گاہے گاہے باز خواں ایں ,,قسط نمبر 20 ,نصرت نسیم

0
1171

ساتویں کلاس میں آے تو ایک نئ مشکل آن کھڑی پوی. ہم تو حساب کے ہاتھوں نالاں تھے. اب الجبرا بھی جان کو آگیا. خدا بخشے پیاری آپا جی نام کی طرح پیاری اور بہت نفیس اورشفیق خاتون تھیں. چونکہ ان سے گھریلو مراسم بھی تھے. اس لئے میرا خصوصی خیال رکھتیں.اوربہت توجہ اورمحبت سے الجبرا سمجھانے کی کوشش کرتیں. مگر لا کی قیمت سمجھنے کی بجائے الجھ جاتے .بھلا یہ کیا بات ہوی .لا کی قیمت! پتہ نہیں یہ سب سوال ہمادی سمجھ سے بالاتر تھے .حساب تو پھر بھی کچھ نہ کچھ کر لیتے. مگر یہاں آکر ہم پریشان ہوگئے. کہ ایسا کیسے چلے گا آگے بورڈ کا امتحان پاس کرنا ہے. اس زمانے میں آٹھویں کا بورڈ کا امتحان ہوا کرتا تھا. اورنصاب کی کتابیں خاصی ضخیم اور مشکل ہوا کرتی تھیں. ہماری اس مشکل کو دیکھ کر کسی دوست نے مشورہ دیا .فارسی لے لو. کیا ایسا ہو سکتا پے؟ ہاں اگر مریم قریشی لے لیں تو. مریم قریشی جنگل خیل کی تھیں. نیا نیا ایم اے کر کے آئی تھیں اور بہت سخت گیر تھیں )دوماہ گزر چکے تھے لڑکیاں کافی کچھ پڑھ چکی تھیں. تو مشکل نظر آرہا تھا.کہ وہ مجھے فارسی کی کلاس میں بیٹھنےکی اجازت دیں
خیر اللہ کانام لے کر ان کی کلاس میں جا کر درخواست کی. حسب توقع انہوں نے سختی سے ہماری درخواست رد کر دی
اب ہم نے ہار مانے بغیر ایک اودرخواست کردی. کہ چلیں ایک دو دن اپنی کلاس میں بیٹھنےکی اجازت دیں اگر ہماری کارکردگی اچھی نہ ہو تو بے شک داخلہ نہ دیں. اس پر وہ مان گئیں. اور سر کی جنبش سے بیٹھنے کا اشارہ کیا .فارسی بھی کیا شیریں زبان پے. اتفاق سے اس دن اقبال کی نظم پڑھا رہی تھیں. تیز ترک گامزن منزل ما دور نیست “اس نظم کی نغمگی نے ہمیں مسحور کر دیا .سبق کے دوران انہوں نے جو سوال پوچھے. ان کے ایسے جواب دیے کہ پیریڈ کے اختتام پر انہوں نے رضامندی ظاہر کردی. یوں فارسی میں ہمارا داخلہ ہو گیا. اور الجبرا جیومیٹری سے ہماری جان چھوٹ گئی.
تیز ترک گامزن منزل ما دور نیست
بس اب راوی چین ہی چین لکھتا تھا. سکول میں دوسرے تیسرے دن اسمبلی میں اقوال زریں اور چھوٹے چھوٹے مضمون پڑھنے لگے. ہفتہ وار بزم ادب کے پروگرام بیت بازی کے مقابلے وغیرہ وغیرہ
اب آج کل کے مہنگے نجی سکول بھی ہمارے زمانے کے گورنمنٹ سکولز کا مقابلہ نہیں کر سکتے. جہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت اور ہم نصابی سرگرمیوں اورادبی شعور کے زریعے کردار سازی کی جاتی. اساتذہ کرام بھی محنت، سادگی وجاںفشانی کا پیکر تھیں.
یہ تو سکول کا احوال تھا جہاں ایک بڑی الجھن اور پریشانی دور ہوگئ. گھر میں اخبار کے علاوہ کئی ماہ نامے آتے تھے.
حور، زیب النسا، بانو. کنگ گیٹ کے ساتھ صادق نیوز ایجنسی پر یکم ہوتے ہی رسالے آجاتے. گھر میں ہمارے ایک ماموں زاد بھائی بھی تھے. جو بھائی سے زیادہ بہن یا ہماری سہیلی کہہ لیں. شاد”خلوص و وفا کا پیکر جو کام کہتی دوڑ بھاگ کر کرآتا. سو یکم ہوتے ہی پیسے اس کی ہتھیلی پر رکھتی اور وہ بھاگ کر رسالے لے آتا. روپیہ سوا روپیہ ایک رسالے کی قیمت تھی. جو ہم اپنے جیب خرچ سے بچا کر رکھتے. ایوب صابر مرحوم ومغفور میونسپل لائبریری کے انچارج تھے. اور ماموں کے دوست -ضرار کی آنہ لائبریری کی بیشتر کتابیں پڑھ چکے تھے -نسیم حجازی اور اے آر خاتون کے ضخیم ناولوں کے ساتھ رضیہ بٹ اور حمیدہ جبیں کے ہلکے پھلکے رومانی ناول وغیرہ وغیرہ پر جب سے لاہور سے قرۃالعین حیدر کا ” میرے بھی صنم خانے ” خرید کر لائے. اس کے پڑھنے کے بعد اب اس طرح کے رومانی ناول مزا نہیں دیتے تھے. سو اب اکثر شاد کو بھجواکر ایوب صابر کی لائبریری سے کتابیں منگوانے لگی
شفیق الرحمان اللہ سبحان و تعالٰی انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے جنہوں نے ہمارے اداس بچپن میں مسرتوں کے رنگ بھرے ۔خوشیوں کے شگوفے کھلاے ۔علم کی کرنیں بکھیریں یوں کہ دل ودماغ روشن ہوے ۔میں نے گزشتہ اقساط میں یہ بات بارہا لکھی کہ اپنے 5بہن بھائیوں سے دور میرا بچپن تنہائی میں گزرا ۔لیکن اب یہ لکھتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ نہیں میں تنہا کہاں تھی!بہت بچپنے میں کوہ قاف اور پریوں کے دیس کی سیر کرتی ۔آگے چل کر شفیق الرحمان کی کتابیں پڑھتے ہوئے دالان کا وہ کونہ جہاں بستر تہہ کرکے رکھے جاتے ۔وہاں بستروں کے اوپر چڑھ کر بیٹھ جاتی ۔اورحماقتیں اور مزید حماقتیں پڑھتے ہوئے ہنسی میں ڈوب ڈوب جاتی ۔ایک ایسی دنیا میں کھو جاتی ۔جہاں سارے کردار ہنستے کھیلتے نظر آتے ۔کبھی کبھی تو ہنسی کا دورہ سا پڑجاتا ۔ایسے میں دور بیٹھی پھپھو اماں ناراض ہو جاتیں کہ میرے اوپر ہنس رہی ہو ۔
نہیں ہم تو کتاب میں لکھی باتوں کی وجہ سے ہنس رہے ہیں۔مگر انہیں یقین نہ آتا۔اپنی صفائی دے کر دوبارہ اس دنیا میں کھو جاتے جہاں شیطان اور حکومت آپا کی پھلجڑیاں توکبھی ننانوے ناٹ آوٹ کا دل چسپ میچ کھیلا جارہا ہوتا ۔اپنے ماحول سے کٹ کر ہم اس دنیا میں ایسے مگن ومحو ہوتے ،کہ پھپھو اماں کی ناراضگی بھری باتیں بھی نہ سن پاتے ۔یہ دیکھ کر ان کا غصہ اپنے عروج پر پہنچ جاتا اور وہ اپنا مخصوص جملہ جووہ ناراضگی کے موقع پر کہا کرتیں ۔اے کڑی تا کابل نے بادشاہ نے رومال نال نک بھی نئ پوجنی مطلب یہ ہے کہ یہ لڑکی تو کابل کے بادشاہ کے رومال سے ناک بھی نہیں صاف کرتی ۔اب اس کی تشریح تو کوئی ہندکو دان ہی کر سکتا ہے ۔کہ کیا ہے ۔میں اس کو مغرور ہونے کے معنوں میں لیتی ۔

اورہنس کھیل کر ان کی ڈانٹ کو قہقہوں میں اڑا دیتی. تو کبھی اٹھ کر کمرے میں چلی جاتی –
پھر رات گئے جب میں ریڈیو سے کان لگائے پڑھ رہی ہوتی -جب کہ سارا گھر خواب خرگوش کے مزے لے رہا ہوتا.

ایسے میں دالان میں سوئی پھپھو اماں اچانک جاگ اٹھتیں. انہیں کھانسی کا ایسا دورہ پڑ جاتا کہ کھانس کھانس کر بے حال ہو جاتیں.سانس پھول جاتی. گلے سے عجیب سی آوازیں آنے لگتیں. وہ دمے کی مریض تھیں.
ان کی کھانسی کی آواز سنتے ہی میں دالان میں رکھے ہیٹر (اس زمانے میں بجلی سستی تھی تو بجلی کے بڑے بڑے ہیٹروں پر کھانے، چائے وغیرہ بنتی تھی -)پر قہوہ کا پانی رکھ کر فٹا فٹ قہوہ بناکر انہیں پلاتی. جس سے پی کر ان کی طبیعت سنبھل جاتی -سانس بحال ہو جاتی تو خوش ہو کر ڈھیروں ڈھیر دعائیں دینے لگتیں.ان کی دعائیں بھی عجیب سی ہوتیں -خوش بختی کی دعادے کر کہتیں پانچ سیر سونا پہنے .جوانی میں بیوہ ہو کر بھائ کے گھر آگئیں. ساری زندگی خدمت گزاری میں کاٹ دی. کام سے فراغت پاکر مصلے پر جا بیٹھتیں. اور سب کو ایسی عجیب و غریب دعائیں دیتی رہتیں. ان کی زیادہ تر دعائیں قبول ہوتیں. ان کے اس دنیا سے گزر جانے کے بعد کتنی ہی دعائیں تھیں جو رنگ لائیں. اپنی شادی کے بعد زمین خریدنے کے لیے ہاتھ میں پہنی چھ چوڑیاں بھی بیچ ڈالیں تو اپنی خالی کلائیوں کو دیکھ کر 5 سیر سونے کی دعا یاد آئی -ایک آدھ بار اور کسی موقع پر پھر یہی خیال دل میں آیا. اور پھر دل سے ہی آواز آئی. کہ ساری زندگی رب کافضل و کرم شامل حال رہا. فرانٹئر کالج میں سکالر شپ کا ملنا. پھر شادی کے چند برسوں بعد نجی سکول میں پرنسپل شپ کی پیش کش اور مزید کئی کامیابیاں. . بہت مال و دولت نہ سہی مگر ہمیشہ اپنی محنت کی کمائی ہاتھ میں رہی اور اپنی مرضی سے خرچ کرنے کی آزادی! یہ تو کسی خزانے سے بھی بڑھ کر پے. اپنی پہلی سوچ پر نادم ہو کر رب کا شکر اداکیا .اور محبت سے پھپھو اماں کو یاد کیا کہ یہ سب دعاوں کی برکت ہے ورنہ ہم کہاں کے دانا تھے

نصرت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY