برطانیہ میں عوام کو خبردار کیا گیا ہے کہ پانی کم استعمال کریں۔ واشنگ مشین اور ڈش واشرز کو اسی وقت استعمال کریں جب میلے کپڑے اور جھوٹے برتن سارے جمع ہوجائیں، کیونکہ ملک کے آبی ذخائر خشک ہورہے ہیں۔

گزشتہ موسم گرما سے برطانیہ کے بعض حصوں میں بارشوں کا سلسلہ آدھا رہ گیا ہے جس کی وجہ سے وہاں خشک سالی کا خطرہ ہے اور پانی کے غیر ضروری استعمال مثلا پودوں کو پانی دینے، گاڑی دھونے، سوئمنگ پول وغیرہ پر پابندی کا امکان ہے۔

برطانیہ میں 20 سال میں اس مرتبہ اکتوبر سے مارچ تک موسم انتہائی خشک رہا۔ ماحولیاتی ادارے نے آبی کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ آئندہ ماہ بھی غیر معمولی طور پر زیادہ خشک رہنے کا امکان ہے۔ ملک بھر میں اپریل میں اوسط سے 41 فیصد کم بارشیں ہوئی ہیں۔

بڑی کمپنیوں بشمول سدرن، ایفینیٹی اور ٹیمز واٹر نے کہا کہ وہ صورت حال کا بغور جائزہ لی رہی ہیں اور لوگوں کو مشورہ دیا کہ پانی ضائع ہونے سے بچانے کے لیے اقدامات کریں۔

لوگوں سے کہا جارہا ہے کہ گاڑی دھونے کے لیے پائپ کی بجائے بالٹی اور کپڑا استعمال کریں۔ ٹب میں نہانے کی بجائے صرف منٹ شاور لیں۔ ایسے پودے لگائیں جن کو زیادہ پانی دینے کی ضرورت نہیں پڑتی، مثلا الیسیم، جیرانیمز، میری گولڈ اور پیٹونیاس۔

ایفینیٹی واٹر کمپنی بیڈ فورڈ شائر، برک شائر، بکنگھم شائر، اسیکس، ہارٹ فورڈ شائر، سرے، کینٹ اور لندن میں 36 لاکھ افراد کو پانی فراہم کرتی ہے، جس کے ترجمان نے کہا کہ جولائی 2016 سے ہمارے خطے میں توقع سے نصف بارشیں ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں انگلینڈ کے جنوب مشرق میں متعدد دریاؤں کا بہاؤ کم ہوگیا ہے۔

بارشوں میں کمی کے باعث زمین میں بھی پانی کی سطح کم ہوگئی ہے، جس سے ہمارے صارفین کی پانی کی 60 فیصد پوری ہوتی ہے۔ ہم اپنے صارفین سے کہہ رہے ہیں کہ پانی بچائیں تاکہ رسد برقرار رہے اور ان گرمیوں میں پانی کا استعمال محدود کرنے کی پابندیوں کا امکان کم ہوسکے۔

حالیہ ماہ میں بارشوں میں کمی کی وجہ سے انگلینڈ کا جنوب مشرقی علاقہ شدید متاثر ہوا ہے۔ مڈل سیکس میں صرف 6 اعشاریہ2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو ملک کی طویل مدتی اوسط 45 ملی میٹر کا محض 6 فیصد ہے

SHARE

LEAVE A REPLY