غلام اپنے مفادات کے یہ سب صفدر

0
105

شکست خوردہ ہیں ایسے کہ رو بھی سکتے نہیں
اُڑی ہے نیند کچھ ایسی کہ سو بھی سکتے نہیں

وطن کو دیں گے وہ کیا ماسوائے بد امنی
جو داغ اپنی ندامت کے دھو بھی سکتے نہیں

تمہارا نعرہ تھا ووٹر کو ووٹ کو عزت
تم اپنے نعرے میں خود کو سمو بھی سکتے نہیں

وہ اتحاد کی دولت کریں گے کیا تقسیم
جو اپنی تسبیح کے دانے پرو بھی سکتے ہیں

غلام اپنے مفادات کے یہ سب صفدر
یہ خیر خواہ وطن کے تو ہو بھی سکتے نہیں

صفدر ھمدانی

SHARE

LEAVE A REPLY