نوازشریف کے قریبی 25 بیوروکیٹس کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی تجویز

0
35

قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور نے چیئرمین جسٹس (ر) جاید اقبال کو سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی 23 بیوروکریٹس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی تجویز پیش کردی۔

نیب کے ترجمان کے مطابق یہ اقدام ان بیورو کرویٹس کی جانب سے کرپشن کے مختلف مقدمات میں اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان بیورووکریٹس کے ناموں کی حتمی فہرست تیار کرلی گئی ہے جبکہ انہیں ملنے والی ’مراعات‘ کی تفصیلات جمع کی جارہی ہیں۔

جن بیورو کریٹس کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ان میں پرائمری اور سیکنڈری سیکریٹری صحت علی جان خان، قائدِ اعظم سولر پاور پلانٹ کے سی ای او نجم شاہ، پیراگون سٹی کے فنانس ڈائریکٹر فرحان علی اور مینیجر شہزاد وحید، لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) سٹی کے شراکت دار ملک آصف، میاں طاہر جاوید، عبدالرشید احإد، شاہد صادق اور ابراہیم بھٹی شامل ہیں۔

دیگر افراد میں پاور ڈیولپمنٹ کمپنی کے سی ای او سید فرخ شاہ، گجرانوالہ ویسٹ منیجمنٹ کمپنی کے سی ای او وسیم اجمل، خالد مجید، رانا محمد عارف، جمیل احمد، ڈی سی او اوکاڑہ اور سابق چیئرمین فیصل آباد انڈسٹریل کمپنی محمد اسلم قاسم شامل ہیں۔

اس کے علاوہ محمد لطیف، اسلم خان اور علی باجوہ نامی بیوروکریٹس کا نام بھی ای سی ایل میں ڈالنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

نیب ترجمان کا کہنا تھا کہ ننکانہ صاحب میں پانی کی فراہم منصوبے میں 18 کروڑ روپے کی مبینہ کرپشن، منڈی فیض آباد میں پانی کی فراہمی منصوبے میں ایک کروڑ روپے کی مبینہ کرپشن اور شاہ کوٹ میں سیوریج منصوبے میں 5 کروڑ روپے کی مبینہ کرپشن کے الزام میں گرفتار ہونے والے چیف انجینیئر شاہد اظہار کے خلاف محکمہ انسدادِ بدعنوانی اور ایک انٹیلی جنس ایجنسی تحقیقات کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مذکورہ کرپشن کے حوالے سے اطلاعات ہیں کہ یہ کرپشن حمزہ شہباز شریف کی جانب سے کی گئیں اور شاہد اظہار ان کے فرنٹ مین کے طور پر کام کر رہے تھے۔

خیال رہے کہ نیب اس وقت مبینہ کرپش کے الزام میں 56 کمپنیوں کے خلاف تحقیقات کر رہا ہے، اور مذکورہ بیورو کریٹس انہیں کمپنیوں میں اپنے فرائض انجام دے چکے ہیں۔

نیب نے ان خدشات کا بھی اظہار کیا کہ مطلوبہ بیوروکریٹس تحقیقات سے بچنے کے لیے ملک سے فرار ہو سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ ایل ڈی اے کے سابق چیئرمین احمد خان چیمہ آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم میں مبینہ کرپشن کے الزام میں پہلے ہی جیل میں جنہیں ٹرائل کا سامنا ہے، جبکہ نیب ان کے خلاف ایک اور کرپشن کیس کی تحقیقات کے حوالے سے کام کر رہا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ فواد حسن فواد بھی مذکورہ کیس میں نیب کے سامنے پیش ہورہے ہیں۔

نیب میں موجود ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ بیورو سابقہ حکومت کے دور میں اعلیٰ عہدوں پر فائز پولیس افسران سمیت کچھ مزید بیوروکریٹس کو کرپشن کیسز میں تحقیقات کے لیے طلب کر سکتا ہے۔

ماضی میں احد چیمہ کی گرفتار پر بیوروکریٹس نے احتجاج کیا تھا تاہم ان کے خلاف مستقبل قریب میں مزید کیسز سامنے آسکتے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY