ورنر سندھ محمد زبیر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

محمد زبیر کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت ممنون حسین کو بھیج دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آئینی طریقہ کار کے مطابق اپنا کردار ادا کیا اور اب صدر مملکت قائم مقام گورنر کی نامزدگی کریں گے۔‘

واضح رہے کہ محمد زبیر نے 2 فروری 2017 کو سندھ کے 32ویں گورنر کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا۔

انہیں سابق گورنر جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی کے انتقال کے بعد صدر مملکت ممنون حسین کی جانب سے گورنر سندھ نامزد کیا گیا تھا۔

محمد زبیر حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھتے ہیں اور گورنر نامزد ہونے سے قبل نجکاری کمیشن کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

وہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور حالیہ انتخابات میں دوسری بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والے اسد عمر کے بھائی ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں گورنر سندھ کا عہدہ سنبھالنے تک محمد زبیر نجکاری کمیشن کے چیئرمین تھے۔

نجکاری کمیشن کے چیئرمین بننے سے قبل وہ جولائی 2013 سے دسمبر 2013 تک سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین رہے۔

محمد زبیر 2012 اور 2013 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اقتصادی، ٹیکس اصلاحات اور میڈیا کمیٹیوں کا حصہ رہے۔

1981 سے2007 تک انہوں نے امریکا کی بڑی آئی ٹی کمپنی آئی بی ایم میں کام کیا اور یہاں اپنے 26 سال کیئریر کے دوران پیرس، روم، میلان اور دبئی میں اہم بین الاقوامی ذمہ داریاں ادا کیں۔

اس سے قبل کی خبر

””””””””””””””””””””””’

گورنر سندھ محمد زبیر نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا اور وہ کل اپنےعہدے سے استعفیٰ دیں گے۔

ذرائع کےمطابق گورنر سندھ محمد زبیر نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کا اعلان وہ کل پریس کانفرنس کے ذریعے کریں گے۔

ذرائع کا کہناہےکہ گورنر سندھ نے الیکشن میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بے قاعدگیوں کی وجہ سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کا بتانا ہےکہ عام انتخابات میں (ن) لیگ کے امیدواروں کے ساتھ الیکشن کمیشن کا رویہ اور دوبارہ گنتی کی درخواستیں مسترد ہونا بھی گورنر سندھ کے استعفے کی وجوہات میں شامل ہے۔

واضح رہےکہ عام انتخابات میں اکثریت کے بعد تحریک انصاف وفاق میں حکومت بنانے کی تیاری کررہی ہے اور اس سلسلے میں پی ٹی آئی نے چاروں صوبوں کے گورنرز بھی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY