ڈاکٹر نگہت نسیم تمہیں‌کینسر ہے ! قسط نمبر 40

0
2018

اف میں بھی کیا سے کیا سوچنے بیٹھ جاتی ہوں‌۔۔ شام تک سارے بچے گھر آجائیں گے ۔
میری دوستوں کے مسلسل فون اور میسجز آرہے تھے ۔۔ ہر طرف تسلیوں‌ اور محبتوں کاراج تھا
بہن بھائیوں‌ کا سڈنی آنے کا اصرار بہت خوش کن تھا
نجف سے مدینے تک میرے لئے دعائیں‌ہی دعائیں‌ ہو رہی تھیں‌۔۔
یہ میری خوش نصیبی تھی کہ میری کامیابی ۔۔جو کچھ بھی تھا انتہائی پرکیف اور خوش کن احساس تھا کہ میری زندگی دعاؤں‌ کے سفر میں تھی ۔

مجھ سے اکثر ہی احباب پوچھتے تھے کہ میری خوشی کا راز کیا ہے ؟
میں‌ان سے کبھی کہہ نہ پاتی کہ میرے پاس جو مریض آتے ہیں ۔۔ وہ زندگی سے ناراض, ناخوش ، اکتائے اور تمام رشتوں سے اعتبار اٹھائے ہوئے آتے ہیں ۔۔۔ پھر سوشل میڈیا پر بھی اکثر ایسے ہی لوگ مل جاتے ہیں جو اپنی زندگی سے ہی ناراض‌ہوتے ہیں ۔
میں نے بہت سوچا ۔۔ کہ ہم لوگ خوش کیوں نہیں ہیں ۔۔؟
اور جو خوش ہیں تو ان کی خوشیاں دائمی کیوں نہیں بنتیں ۔۔ ؟
مجھے یوں لگتا ہے جیسے ہم خود اپنی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں ۔
جیسے ۔۔
ہم اپنے اللہ سے سوائے دعا مانگنے کے کوئی تعلق نہیں رکھتے
ہم اپنے ماں باپ سے بے غرض محبت نہیں کرتے
ہم اپنے جیون ساتھی سے ضرورتوں کے تعلق رکھتے ہیں
ہم اپنے بچوں کی پرورش بھی یہی سوچ کر کرتے ہیں کہ کل کو ہمارے ہی کام آئیں گے
ہم اپنے بہن بھائیوں میں ان سے محبت کرتے ہیں جو ہم جیسی سوچ رکھتے ہیں
ہم اپنے وطن سے اپنی ضرورت کے مطابق تعلق رکھتے ہیں
ہم اپنے ہنراوراپنی نوکری سے اتنا ہی تعلق رکھتے ہیں جتنی وہ ہمیں تنخواہ اور آسائیش مہیا کر سکے
ہم اپنے دوستوں اور ارد گرد کے لوگوں سے اتنا ہی تعلق رکھتے ہیں جتنا ہمیں اچھا لگے
ہم اپنے درختوں پھولوں پودوں زمین آسمان سے اتنا تعلق رکھتے ہیں جتنی ہماری ضرورت ہو
ہم جانوروں کو اپنی زندگی میں اتنی ہی جگہ دیتے ہیں جتنی ہماری مجبوری ہو

کیا ہم نے بے غرض ۔۔ بے لوث ہو کر کسی ” ایک ” سے بھی محبت کی ہے ۔۔؟

آخر خوشی کا راز ہے کیا ۔۔؟
مجھے اس کا ایک ہی جواب ملا کہ خوشی کا راز ایک ہی ہے
” ضرورتوں کی ڈور سے کٹی ہوئی آزاد محبت ”
اس دائمی خوشی کا راز مجھے میرے بے زبان جانوروں نے سمجھایا تھا

میں جب ان سے باتیں کرتی ہوں ان کی چمکیلی آنکھوں کی جنبش میرے ہونے کا اعلان کرتی ہیں ۔۔ کھانا کھانے کے لیئے جب میرے ارد گرد رقص کرتے ہیں تو خود کو سب سے امیر سمجھتی ہوں ۔۔ مجھے یاد ہے نونم اور کالے کو میری ہی طرح فلم دیکھنے کا بہت شوق تھا ۔۔ میں جب ان کے ساتھ بیٹھ کر تین گھنٹے کی بلیوں کی بےزبان فلم دیکھتی تھی تو مجھے انہیں کی طرح سمجھ آرہی ہوتی تھی ۔۔۔ میں انہیں کی طرح خوش ہوتی ۔۔ جب وہ میرے آس پاس سوجاتے تو میں خود کو محبت کے اوج کمال پر پاتی ۔۔ جب میں ان کا گند اٹھاتی تو اپنے نفس کو اس بدبو میں پاکیزہ ہوتے دیکھتی ۔۔خوشیوں کو رقص کرتا دیکھتی ۔

ہر شام کو ہوسپٹل سے واپسی پر ان سب کو پکارتی ہوئی کھلے آسمان تلےآتی تو کئی پرندے جمع ہو جاتے ہیں جو آپس میں دن بھر کی گفتگومیں مجھے بھی شامل سمجھتے ۔۔۔۔ شام کی ہلکی سی دھند میں لپٹا آسمان ۔۔ ہواؤں کے مدھر گیتوں پرہولے ہولے جھومتے درخت ۔۔ پھولوں کی سرگوشیاں ۔۔ زمین سے لپٹی مٹی اور ہری گھاس کا مجھ سے دن بھر کی روداد پوچھنا ، پھر سب کا ایک دوسرے کو شب بھر کے لیئے ایک دوسرے کو الوداع کہنا مجھے صاف سنائی دیتا ہے ۔۔ مجھے یہ بولیاں انہیں بے زبانوں نے ہی سکھائی ہیں ۔۔۔۔ مجھے دائمی خوشی کا راز بھی انہوں‌نے بتایا ہے ۔

میں سوچ رہی تھی کہ زندگی تو بہت آسان سا کھیل تھی ۔۔ پیدا ہوئے ۔۔اسکول کالج اور یونیورسٹی گئے ۔۔پھر نوکری ۔۔شادی بچے ۔۔ زندگی بھی تو اپنے چکر مکمل کرنے بعد آرام ہی کرنا چاہتی ہے ۔۔ اسی آرام کانام موت ہے ۔ پھر ہم آرام کیوں نہیں کرنا چاہتے ۔۔شاید اس لیئے کہ ہم انسان تمام عمر اندھیروں سے ڈرتے ہیں اور انجانے سفر پر جانے کا خوف دل میں چھپائے رکھتے ہیں ۔ ۔۔اس لیئے تو ہم لوگ ایسی جگہ مرنا چاہتے ہیں جہاں ان کے اپنے ہوں یا قریب میں کوئی عبادت گاہ ہو ۔۔ کیا یہ خواہش ہمیں دائمی خوشی سے ہمکنار کر سکتی ہے ۔ لوگوں کی ایسی خواہش مجھے ان کے انجانے سفر کے خوف سے نجات لگتی تھیں اور مجھے یہ خواہش اپنوں پر ایک بوجھل سا فریضہ لگتی ۔۔

ہمیں روح کے سفر سے بھی ہمارے اندیشے ہی روکتے ہیں

 

ہم اپنے پیاروں کو جب چاہے پیار سے بلا سکتے تھے ۔۔ان سے باتیں کر سکتے تھے ۔۔ان سے صلاح لے سکتے تھے ۔کاش ہم انسان میڈیٹیشن مراقبے کی اہمیت اور اس کی خوبصورتی کو دنیا سے جانے سے پہلے جان سکیں ۔۔ میڈیٹیشن تو اندھیروں اور انجانے سفر سے خوف سے آزادی کا سفر ہے ۔ ہم صرف اپنی خواہشوں اور واہموں کی وجہ سے دکھی ہوتے ہیں اور ہمارا دماغ صرف اندیشے اور خواہشیں ہی پیدا کرتا ہے ۔ ہمیں روح کے سفر سے بھی ہمارے اندیشے ہی روکتے ہیں ۔۔ مجھے لگتا ہے جیسے ہم روحیں انسانی وجود کا لطف لینے زمین پر اترے تھے ۔۔ پھر خواہشوں کی وادیوں میں بھٹک گئے اور جب شام پڑی تو واپسی کا رستہ بھول گئے تھے اور جب جانا پڑتا ہے تو سفر مشکل ہوا جاتا ہے ۔

میں نے باہر دیکھا تو شام ہو چکی تھی ۔۔ سردیوں کی شامیں بھی تو جلد ہوا کرتی ہیں ۔ ہماری زندگیاں بھی گرمی اور سردیوں کی شاموں جیسی ہیں کبھی جلدی کبھی دیر سے غروب ہوتی ہیں ۔۔ جب سب نے آگے پیچھے غروب ہی ہو جانا ہے تو انجان سفر سے رابطے میں رہنا چاہیئے ۔۔۔میڈیٹیشن چاہے پانچ پانچ منٹ کی کریں روزانہ صبح شام کرنی چاہیئے تاکہ واپسی کا سفر آسان رہے ۔

منیب ، جیسیکا اور ایمیلیا پہنچنے ہی والے تھے ۔۔

جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY