سید وسیم حسین رضوی عرف گڈی بھائی

1
292

 انجمن محمدی قدیم رجسڑڈ کے صاحبِ بیاض
محترم جناب سید وسیم حسین رضوی عرف گڈی بھائی
نوحہ خوانی عزاداری کا اہم رکن ہے ،اردو اور فارسی عربی زبانوں میں یہ شاعری کی وہ معروف صنف ہے

جس میں رنج و الم،اور مصائب کی کیفیات کو دام تحریر میں لایا جاتا ہے ، لیکن اس لفظ کا حقیقی معنوں میں جہا اطلاق و انطباق ہوتا ہے وہ، واقعات کربلااوراور شہدائے کربلا بالخصوص حضرت امام حسین اور ان اہل خانہ پر کربلا میں ہونے والے مظالم اور مصائب کا بیانیہ ہے، جس سے یہ لفظ منسوب ہے

برصغیر میں نوحہ خوانی ،سوز خوانی کی ابتداء بھارت کے شہر لکھنو سے ہوئی

مر ثیہ نوحے ،سوز اور سلام کو میر ببر علی انیس اور سلامت علی دبیر نے بام عروج پر پہنچایا،پاکستان اور بھارت میں سوز خوانی مجالس عزا کا لازمی جزو ہے

نوحہ کے معنی غم کرنا، یا غم کا اظہار کرنا۔ خاص طور پر مرثیوں میں شہداء کی شہادت کو بیان کرتے ہوئے غم کا اظہار کرنا۔ نوحہ خوانی کی روایت مرثیوں میں شہدائے کربلا کے شہیدوں کو یاد کرنا اور ان کی شہادت پر رونا ماتم کرنا شامل ہے۔ آج کل نوحہ خوانی شہدائے کربلا کے اماموں کی شہادت پر غم کا اظہار کرنے تک محدود ہوگئی ہے۔

نوحے اردو ادب کی ایک مستقل صنف ہیں، یہ کسی انفرادی یا اجتماعی سانحہ یا المیہ سے ہونے والی تباہی اور بربادی سمیت اس کے متاثرین سے اظہار ہمدردی و یکجہتی کےلئے دام تحریر میں لائے جاتے ہیں،نوحے نہ صرف لکھے جاتے ہیں،بلکہ محفلوں میں پڑھے بھی جاتے ہیں،لیکن عمومی سطح پر نوحے واقعہ کربلا،خانوادہ امام حسین کے مصائب کے حوالے سے معروف ہیں،دو عشروں قبل تک نوحے مجالس عزا تک محدود تھے

۔لیکن آڈیو اور وڈیو کیسٹ سمیت سیڈیز اور نیٹ کے پاکستان میں متعارف ہونے کے بعد فروغ عزادری میں ابلاغ عامہ کے ان عناصر نے اہم کردار ادا کیا،جس کی وجہ سے اب نوحے نہ صرف مجالس عزا بلکہ محرم کے آغاز کے ساتھ ہی سبیلوں،گھروں سمیت نجی اور پبلک ٹرانسپورٹ سے بھی سنے جاتے ہیں،یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ماہ محرم کے آغاز کے ساتھ ہی نوحوں کی صدائیں،گھروں ،گلیوں ،کوچوں اور سڑکوں پر بھی سنائی دیتی ہیں

پاکستان میں کئی نوحہ خواں عالمی شہرت کے حامل ہیں،جن میں

سید وسیم حسین رضوی عرف گڈی بھائی سرفہرست ہیں

یہ امر قابل زکر ہے کہ ان کے پڑھے ہوئے بیشتر نوحے عوام میں بیحد مقبول ہوئے ہیں

حضرت امام عالی مقام کو خراج عقیدت پیش کرنے کےلئے بھی اردو ادب میں ایک صنف سلام کے نام سے بھی مشہور ہوئی ہے،سلام میں عام طور پر امام حسین ک اور ان رفقاءکی فضیلت ،شجاعت، مذہبی اہمیت ، اور شہادت کے عنوانات پر مشتمل اشعار کا نمونہ ہوتا ہے،فنی اعتبار سے سلام کا ایک شعر عام طور پر دو مصرعوں پر مشتمل ہوتا

اس سلام کے دوران عزاداران حسین کی آہ بکا،ناقابل فرموش ہوتی ہے۔

نوحہ کے لغوی معنی تو بین کرنا، گریہ و بکا، آہ و زاری اور نالہء و فریاد کے ہیں، لیکن ’’نوحہ خوانی‘‘ کی اصطلاح عام طور پر شہدائے کربلا پر برپا ہونے والے مظالم کا منظوم بیان کرنے کے معنوں میں استعمال ہوتی ہے۔اس اصطلاح نوحہ گوئی کا آغاز تو عاشورہ کے روز خود امام حسین علیہ السلام کے کلام سے ہو جاتا ہے جسے آپ کی ہمشیرگان ذی وقار، حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور حضرت ام کلثوم سلام اللہ علیہا نے مزید وسعت دی۔

اردو نوحہ خوانی کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس کا آغاز لکھنؤ میں مختلف ماتمی دستوں اور انجمنوں سے ہوا۔ یہ ماتمی دستے صرف نوحے پڑھتے تھے جو مسلسل نظمیں ہوتی تھیں اور ہر نظم کربلا کے کسی ایک شہید کے بارے میں ہوتی تھی۔ان نوحوں کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی تھی کہ یہ عورت کی زبان سے کہے جاتے تھے اور یہ کوشش رہتی تھی کہ زبان سادہ ہو اور الفاظ پر درد ہو

رفتہ رفتہ نوحہ خوانی میں سینہ زنی کا آغاز ہوا پھر لے اور دھن کا اضافہ ہوا اور نوحوں کے بجائے ماتم پڑھے جانے لگے۔ یہاں تک کہ پرانی طرز کے نوحے اب خال خال ہی سنائی دیتے ہیں۔

قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی عزاداری سید الشہدا کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا جو آج تک نہ صرف جاری و ساری ہے بلکہ اس میں دن بدن اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔قیام پاکستان کے بعد لکھنؤ کی نوحہ خوانی نے کراچی میں قدم جمائے اور پھر پاکستان کے طول وعرض میں پھیل گئی۔کراچی میں ماتمی انجمنیں قائم ہوئیں۔ جنہوں نے شب بیدارریوں کا رواج ڈالا۔ ان شب بیداریوں اور محرم کے جلوسوں نے نوحہ خوانی کے فن کو بڑا فروغ دیا۔کراچی میں جن نوحہ خوانوں نے نوحہ خوانی کو بام عروج تک پہنچایا ان میں استاد صادق حسین چھجن صاحب،سید عالم واسطی چھمن،آفاق حسین رضوی،آغا عزت لکھنوی،ناظم حسین،جعفر حسین کاظمی، مشتاق حسین شبر، سانولے آغا،خوش رخ مرزا،حسین قیصر علی کے علاوہ سید علی محمد رضوی سچے کا نام سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔

نوحہ : نوحہ کے معنی غم کرنا، یا غم کا اظہار کرنا۔ خاص طور پر مرثیوں میں شہداء کی شہادت کو بیان کرتے ہوئے غم کا اظہار کرنا۔ نوحہ خوانی کی روایت مرثیوں میں شہدائے کربلا کے شہیدوں کو یاد کرنا اور ان کی شہادت پر رونا ماتم کرنا شامل ہے۔ آج کل نوحہ خوانی شہدائے کربلا کے اماموں کی شہادت پر غم کا اظہار کرنے تک محدود ہوگئی ہے۔

سید وسیم حسین رضوی صاحبِ بیاض انجمن محمدی قدیم رجسڑڈ 15-11-1963 کو گولی مار گلبہار میں پیدا ہوئے آباؤ اجدا د کانپور بھارت کی ریاست اتر پردیش سے ہجرت کر کے کراچی کو اپنا مسکن بنایا ۔کانپور دریائے گنگا کے کنارے آباد ہے اسکے علاوہ اتر پردیش کا اہم تجارتی مرکز بھی ہے کانپور میں وسیم رضوی عرف گڈی بھائی کے آباؤ اجداد ایک کمپنی تھی کو پن ہیگن اُس میں گھر کے بزرگ ملازمت کرتے تھے ۔مڈل کلاس فیملی سے تعلق رہا ہے ۔پاکستان آنے کے بعد وسیم گڈی بھائی کے دادا جان سید منظور حسین رضوی (مرحوم)نے انجمن محمدی قدیم کی بنیاد رکھی جنکو بابائے انجمن بھی کہا جاتا ہے ۔اُنکی خدمات پیش پیش تھیں اور چند نام وہ یہ ہیں اشتیاق حسین صاحب ،حسن رضا صاحب ،ساجد تقوی صاحب ،بشارت حسین صاحب کا نام سر فہرست ہے ۔عاشق حسین صاحب کے نام انجمن بنانے والوں میں ہیں ۔1957ء میں انجمن کی بنیاد رکھی گئی ۔انجمن کے آغاز پر پہلے پروگرام گھروں پہ جو عزاداری برپا ہوتی تھی ان میں انجمن نے باقائدہ پڑھنا شروع کیا ۔جب انجمن کی قائم ہوگئی تو یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں شب داریوں کا آغاز ہوگیا اور ایک پلیٹ فارم میسر آگیا جہاں ماتمی حلقے ایک جگہہ جمع ہوجاتے ان سے تعارف ہوتا پھر وہ اپنے اپنے علاقوں میں پروگرام دلواتے ۔صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ محمدی قدیم نے عزادری کی بلوچستان کوئیٹہ میں عزاداری کی ،صوبہ پنجاب میں لاہور میں عزاداری کی ہے ۔

وسیم حسین رضوی عرف گڈی بھائی سے جب پوچھا گیا کہ کل کی عزادری اور آج کی عزادری میں کیا فرق ہے ؟

تو اُنہوں نے فرمایا کہ کل کی عزاداری میں خلوص محبت کی چاشنی تھی مگر آج خلوص کی جگہہ فلوس یعنی سرمائے نے لے لی ہے ۔وسیم رضوی گڈی بھائی بتاتے ہیں کہ کل جب ہم نوحہ خوانی کسی کچے گھر میں کرتے تھے تو بیش بہا لوگ آتے اسی کچے گھر میں لوگ اپنی منا جاتیں کرتے اور قبو لیت ہوتی تھی آج ہم آگے چلے آئے ہیں آباؤ اجداد نے جو قدریں ہمیں عزاداری کی بتائیں تھیں وہ ہم بھول چکے ہیں وہ عہد گزشتہ کی دقیق باتیں تھیں قصہ پارینہ ہوگئیں وہ باتیں ۔عزاداری کمرشل ہوگئی ہے ہٹو بچوں کی صدائیں لگتی ہیں عاجزی معدوم ہوگئی سمجھ لیں ختم ہوگئی ہے ۔عزادری کی شہہ رگ پہ ضرب لگی ہے اس کمرشل فکر سے ایک تجارت بن گئی ہے ۔پچھلے وقتوں کی عزاداری قائم رکھنا مشکل ہوگیا ہے ۔ہمارے راستے تنگ اور کشیدہ ہو رہے ہیں ہمیں عزاداری کو بہت خلوص اور عاجزی احترام سے کرنے کی اشد ضرورت ہے مگر ہم پرانی قد روں سے دامن بچا رہے ہیں تفرقوں کی دیواریں کھینچ لی ہیں ہم لوگوں نے ۔عزاداری کے لئے کم اور اپنی زات کے لئے زندہ ہیں وہ رقعت کے مناظر تب ہی آنکھوں سے اوجھل ہیں ۔پہلے انجمن اور نوحہ خواں عزاداری کے لئے کام کرتا تھا آج اپنی زات کی تسکین کے سامان ڈھونڈتا ہے

وسیم گڈی بھائی فرماتے ہیں کل جو عزاداری میں رقعت اور خلوص تھا وہ آج نہیں ہے اسکی وجہہ ہم جو کلام کل پڑھتے تھے تو سامع بندھ جاتا تھا خوب گریہ ماتم ہوتا تھا سامیع وہ نہیں رہے جو کل تھے آج کا سامیع لنگر کا منتظر ہے کہ دیغ کے ڈھکنوں کی کھنکھتی آواز ساماعت میں آئے اور نیاز کھائی جائے ۔وہ شوخ بھی ختم ہوگیا کہ کلام کی فرمائیش کی جائے اور تجسس اوردھیان سے کلام سنا جائے ۔گڈی بھائی نے کہا کہ ہمارے بزرگ آفاق حسین رضوی صاحب نے جب پڑھنا شروع کیا جو میرے استاد بھی ہیں اور چچا ابا بھی ہیں ۔میں آج جو کچھ بھی ہوں آفاق صاحب کی بدولت ہوں ۔ہم نے اور چچا ابا آفاق صاحب نے جن شاعروں کو پڑھنا شروع کیا جن میں باقر کاظمی ،بشارت حسین صاحب ،ساحر فیض آبادی ،مجاہد لکھنوی ،محشر لکھنوی صاحب ان میں سر فہرست نام ساحر فیض آبادی صاحب کا ہے جن کے ہم نے جو بھی کلام پڑھے وہ آج بھی لوگوں کو یاد ہیں ۔اور زبان ضدِ عام ہیں ۔جب اِن کا دور ختم ہوا اور وہ اس جہان فانی سے کوچ کر گئے تو پھر ہم نے دورِ حاضر کے

شاعر گو ہر جارچوی صاحب ،محب فاضلی صاحب ،اور محترم ریحان اعظمی صاحب کے کلام پڑھے ایسا نہیں ہے کہ ریحان اعظمی صاحب کے کلام لوگوں کو یا د نہیں ہیں ۔لوگ ان کے کلام بھی ہم سے آج بھی سنتے ہیں ۔

باقر کاظمی ،احمر شہوار نئے دور کے شاعر ہیں اِنکے کلام بھی ہم پڑھتے ہیں ۔

وسیم گڈی بھائی نے کہا کہ ہم سلامپڑھنے کو زیادہ فوقیت دیتے ہیں ہمارے سلام لوگوں کے زہنوں پہ نقش ہیں ہم کہیں بھی نوحہ خوانی کرنے جائیں تو کم از کم ایک سلام یا دو سلام ضرور پڑھتے ہیں ہمارے سلام لوگوں کو یاد ہیں بعہ نسبت نوحوں کے ۔ہماری انجمن کی پہچان سلام پڑھنا ہے ۔1990ء میں “بعد حسین یہ کس نے کہا میں یتیم ہوں”انجمن گروع حسین انڈیا کی انجمن ہے اس نے یہ نوحہ پڑھا تھا میں نے اُسی ترز اور طریقے سے میں نے بھی پڑھا مجھے اسکی پزیرائی ملی آج 2018 ء شروع ہوگیا ہے مگر اسکی مقبولیت آج بھی قائم ہے جس طرح 1990ء میں تھی ۔آفاق حسین رضوی کے نوحے جو انہوں نے پڑھے وہ آج بھی لوگ ہم سے سنتے ہیں فرمائیش کرتے ہیں ۔جیسا ” زینب نے کہا پیٹ کے سر قبرِ نبی پر “بہن کو کُشتہ خنجر کی یاد آئے گی “بانو کا یہ نوحہ تھا

سید علی محمد رضوی جنکے آباؤ اجداد لکھنوسے ہجرت کرکے کراچی آئے ۔میرے ہمنوا اور لاڈلے بھائی ہیں جن کا خلوص عزاداری کے ساتھ رچا بسا ہے ۔خوبصورت آواز کے مالک ہیں بڑی لگن اور چاہت سے پڑھتے ہیں ۔جب ہم دونوں پڑھتے ہیں تو ایک سماع بن جاتا ہے مولا یہ جوڑی سلامت رکھے ۔

آفاق حسین رضوی جو میرے استاد ہیں نوحہ خوانی کی تاریخ لکھی نہ جا سکے گی جب تک اِن کا نام نہ لکھا جائے گا ۔کانپور جہاں میرے جد عزاداری کیا کرتے تھے وہاں جاؤں اور نوحہ خوانی کروں میری کبھی یہ خواہش نہیں رہی کہ لندن امریکہ جا کر نوحہ خوانی کروں ۔دل میں بس یہی خواہش ہے کہ اپنے بزرگوں کی جگہہ جاؤں وہاں جاکر نوحہ خوانی کروں ۔ایک دفعہ 1992 ء میں انڈیا گیا تھا اسکے بعد سے ابھی تک یہی کوشش میں ہوں کہ انڈیا جا سکوں ۔اور وہاں جا کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکوں ۔وہاں جاکر زکرِ محمدو آلِ محمد برپا کر سکوں ۔

محمدی قدیم کے وہ بزرگ ساتھی جنہوں نے اسکے قیام سے لیکر عروج تک میں اپنا حصہ ڈالا اُنکے اسمائے گرامی یہ ہیں ۔

یہ وہ عظیم محبت کرنے والے احباب جنہوں نے انجمن کے لئے لازوال قربانیاں دیں افسوس وہ آج ہم میں نہیں لیکن اُنکی یادیں ہمارے زہنوں میں بازگشت کرتی ہیں اور کرتی رہیں گی ۔

