی خطہ زمین عطا فر مادے تو ہم اس میں اسلامی طرز حکومت رائج کرکے بطور نمونہ دنیا کے روبرو پیش کریں گے؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے موقعہ عطا فرمادیا کہ کہاں تو وہ پہلے پاکستان دینے کو تیار نہیں تھے حتیٰ کہ انگریزوں نے انتظامی الجھنوں کے باعث عظیم تر بنگال کے صوبے بنا ئے توکسی صوبے کی تشکیل پر ہندوستان کی اکثر یت کو اعتراض نہیں ہوا مگر جب مشرقی بنگال جس میں اکثریت مسلمانوں کی تھی اس کو1911ء ختم کرا کر چھوڑا جس کے نتیجہ میں مسلم لیگ پاکستان بنا؟ وہی اکثر یت خود کہنے لگی کہ ً پاکستان لو اور ہماری جان چھوڑو، جبکہ قا ئد اعظم 1948ء تک کی مہلت مانگنے لگے کہ ہمیں وقت دو؟ انگریزوں کا کہنا یہ تھا کہ ہم جانا چاہتے ہیں وہ وجوہات کیا تھیں ایسا کیوں ہوا؟ ان کو سمجھنے کے لیئے یہ چند صفحات قطعی ناکافی ہیں؟ رہے قائد اعظم ؒانہوں نے جو شروع میں اقدامات کیئے ان میں اس کے باوجود کہ وہ علیل تھے گورنر جرنل خود بنے پاکستان کی پہلی پارلیمان کا نام دستور ساز اسمبلی رکھا اور اس کی صدارت بھی اپنے پاس رکھی تا کہ جلد سے دستور ان کی نگرانی میں بن سکے؟لیکن نہ جانے وہ کونسی طاقتیں تھیں جو اسلامی دستور کی مخالف تھیں؟ جنہیں دنیا کے تمام صحت افزا مقام زیارت جیسی دور دراز پسماندہ جگہ نظر آئی جہاں سوائے ایک پرانے چرخی نما ٹیلفون کے سوا اپنی نئی حکومت کو کنٹرول کا کوئی ذریعہ نہیں تھا؟ وہ دور آج کا پاکستان نہیں تھابلوچستان کا یہ حصہ بے انتہا پسماندہ تھا۔یہ کس کا کھیل تھا یہ جاننامشکل نہیں ہے؟ اگر کوئی مزید سمجھنا چاہے تو قائد اعظم کے اس جملہ سے اخذ کر سکتا ہےکہ ً مجھے نہیں معلوم تھا کہ میرے جیب کے تمام سکے کھوٹے ہیں ً اگر یہ پسند نہ آئے تو قدرت اللہ شہاب کا شہاب نامہ پڑھ لیجیے جو اس وقت بہت با اثر سول سروس کے نمائندے تھے انہوں نے قائد کے آخری دنو ں کا حال اپنی کٹاب شہاب نامہ میںلکھا ہے کہ اسوقت کے وزیر اعظم اور چودھری محمد علی عیادت کے لئے زیارت تشریف لے گئے تو وزیر اعظم ہشاش بشاش تھے البتہ چودھری محمد علی پریشان دکھائی دے رہے تھے۔ اس علالت کا اینڈ یہ ہوا کہ جب ان کے ذاتی معالج کرنل الہیٰ بخش نے کہا کہ بہتر یہ ہے انہیں کراچی منتقل کردیا جا ئے تو ماری پور کے فوجی ہوائی اڈے پر جہاز اتاراگیا جو امبولینس فراہم کی گئی اس کا ٹائر پھٹ گیاڈیرھ گھنٹے تک امبولنس سنسان علاقے میں کھڑی رہی۔ جبکہ ہوائی اڈے پرنہ قا ئد کے استقبال کے لئے وزیر اعظم موجود تھے نہ کوئی وزیر موجود تھا؟ جبکہ کسی بین لاقوامی سازش کا کوئیسوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا تھا۔ کیونکہ روس میں کمونزم آچک تھااجس کا جھکاؤ انڈیا کی طرف تھا اور امریکہ ابھی اپنی آزادی کی جنگ سے فا رغ ہوا ہی تھااور وہ دنیا کے حریت پسندوں کی پشت پناہی کر رہا تھا جن میں پاکستان بھی شامل تھا؟ پھر اس سازش کے پیچھے کون تھا کہاں تیار ہوئی اس کا جواب آپ پر چھوڑتا ہوں؟اور سلامی دستور آجتک کیوں نافذ نہیں ہوسکاوہ بھی؟












