قصور,ایک سال کے دوران 12 بچے زیادتی کے بعد قتل

0
108

قصور میں ایک سال کے دوران 12 بچوں کو اغواء کے بعد زیادتی کر کے قتل کیا گیا۔ پولیس نے 3 مشتبہ ملزمان کو مقابلوں میں ہلاک کیا۔

جنوری 2017 میں 8 سال کی ایمان زہرہ کوٹ پیراں سے اغواء ہوئی، زیر تعمیر گھر سے لاش ملی لیکن کوئی ملزم نہ پکڑا گیا۔ فوزیہ جس کی عمر 7 سال تھی جو جنوری 2017 میں علی پارک سے اغواء ہوئی، اس بچی کی لاش بھی زیرتعمیر گھر سے ملی۔ اسی طرح فروری میں نور فاطمہ اے ڈویژن کے علاقے شاہ عنایت کالونی سے اغواء ہوئی، لاش سڑک پر پڑی ملی، مریم فردوس جس کی عمر 6 سال تھی، مارچ میں اغواء ہوئی اور زیادتی کے بعد قتل کیا گیا لیکن کوئی ملزم نہ پکڑا گیا۔

جون میں کھڈیاں خاص کے 11 سال کے بابر کو درندہ صفت شخص نے اغواء کر کے زیادتی کے بعد سانس کی ڈوری کاٹ دی۔ ثناء کی 8 جولائی کو اے ڈویژن کے علاقے سے لاش ملی۔ جولائی کے آخر میں اسماء دودھ خریدنے اپنے گھر سے نکلی لیکن واپس نہ آئی اسکی لاش مل گئی۔ لائبہ کو اگست میں اغواء کر کے زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔ کوٹ پکا قلعہ کی رہائشی 7 سال کی عائشہ کو ستمبر میں زیادتی کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ 7 سال کی زینب 5 جنوری کو اغواء کی گئی اور 9 جنوری کو لاش ملی۔

کوٹ اعظم کی رہائشی 6 سال کی کائنات کے ساتھ بھی درندگی ہوئی، ملزم نے کائنات کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اسے خالی پلاٹ میں پھینک دیا، بچی ایک ماہ بعد بھی اسپتال میں زندگی کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اس سلسلے میں قصور پولیس نے 3 مشتبہ افراد کو پولیس مقابلوں میں ہلاک کیا۔ ملزمان کی شناخت مدثر، ندیم اور امانت کے نام سے ہوئی تھی لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ تینوں ملزمان کا نہ تو ڈی این اے ٹیسٹ اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی میڈیکل ٹیسٹ کرایا گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY