ولادیمیر پوٹن ،حسن روحانی، شام میں امریکی جارحانہ اقدامات جائز نہیں ہیں

0
288

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اپنے ایرانی ہم منصب حسن روحانی سے ٹیلی فون پر گفتگو میں اتفاق کیا ہے کہ شام میں امریکی جارحانہ اقدامات جائز نہیں ہیں اور ایسی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔

کریملن نے اتوار کے دن بتایا ہے کہ ان دونوں رہنماؤں نے شام کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور مستقبل کی حکمت عملی کو زیر بحث لائے۔ دونوں رہنماؤں نے ادلب میں کیمیائی حملے کے بارے میں آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ امریکا کے مطابق یہ حملہ شامی فوج نے کیا تھا تاہم دمشق حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

ادھر اقوام متحدہ کے لیے امریکی سفیر نکی ہیلی نے کہا ہے کہ مشتبہ کیمیائی حملے کے بعد شامی صدر بشار الاسد مزید اقتدار میں نہیں رہ سکتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے باغیوں کے زیرقبضہ علاقے خان شیخون میں کیے گئے اس کیمیائی حملے کے نتیجے میں ستاسی افراد مارے گئے تھے، جن میں متعدد بچے بھی شامل تھے۔

واشنگٹن نے اس کارروائی کے لیے شامی حکومت کو قصوروار قرار دیا ہے جبکہ جوابی کارروائی کے طور پر اس چھ سالہ خانہ جنگی میں پہلی بار براہ راست ایک شامی ایئر بیس پر میزائل بھی داغے ہیں۔ ہیلی کے بقول اسد کی موجودگی میں شام میں قیام امن ممکن نہیں ہے

SHARE

LEAVE A REPLY