سید منظور حسین رضوی ،سید شاہد حسین رضوی ،بشارت حسین ، ،اشتیاق حسین ،جناب حسن رضاصاحب ،ساجد حسین ،حیدر حسین ، علی عباس صاحب ، ،سید دلاور حسین ،بابر مرزا

عاشق حسین ،سید علمدار حسین،ارشاد حسین،مظفر حسین عرف (بابوبھائی) سبطِ حسن ،حیدر عباس ،یہ وہ افر اد ہیں جو ہمہ وقت اپنی خدمات انجمن کے لئے دیتے ہیں ۔

انجمن کی موجودہ عہد ید اران

سید آفاق حسین رضوی تا حیات سر پرستِ اعلیٰ اور صاحبِ بیاضِ

سید علمدار حسین رضوی سرپرست

سید ثقلین شاہ سرپرست

سید حیدر بلگرامی سرپرست

سید مسعود حسین رضوی صدر

سید علی محمد رضوی جنرل سیکریڑی

سید ضیاء عباس سینئر نائب صدر

سبطِ حسن نائب صدر اول

حیدر عباس نقوی نائب صدر دوئم

سید سلیم شمشادجوائنٹ سیکریڑی

سید آصف رضانشرواشاعت

سید منظور حیدر (عمران بھائی)ٹرانسپورٹ سیکرٹری

عاصم کاظمی صدر ماتمی دستہ

گوہر زیدی سالار دستہ

ممبران مجلسِ عاملہ

سید آفاق حسین رضوی

سید وسیم حسین رضوی

سید مظفر حسین عرف بابو بھائی

ضیغم عباس

خرم حسین

عرفان حسین

ذیشان حسین

حُنین حسین

کاشف حسین

ذین حسن

استاد محشر لکھنوی سے بھی ہم نے بہت سارے کلام لیے انہوں نے ہمیں بہت کلام لکھ کر دئے ۔ان کا یہ کلام ہم بہت ساری جگہہ پڑھتے ہیں جو لوگ فرمائیش بھی کرتے ہیں “ہو کر بلہ جاناں تو سفر کیسا لگے گا “پھر ہو درِ شبیر پہ سر تو کیسا لگے گا “یہ کلام ہمیں بھی بہت پسند ہے ۔یہ آفاقی کلام ہے استاد محشر لکھنوی کا جو ہمارے حصے میں آیا ۔2018ء میں منقبتوں کی سی ڈی میری آرہی ہے جس میں ریحان اعظمی صاحب سے بھی کلام لوں گا ۔

وسیم گڈی بھائی نے ہم سے کہاں کہ پرانے نوحہ خوانوں میں چھجن بھائی ،ناظم بھائی ،عزت لکھنوی ،آفاق حسین ،یہ وہ نوحہ خواں تھے،علی ضیاء رضوی بھائی،علی بستی والے علی بھائی جنکی بدولت عزاداری کو فروغ ملا اور آج ہمیں ان ہی عظیم نوحہ خوانوں کے نقش قدم پر چلتے رہنا ہے تب ہی ہم فروغ عزاداری میں اپنا حضہ ڈال سکیں گے ۔یہ وہ عظیم نوحہ خواں تھے جنکی بدولت ہمیں ایک راہ ملی یہ نوحہ خوانی کا ایک مدرسہ تھے جن سے لوگ آج بھی استفادہ حاصل کر رہے ہیں انکے کلام آفاقی رقعت پُر سُوز اور تبلیغی تھے جنہے سن کر لوگ اپنے اوپر ایک وجد طاری کرتے تھے ۔

وقت کبھی جامد نہیں ہوتا، ثبات صرف تغیر کو ہے، اور جب ایسا ہے تو کھلے دل سے اچھا پڑھنے والوں کو جگہ دی جانی چاہئیے۔

اہلِ زمیں کی چاند ستاروں پہ ہے نظر

ممکن ہے کامیاب رہے چاند کا سفر

ہیں اپنی اپنی فکر میں ہر قوم کے بشر

مردانِ حق پرست کا جانا ہوا اگر

عباسؑ نامور کا علم لے کے جائیں گے

ہم چاند پر حسینؑ کا غم لے کے جائیں گے

تحریر

آفتاب احمد

کراچی پاکستان

SHARE

1 COMMENT

  1. تفصیلی مضمون جس نے مرثیہ کی تاریخ ہی نہیں رضوی فیملی کی گرانقدر خدمات سے روشناس کیا۔

LEAVE A REPLY