کیا لاہور ریڈیو کی بربادی کا منصوبہ ریڈیو پاکستان کی تباہی کی طرف پہلا قدم ؟قسط اول
کیا یہ سب وزیر اطلاعات اور سیکرٹری اطلاعات کی منظوری سے ہو رہی ہے؟
تحقیقاتی رپورٹ۔ وقائع نگار اور مقامی چشم دید لوگوں کے بیانات پر مبنی
مرتب، حافظ نثار محمد۔لاہور
پاکستان کی نشریاتی تاریخ میں لاہور اور پشاور کے نشریاتی مراکز کو قومی ورثے کا درجہ حاصل ہے کہ قیام پاکستان کا اعلان ان ہی دونوں مراکز سے ہوا تھا،کسی حکومت کو بھی کبھی نہ یہ خیال آیا اور نہ ہی یہ توفیق دی کہ ان دونوں نشریاتی مراکز کو قومی ورثے کا درجہ دے کر محفوظ عمارتوں میں شامل کیا جاتا جیسے مغرب میں لسٹڈ بلڈنگز کا تصور ہے کہ ایسی عمارتوں کو نہ تبدیل کیا جاتا ہے اور نہ ہی انکی ہیئت بدلی جاتی ہے
لیکن پاکستان میں کس شعبے کی حالت درست یا ایسی مثالی ہے کہ اسے پاکستان کا نشان قرار دیا جائے
ایسی ہی ناگفتہ صورت حال اس وقت پورے ریڈیو پاکستان کی ہے جہاں جب سے وزارت اطلاعات نے طاہر حسن نامی محکمہ اطلاعات کے شخص کو ریڈیو پاکستان جیسے قومی ادارے کا سربراہ یعنی ڈی جی مقرر کیا ہے ہر شعبہ دھڑام سے نیچے آ گرا ہے۔ غیر نشریاتی کاموں پر خطیر پیسہ بھی خرچ ہو رہا ہے اور اپنے ارد گرد کے مصاحبین کو خوب نوازا بھی جا رہا ہے
ایسے میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا وزارت اطلاعات اور حکومت ان تمام چیزوں سے بے خبر ہے؟ اور اگر یہ سب کچھ انکی اشیر باد سے ہو رہا ہے تو اس ملک کو پھر کسی دشمن کی کوئی ضرورت نہیں، ایسے ہی لوگ مل کر جلد ہی اس ملک کی کشتی کو خاکم بدہن ڈبو دیں گے
ریڈیو پاکستان کے ساڑھے چار ہزار کے قریب معمر اور مجبور پنشنر کے ساتھ جو ناروا سلوک ہو رہا ہے اگر کوئی مہذب اور قانون پر عمل درآمد کرنے والا ملک ہوتا تو وزارت اور ریڈیو کے افسران کو اسوقت تک معطل کیا جا چکا ہوتا۔ تین ماہ سے پنشنر اس بے انتہا مہنگائی کے دور میں پنشن کو ترس رہے ہیں اور کوئی سوچنے والا نہیں کہ انکے گھروں کے چولہے کیسے جل رہے ہیں ؟ کسی کے بیمار ماں باپ یا بچوں کا علاج کیسے ہو رہا ہے؟ پہلے پنشن نصف ملی پھر نصف اور مکمل ملی اور اب پورا ہفتہ گزر جانے کے باوجود پنشن ملنے کے کوئی آثار نہیں اور ڈی جی طاہر حسن کا استدلال یہ ہے کہ یہ پنشنر انکی ذمیداری نہیں وہ صرف موجودہ ملازمین کے ذمیدار ہیں اور سچ یہ ہے کہ موجود ملازمین کو بھی تنخواہیں وقت پر نہ ملنے کی اطلاعات ہیں۔ ہر گزرتا ہوا دن اس قومی ادارے کی بنیادوں کو کھوکھلا کرتا جا رہا اور کوئی بعید نہیں کہ یہ ساری عمارت دھڑام سے گر جائے
اطلاعات کے مطابق مبینہ طور پر ڈی جی طاہر حسن کے اپنے بزنس کے مفادات ہیں جسکے تانے بانے راولپنڈی ریڈیو کی عمارت اور ریڈیو اکیڈیمی کی عمارت کی فروخت سے جوڑے جا رہے ہیں۔ راولپنڈی ریڈیو کی خرید میں جس سینٹر کا نام سامنے آ رہا ہے وہ ڈی جی طاہر حسن کے بزنس پارٹنر بتائے جاتے ہیں
صدر دفتر میں ایک محدود ٹولہ ہے جو ڈی جی طاہر حسن کے مصاحبین میں شامل ہے اور انکی ہدایات پر عمل کرتا ہے
تحقیقاتی رپورٹ کی اس قسط میں ہم وہ سارے حقائق قارئین کے سامنے نہیں رکھ سکیں گے اور کوشش کریں گے کہ مزید حقائق اگلی قسط میں بیان کریں
راولپنڈی ریڈیو کی عمارت کی فروخت کے حوالے سے حقائق اگلی قسط میں بتائیں گے اسوقت چند بنیادی باتیں لاہور ریڈیو کی بربادی کے منصوبے کے بارے میں کہ جسکی نشریات شملہ پہاڑی سے آ گے نہیں سنی جا سکتی ہیں جسکی وجہ فرسودہ ٹرانسمیٹر ہیں لیکن ڈی جی طاہر حسین کے منصوبوں کا نشریات کو بہتر بنانے سے کوئی تعلق نہیں بلکہ جدت کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنانا ہے، اس ملک میں پوڈکاسٹ سننے کی سہولت کتنے لوگوں کے پاس ہے کہ آپ پوڈکاسٹ کے نام پر عشروں سے جاری نشریاتی نظام کو تباہ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ کیا ایسے اقدامات کرنے سے پہلے وزارت نے کو تکنیکی رپورٹ تیار کروائی جسکی روشنی میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے
لاہور ریڈیو کی تاریخ میں پہلی بار یہ ہوا ہے کہ اظہر علی ایس ڈی کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد سے اب تک کوئی اس مرکز کا سربراہ نہیں مجدد نامی ایک انجینئر کو درآمد کر کے غیر اعلانیہ طور پر لاہور کا ایس ڈی بنا دیا ہے جبکہ صر دفتر اسلام آباد سے جاری ہونے والے احکامات کے تحت لاہور ایف ایم کو اسلام آباد میں رفعت قیوم صاحبہ دیکھیں گی اور لاہور ریڈیو کی نگرانی اسلام آباد الطاف شاہ کریں گے گویا ریمورٹ سسٹم متعارف ہوا ہے اور گاڑی ڈرائیور کے بغیر چلے گی جبکہ دوسری طرف دو کنٹرولر پروگرام جناب جاوید اختر اور مصطفی کمال بظاہر غیر اعلانیہ طور پر افسر بکار خاص ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق جاوید اختر مرکز کے کچھ کام کر رہے ہیں لیکن اسکے کوئی احکامات نہیں ہیں۔ ایسی ہی صورت حال ڈپٹی کنٹرولرز اور پروگرام مینجرز کی ہے۔ نشریات کے نام نشریات کے علاوہ ہر قسم کا تجارتی کام ہو رہا ہے
کاش وزیر اطلاعات، سیکرٹری اطلاعات اور وزیر اعظم کا دفتر اس جانب کوئی توجہ دے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے
لاہور ریڈیو میں عشروں سے مختلف شعبے کام کر رہے ہیں ان میں سے ایک اہم شعبہ سنٹرل پروڈکشن کا بھی ہے جسکی تاریخ کیسی درخشندہ ہے کہ اس مرکز نے موسیقی کے کیسے کیسے نایاب کام کیئے۔ قارئین کو حیرت ہو گی کہ اس شعبے کا تمام قیمتی سامان مبینہ طور پر ایک دو کمروں میں بند کر دیا گیا ہے اور عمارت کو اے پی پی کو کرائے پر دے دیا گیا ہے جنہوں نے اطلاعات ۔ کے مطابق چھ ماہ کا کرایہ ہی ادا نہیں کیا
اس بوالہوسی کا کیا انجام ہو گا کیا کوئی بتا سکتا ہے
مزید دوسری قسط میں













