اسلام اورحقوق العباد(45)۔شمس جیلانی

0
73

گزشتہ قسط میں ہم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی وصیت پر بات ختم کی تھی۔اس کی وجہ سے وہ سلسلہ منقطع ہوگیا تھاجوکہ چلا آرہا تھا۔ اب پھر وہیں پر آتے ہیں، جبکہ میرا دل تو یہ ہی چاہتا ہے کہ میں ساری ان جیسے بزرگوں کی باتیں بیان کردوں تاکہ ہمیں حساس ہوسکے کہ ہم پہلے کیا تھے اوراب ہم کیا ہیں۔ کیونکہ ہم اب ویسے ہی ہوگئے ہیں جن کے بارے میں قرآن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے گزشتہ قوموں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ تم سے پہلے وہ ایسے تھے ایسے تھے ہم نے انہیں معزول کردیاا ب ہم نے تمہیں امت کی امامت کے لیے چنا ہے کہ“ دیکھیں تم کیا کرتے ہو دیکھو کہیں تم بھی انہیں کی طرح نہ ہوجانا“ یہ ہی بات حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے بھی اپنی وصیت میں دہرائی تھی۔ لیکن ہم نے ان قوموں کی ایک ایک بات اپنالی۔ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے خبر دار بھی کردیا ۔ کہ“ میں اپنی سنت ترک نہیں کیا کرتاً “ اس سسلہ میں اس کی سنت کیا ہے کہ شکرگزاروں کو نعمتیں عطا کرنا اور ناشکروں کروں کو سزا دینا؟
بہر حال عید گزرگئی اور قوم پھر وہیں آگئی جہاں سے وہ مسجدوں میں گئی تھی۔ جبکہ اس مہینے میں اس کا مقصد یہ تھا کہ قوم تقویٰ حاصل کرے؟ نہ صرف حاصل کرے بلکہ اس پر قائم بھی رہے۔ ہم نے قرآن پڑھا جوکہ باعثِ ثواب ہے، ہم نے قرآن سنا اس لیے کہ اس کا سننا بھی باعث ثواب ہے ۔ ہم نے وہ آخری کام بھی کیا جو کہ باعث نجات تھا۔ یعنی اس پر عمل کرنا ۔ لیکن اس کے بعد بہت بڑی اکثریت کے آپ روز مرہ پر نگاہ ڈالیں تو آپ محسوس کریں گے کہ وہ پھر وہیں آگئے کہ جہاں سے مسجدوں میں گئے تھے۔ حاصل کیا ہوا کچھ بھی نہیں ؟ ایسا لگا کہ عید بس ایک رسم کانام ہے۔ جبکہ عید یومِ احتساب اور یومِ تشکر نام ہے۔ یہاں سے اب وہ لامنتاہی سلسلہ شروع ہونا تھا جوکہ جنت میں جاکر اللہ کے دیدار پر ختم ہوتا جیسا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے سورہ ابراہیم کی آیت نمبر 7 میں فرمایا ہے۔ کہ“ تم اگر شکر کروگے تو میں تمہیں زیادہ دونگا اور کفر کرو گے تو میرا عذاب بھی شدید ہے “ اس دن کا تقاضہ تھا۔ شکر کرتے مگر ہم نے بجا ئے شکر کرنے کے کفر کرنا پسند کیا کیوں کہ دین کا علم ہی ہمارے پاس نہیں ہے؟ ہم شکر صرف اس کو سمجھتے ہیں کہ مرجا ئے نے پر شکر کریں کوئی نقصان ہو جا ئے تو اس پر شکر کریں وغیرہ وغیرہ، جبکہ اس کی نعمتوں پہ بھی شکر کرنا ہے جن میں سے بہت سی نہ معلوم ہیں اور ان گنت بھی ؟ اس لیے کہ معلوم نعمتوں پر شکر کرنا ہےاور نعملوم پر بھی شکر کرنا ہے؟ اسی طرح ہم کافر اسے کہتے ہیں جوکہ خدا کا منکر ہے ۔ اسے نہیں جو ماننے کے بعد خدا اور رسول (ص) کے احکمات ماننے سے بھاگتا ہے؟ جبکہ ہماری نگاہ میں ہماری بڑائی یہ ہے کہ ہم مانتے سب ہیں مگر عمل کسی کی کے احکامات اور تعلیمات پر نہیں کرتے؟ جبکہ کفر کے معنی اللہ ،نبی (ص) اور بندو ں تینوں کے حقوق نہ ماننا اور نہ ادا کرنا کفر ہے؟ جبکہ اس کے برعکس اسلام وہ دین ہے جس میں کہ سب کے حقوق قوانیں اور احکامات مطابق کرنا ہیں؟۔ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ہم اس دن نوافل شکرانہ ادا کرتے کہ ہمارا تزکیہ کرکے اور ہماری عبادات دعاؤں کو قبول کرکے اس نے ہم پر احسان کیا ہے اور اب ہم ایسے پاک و صاف ہوگئے ہیں کہ ہم ابھی ہی پیدا ہوئے ہیں؟ اور تجدیدِ عہد کرتے کہ ہم اس کو ہمیشہ بر قرار رکھیں گے اور اس میں کبھی کمی نہیں ہونے دیں گے؟ مگر ہمارے کاندھے اتنے بوجھل ہو گئے تھے کہ ہم نے یہ سب کر نے کے بعد اسے وزن سمجھا اور عید دن ہی اتار پھینکا ؟ اور ہم بھر خالی کے خالی ہاتھ رہ گئے۔ ورنہ عید کے معنی لوٹ آنے کے اور حضور (ص) کی حدیث ہے کہ ایک نماز دوسری نماز تک ایک سال کے دوسرے سال تک کفالت کرتے ہیں اسی طرح دوسری احادیث میں ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک عید دوسری تک کفالت کرتی ہے۔ مگر ان کی جو کہ بعد میں بی اس کو سنبھال کر رکھیں ان کی نہیں جو اسے بوجھ سمجھیں اور فورً اتار کر پھینک دیں؟ مگر وہ دن ہم بجا ئے شکر کے نے ناچ و رنگ میں گزار دیا مسجد کے بجا ئے سیر سمندر کوضروری سمجھا؟جو کچھ ہم نے تیس میں دن میں محنت سے کمایا تھا وہ تین لمحموں میں ضائع کردیا؟ اللہ تعالیٰ ہماری حالت پر رحم فرما ئے آمین۔

SHARE

LEAVE A REPLY