ذاکرہ اہل بیت سیدہ شاکرہ رضا کی کتاب’’ یادوں کا سفینہ ‘‘ منظرعام پر ’’ ٓ
لندن کی معروف ذاکرہ اہل بیت سیدہ شاکرہ رضا کی کتاب یادوں کا سفینہ
شائع ہو گئی ہے
یوں تو یہ ایک سوانح حیات اور زندگی کے گہرے رنگوں کی یاد داشت ہے جس میں محترمہ
انہوں نے اپنی حیات کے حوالے سے اہم واقعات اور عزائی حوالے سے بہت سے موضوعات کو اجاگر کیا ہے اس کتاب کے ناشر کراچی کے معروف ادارے القائم پبلیکیشنز نے اس طباعت اور تکمیل کے تمام تر کاموں میں بڑھ چڑھ کر حضہ کیا اور اس کو جلد سے لے کر اس کی کتابت چھپائی اور اس کی جلد بندی کے مراحل کو طے کرتے ہوئے اسے منظرعام پر لائے
اس کتاب کو مصنفہ نے اپنے مرحوم والدین اور ہمشیرہ کے نام نامی سے منسوب کیا ہے جو والدین کی دعائیں اور تربیت کا منہ بولتا اور زندہ ثبوت ہے۔۔۔
آغاز شبیر حسین خان جوش ملیح آبادی کے ایک معروف مرثیہ کے بند سے کیاہے
’’اِے دوست دِل میں گرِ د کدورت نہ چاہئیے‘‘
یوں تو تاثرات کی ایک طویل فہرست موجود ہے
جو قارئین کے لئے توجہ کا مرکز رہےگے۔ سید رضاحیدر، ٓآغا علی ناصر عبقاتی،
معروف منصف، اور نقاد صحافی اور مرثیہ نگار صفدر ہمدانی، سید اکمل حسین ترمذی ،
ڈاکٹر زہرا اسد علی، زینب سراج حیسن ، سید سجاد،ثریا تقوی ، حسن شکیل مظہری اور ایک عدد انگیریزی کے مضامین شامل ہیں۔۔۔۔۔جو اس کتاب کو چار چاند لگا کر رہے ہیں۔
ایک اور قابل توجہ بات کہ مصنفہ نے اس کتاب کو تاثرات کے بعد کتاب کے دیباچہ میں ایک خوب صورت تحریر جو ان کی قلم سے اجاگر ہوئی قابل توجہ ہے
آغاز حیات سے لے کر ازدواجی حیات مصنفہ کا گھر اور عزاداری کے حوالے ، اجداد کا تذکرہ ، منبر اور ان کی حیات ، مجالس کا ان کی زباں سے آغاز کب و کہاں سے ہوا جو سفر کرتا ہوا لندن اوردیگر ممالک کے مختلف اسفار اور نہ بھولنے والے اسفار سے ہوتے ہوئے قرب الہی اور پھر روحانی سفر کے بعد امام ہشتم کے برج آفتاب کی کرنوں سے ذاکر امام عالی مقام السید شہدا کی مدد نے شوق مطالعہ اور زبان انگریزی کے شوق کو پوری کرنے کی خواہش اور والدہ مرحومہ کی دعاوں سے ایک بہترین استاد بن کر شاعری کے شوق کو پورا کرتے ہوئے ایک مسلکی نشریاتی ادارے سے منسلک ہونا اس بات کا ثبوت اس تمام تر کتاب میں ملتا ہے جو ایک مخلص دوست اور ذاکرہ امام عالی مقام اور بی بی زینب سلام اللہ علیہا اور امام زمانہ کے زیر سایہ دعا وں سے ایک کامیاب لکھاری میں ملتی ہیں وہ سب موجود ہیں
اس کا اصل نتیجہ اور فیصلہ قاری ہی کرئے گا کہ منصفہ کہاں تک کامیاب ہیں اور اپنا پیام قارئیں تک کس حد تر پہنچا رہی ہیں۔ سوانح اور سفر نامہ کے حوالے سے ایک خوب صورت کتاب ہے ۔۔۔۔۔سرورق سے لے کر کتاب آخر لفظ تک قاری اس کتاب میں مطالعہ کے دورن اپنے آپ کو محسوس کریں گے کہ جیسے منصفہ آپ سے خود گفتگو فرما رہی ہیں۔۔۔
ٓایک بات یاد رہے کہ اس کتاب کی رونمائی لندن میں مورخہ 24 مئی 2025 کو ایک مقامی تقریب میں ادا کی جائے گی اور اس میں خاص کر خواتین شرک فرمائیں گی ۔۔۔۔
اکمل سید لندن













