جن مدارس کو فنڈز دیے گئے وہ اب عمران خان کے ساتھ ہیں

0
461

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 2 نومبر کے جلسے کیلئے کے خیبرپختونخوا (کے پی کے) کی جانب سے نوازے گئے مدارس افرادی قوت فراہم کریں گے۔

خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ کے پی کے حکومت کی جانب سے جن مدارس کو فنڈز فراہم کیے گئے تھے وہ اب ان کی مدد کرنے کیلئے اپنے لوگوں کو پی ٹی آئی کے جلسے میں شریک کریں گے۔

یاد رہے کہ گذشتہ کچھ دنوں سے میڈیا میں یہ خبریں آرہی تھی کہ متعدد مذہبی تنظیمیں عمران خان کے 2 نومبر کے جلسے میں شرکت کریں گی، جس کی نشاندہی خواجہ آصف نے اپنے ٹوئٹ میں کردی ہے

خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے حکومت کو پاناما لیکس کی تحقیقات کے حوالے سے ماہ محرم میں عاشورہ تک کا وقت دیا تھا جس کے بعد انھوں نے 2 نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ خواجہ آصف نے اپنے ٹوئٹ میں ان مدارس کی شناخت نہیں بتائی تاہم یہ یاد رہے کہ 25 جولائی 2016 کو خیبرپختونخوا کی حکومت نے مدارس میں اصلاحات کا آغاز کا اعلان کرتے ہوئے دارالعلوم حقانیہ سے مفاہمتی یادداشت پردستخط کردیئے تھے۔

اس سے قبل 22 جون 2016 کی ایک رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کی حکومت نے مدرسہ حقانیہ کے لیے 30 کروڑ روپے مختص کرنے کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد مذکورہ مدرسے کو مرکزی دھارے میں لانا ہے۔

صوبائی حکومت نے آئندہ مالی سال کے سالانہ بجٹ میں اکوڑہ خٹک میں واقع دارالعلوم حقانیہ کی تعمیر اور بحالی کے لیے یہ فنڈز مختص کیے تھے، فنڈز کی تفصیلات بتاتے ہوئے صوبائی حکام کا کہنا تھاکہ مدرسے نے لاکھوں بچوں کو تعلیم فراہم کرکے صوبے کی بڑی خدمت کی ہے، اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ خدمت جاری رکھے۔

صوبائی حکام کا کہنا تھا دارالعلوم حقانیہ کے زیر انتظام مدارس میں تقریباً 30 لاکھ بچے زیر تعلیم ہیں، جہان انہیں بغیر کسی خرچے کے خوراک اور پناہ فراہم کی جاتی ہے اور ان کا خیال رکھا جاتا ہے۔

اسی روز عمران خان نے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے صوبائی بجٹ میں دینی مدرسہ دارالعلوم حقانیہ کو جاری کیے جانے والے 30 کروڑ روپے کے فنڈز کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے مدرسے کے طلبہ کو معاشرے کا حصہ بنانے، مرکزی دھارے میں لانے اور انھیں بنیاد پرستی سے دور رکھنے میں مدد ملے گی۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے دعویٰ کیا تھا کہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے بھی اپنے دور حکومت میں دارالعلوم حقانیہ کی مدد اور حمایت کی تھی، یہاں تک کہ مرحوم ولی خان نے مدرسے کا دورہ بھی کیا تھا۔

عمران خان نے واضح کیا تھا کہ جب طالبان نے صوبے میں انسداد پولیو مہم کی مخالفت کی اور پولیو ورکرز کو قتل کیا تو اس وقت مولانا سمیع الحق (دارالعلوم حقانیہ کے سربراہ) نے انسداد پولیو مہم کی حمایت کی تھی۔

24 جون کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا تھا کہ جو لوگ دارالعلوم حقانیہ کو جاری کیے جانے والے فنڈز کی مخالفت کر رہے ہیں وہ پاکستانی معاشرے سے ناآشنا ہیں، جبکہ مدرسہ اپنے نظام میں اصلاحات کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب 26 جون کو سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے نجی مدرسے دارالعلوم حقانیہ کے لیے عوامی فنڈز سے 30 کروڑ روپے مختص کیے جانے کے معاملے پر تشویش اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ مدرسہ حقانیہ شدت پسند طالبان سے تعلق کی بنا پر پہچانا جاتا ہے، اس لیے یہ امداد دہشت گردوں کی حمایت اور اس کے خلاف جنگ کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ مدرسہ حقانیہ نجی جہاد کو فروغ دینے کے لیے مشہور ہے، اس لیے یہ امداد عسکریت پسندی اور طالبان کو جواز فراہم کرنے کے سوا کچھ نہیں۔

اس کے جواب میں 30 جون کو جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کو خبردار کیا تھا کہ وہ دارالعلوم حقانیہ کے خلاف نامناسب زبان کا استعمال بند کردیں۔

ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق اکوڑہ خٹک میں اپنی رہائش گاہ پر مختلف وفود سے بات کرتے ہوئے مولانا سمیع الحق نے کہا تھا کہ، ‘اگر انھوں (زرداری) نے مدرسہ حقانیہ کے خلاف آئندہ کوئی بیان دیا تو وہ ان کے راز افشاء کردیں گے جس سے ان کی پارٹی یورپی ممالک کے سربراہوں اور حکومت کی حمایت کھودے گی’۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے ‘اسلام آباد بند کرنے’ کی تاریخ تبدیل کرتے ہوئے اگلے ماہ 2 نومبر کو وفاقی دارالحکومت میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

اس سے قبل عمران خان نے 30 اکتوبر کو اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان کیا تھا، تاہم بعدازاں انھوں نے اپنی تقریر میں اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ ’اسلام آباد کو بند‘ کرنے کی تاریخ میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ 2 نومبر کو ہی الیکشن کمیشن نے عمران خان اور پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کو نااہلی کیس میں سماعت کے لیے طلب کرلیا ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ وہ اُس وقت تک آرام سے نہیں بٹھیں گے جب تک نواز شریف خود کو احستاب کے لیے پیشن نہیں کردیتے۔ یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں آف شور کمپنیوں کے حوالے سے کام کرنے والی پاناما کی مشہور لاء فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقتور اور سیاسی شخصیات کے مالی معاملات عیاں ہوئے تھے۔

ان دستاویزات میں روس کے صدر ولادی میر پوٹن، سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان، آئس لینڈ کے وزیر اعظم، شامی صدر اور پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سمیت درجنوں حکمرانوں کے نام شامل تھے۔

SHARE

LEAVE A REPLY