سی آئی اے لیکس:’بھٹو کی پھانسی کیلئے ضیاء پر دباؤ‘

0
208

امریکا کی انٹیلیجنس ایجنسی سی آئی اے کی جانب سے اپنی ویب سائٹ’ریڈنگ روم’کے ڈیٹابیس کے لیے جاری کردہ ایک ڈی کلاسیفائیڈ دستاویز ذیل میں ہے۔ اس سے پہلے ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات صرف کالج پارک میری لینڈ میں واقع نیشنل آرکائیوز میں دستیاب تھیں۔

اکتوبر 1978 میں ’نیشنل انٹیلی جنس ڈیلی کیبل‘ کے نام سے جاری سی آئی اے کی ایک کیبل اس وقت کے پاکستانی صدر جنرل ضیاء الحق پر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ سے متعلق مواد پر مشتمل ہے۔

کیبل کے مواد سے پتہ چلتا ہے کہ کیبل بظاہرامریکی حکومتی عہدیداروں تک معلومات پہنچانے کے حوالے سے لکھی گئی، جس میں پاکستان، شام، عراق، لبنان اور برازیل کے ممالک کے حالات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

دستاویز کہتے ہیں کہ جنرل ضیاء کو بنیادی طور پر آفس میں طویل عرصے تک رہنے کے لیے مسلسل فوج کی حمایت کی ضرورت ہے، کیوں کہ ان کے پاس پاکستان کے سیاسی و معاشی مسائل حل کرنے کی قابلیت نہیں۔

کیبل سے پتہ چلتا ہے کہ جنرل ضیاءکی جانب سے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد وہ فوج میں اپنے حریفوں کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں،انہیں یقین ہوتا ہے کہ مارشل لا سے فوج کا تشخص اور وقار کم ہوا ہے، جس وجہ سے ان کے اور فوج کے اعلیٰ افسران کے درمیان تلخی بڑھی۔

تاہم فوجی افسران نے ان کے خلاف دفتر میں اس وقت تک کوئی اقدام نہیں اٹھایا جب تک ذوالفقار علی بھٹو کی قسمت کا فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔

امریکی عہدیداروں کی جانب سے فروری 1979 میں مرتب کی گئی ایک اور رپورٹ میں جنرل ضیاء کی جانب سے ذوالفقار علی بھٹو کے ٹرائل پر روشنی ڈالنے کے حوالے سے تجزیہ کیا گیا ہے۔

دستاویزات کہتے ہیں کہ ’اگر بھٹو بچ گئے تو فوجی قیادت جنرل ضیاء کے خلاف متحد ہوجائے گی جبکہ ان کے خلاف اقدامات اٹھائے جائیں گے‘۔

مندرجہ بالا دستاویز ان 930,000 خفیہ دستاویزات میں سے ایک ہے جنہیں سی آئی اے نے 17 جنوری 2017 کو عام کیا ہے۔ 1999 سے سی آئی اے تاریخی اور عام دستیاب دستاویزات کو سی آئی اے ریکارڈز سرچ ٹول (کریسٹ) میں جاری کرتی رہی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY