مقبوضہ کشمیر کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کے استعفے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔

گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی اور پی ڈی پی کا 3سالہ اتحاد ٹوٹ جانے کے بعد ریاست میں گورنر راج نافذ کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا تھا۔

گورنر راج لگنے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی و حشیانہ کارروائیوں میں اضا فے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔

بی جے پی اور پی ڈی پی کا اتحاد ٹوٹنے کے بعد مقبوضہ کشمیر کے گورنر این این وہرا نے وادی میں گورنر راج نافذ کرنے کی تجویز نئی دہلی بھیجی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ حالات کا تقاضہ ہے کہ اسمبلی معطل کرکے گورنر راج لگایا جائے، ذرائع کے مطابق گورنرکی جانب سے یہ تجویز مودی سرکار کی ایما پر بھیجی گئی تھی۔

محبوبہ مفتی کی حکومت کے خاتمے کے بعد صدر رام ناتھ کووند نے مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج نافذ کرنے کی منظوری دے دی۔موجودہ گورنر مقبوضہ کشمیر این این ووہرا کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے تاہم گورنر راج کے نفاذ کے بعد ان کے عہدے کی مدت میں 3 ماہ کی توسیع ہونے کا امکان ہے۔

اس سے پہلے بھارتی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی سے اتحاد ختم کردیا تھا جس کے بعد مقبوضہ کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی مستعفی ہو گئی تھیں۔

بھارتی حکمراں جماعت نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار محبوبہ مفتی کی حکومت کو قرار دے کرحکومتی اتحاد ختم کرلیا تھا۔

محبوبہ مفتی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ سری نگر دشمن کا علاقہ نہیں، مسئلہ طاقت سے حل نہیں ہو گا، مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کشمیریوں اور پاکستان سے بات ہونی چاہیے۔

ادھر بی جے پی رہنماؤں نے پریس کانفرنس میں پی ڈی پی پر الزام لگایا تھا کہ محبوبہ مفتی حکومت انتخابی وعدے پورے نہیں کرسکی اور مقبوضہ کشمیر میں امن قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

بی جے پی رہنما رام مادھیو کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی، تشدد بڑھنے جبکہ شہریوں کے حقوق اورآزادی اظہار رائے خطرے میں ہیں، جس کی مثال سری نگر شہرمیں سینئر صحافی شجاعت بخاری کا قتل ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY